آج بلوچ راجی مچی کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ آج بلوچ قوم اُس تاریخی دن کو یاد کر رہی ہے جب اس ریاست نے بلوچ راجی مچی کو روکنے کے لیے ظلم و جبر کی تمام حدیں پار کر دی تھیں۔ راستے بند کیے گئے، بسوں پر فائرنگ کی گئی، کئی لوگوں کی جانیں گئیں اور کئی لوگ ہمیشہ کے لیے معذور کر دیے گئے۔
وہ لوگ جو اپنے گھروں سے گوادر کی طرف اس عظیم اجتماع میں شرکت کے لیے نکلے تھے، وہ کس بہادری سے ریاستی جبر کا مقابلہ کر رہے تھے، ہم شاید کبھی پوری طرح جان نہ سکیں۔ لیکن اُن کے پیچھے رہ جانے والے خاندان ایک ایسے خوف میں مبتلا تھے جسے صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جو ہر لمحہ اپنے پیاروں کی موت یا زخمی ہونے کی خبر کا انتظار کر رہے تھے۔
کوئٹہ، مستونگ، تلار اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں بلوچوں کے اس عظیم کارواں کو روکنے کے لیے ریاست نے اپنے ڈیتھ اسکواڈز سے لے کر مختلف ریاستی اداروں تک، ہر طاقت کو استعمال کیا۔ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے، اُن کے ذہنوں میں صرف ایک سوال تھا کہ کیا بلوچ راجی مچی کامیاب ہو پائے گی؟
لیکن میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے جو گوادر میں موجود نہیں تھے مگر ہمیں یقین تھا کہ یہ راجی مچی ضرور کامیاب ہوگی، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں اور ریاست اپنی طاقت کا جتنا بھی استعمال کر لے۔
کیونکہ ریاست کے سامنے ماہ رنگ کھڑی تھی۔
وہ ماہ رنگ جو ہار ماننے والوں میں س�� نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ریاست اُسے پیچھے ہٹانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرے گی۔ اُسے معلوم تھا کہ راستے بند کیے جائیں گے، لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا، تشدد کیا جائے گا اور شاید اُن لوگوں کی جانیں بھی لی جائیں گی جو اُس کی آواز پر اپنے گھروں سے نکلے ہیں۔
لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اگر آج وہ پیچھے ہٹ گئی، تو شاید بلوچ قوم کے لیے دوبارہ کبھی ایسا تاریخی اجتماع منعقد کرنا ممکن نہ ہو۔
اس لیے وہ ڈٹی رہی۔۔۔ وہ کھڑی رہی۔۔۔ وہ نہیں جھکی۔۔۔
اور اُس کی قیادت میں بلوچ قوم نے وہ کر دکھایا جسے روکنے کے لیے ریاست نے اپنی پوری طاقت استعمال کی تھی۔
ماہ رنگ بلوچ قوم کے لیے ہر وقت کھڑی رہی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب ہم ظہیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف کوئٹہ میں سراپا احتجاج تھیں، تو ریاست نے اسی احتجاج میں اسٹریٹ فائرنگ، گرفتاریاں، آنسو گیس، شیلنگ، کریک ڈاؤن اور ظلم کی انتہا کر دی۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی سریاب میں اسی احتجاج می�� موجود تھیں۔ جب حکام بات چیت کے لیے آئے، تو ماہ رنگ نے انہیں مقررہ وقت میں گرفتار شدہ مظاہرین کو رہا کرنے کا الٹی میٹم دیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم اس دھرنے کو ریڈ زون میں منتقل کریں گے۔ مگر مدت ختم ہوئی اور ریاستی حکام نے کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
پھر ماہ رنگ اور دوسرے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ اس دھرنے کو کارواں کی شکل میں ریڈ زون میں منتقل کریں۔ اس وقت میں نے ماہ رنگ سے سوال کیا تھا “ریاست جو پہلے سے ظلم و بربریت پر اتر آئی ہے اور بہت سے دوستوں کو گرفتار کیا گیا ہے، آیا یہ فیصلہ درست ہوگا کہ ہم دھرنے کو ریڈ زون میں منتقل کریں؟ کیونکہ ریاست پھر کریک ڈاؤن کرے گی۔” ماہ رنگ نے مسکرا کر یہ جواب دیا کہ “مجھے معلوم ہے کہ ریاست ہم سے خوفزدہ ہے اور مجھے بھی دوستوں اور مظاہرین کی بے حد فکر ہے، مگر اگر ہم اب پیچھے ہٹیں تو یہ ریاست ظلم کی انتہا تک پہنچ جائے گی اور گرفتار شدہ افراد کو جبری طور پر لاپتا کر دیا جائے گا۔”
ماہ رنگ کو ہر وقت اپنے سے زیادہ بلوچ قوم کی ف��ر تھی اور یہی مثال گوادر راجی مچی میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔
بلوچ راجی مچی کامیاب ہوئی۔ اور آج، دو سال بعد، یہ صرف ایک جلسے کا نام نہیں بلکہ بلوچ قوم کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے ظلم، جبر اور طاقت کے زور پر کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔
یہ اُس دن کی یاد ہے جب ایک طرف ریاست کی تمام طاقت تھی اور دوسری طرف ایک مظلوم قوم کی آواز۔ اور اُس دن دنیا نے دیکھا کہ طاقت ہمیشہ فتح یاب نہیں ہوتی، کبھی کبھی ایک ڈٹی ہوئی ��واز بھی تاریخ لکھ دیتی ہے۔
آج دو سال بعد، جب اسی کامیاب جلسے کا چرچا کیا جا رہا ہے، دوسری جانب ریاست نے اسی جلسے کو متنازع بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی سبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی.
#ReleaseBYCLeaders
#ReleaseMahrangBaloch
جیئند بلوچ نے ساختیاتی جبر کو سمجھنے کے لیے سوشیالوجی پڑھی۔ انہیں انکمیونیکاڈو رکھ کر ریاست نے ان کا مقالہ سچ ثابت کر دیا: ریاستی مشینری کا واحد مقصد جمہوری آوازوں کو کچلنا ہے۔ #ReleaseJiandBaloch
Every enforced disappearance leaves a family trapped between hope and despair. Jiand Baloch has been forcibly disappeared for the third time, and his loved ones continue to wait without any information about his fate or whereabouts. This policy has become a means of silencing peaceful voices through fear while subjecting entire families to prolonged psychological suffering.
The disappearance of children as young as 11 and elderly people over the age of 80 shows that this practice does not distinguish between age or vulnerability. It reflects a pattern of collective punishment that affects entire communities and raises serious concerns under international human rights law. The world must no longer ignore these violations. Justice, accountability, and the safe recovery of all forcibly disappeared persons are urgently needed.
#ReleaseJiandBaloch
#EndEnforcedDisappearances
“She tells me, ‘Look, Dr Mahrang is also imprisoned,’” Mahal said. “I tell her that I know. I keep a poster of Mahrang in my room.”
https://t.co/HduXXDQ4OE
“I am a commander.”
Francesca Marino interviews Shaynaz Baloch, identified by the BLA as one of its commanders, on women, resistance and the future of Balochistan.
Read more: https://t.co/fX64KultKe
بلوچی تمہارا علاقائی زبان نہیں ہے، یہ ہمارا بلوچستان کے لوگوں کا قومی زبان ہے۔
Be aware of colonial language. They twist words to erase our identity while making it seem as though they are our well-wishers.
The EU's GSP+ monitoring today's report raises serious concerns about Pakistan's human rights situation, highlighting issues including enforced disappearances, minority rights, media freedom, freedom of expression, and accountability. It is a big blow to Pakistan
Many UN experts, independent human rights organizations, and international observers have said that the conviction of Mahrang Baloch is unfair and inconsistent with Pakistan’s domestic and international legal obligations. But some continue to promote the false narrative that it is legitimate, despite these serious concerns.
#ReleaseMahrangBaloch
We welcome the statement by UN experts condemning the life sentence against Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Ji and calling the judgment a grave injustice and a travesty of justice. International attention in the face of shrinking civic space, eroding democracy, and the criminalization of peaceful human rights work is very important in Pakistan. The world must not ignore the massive human rights abuses, extrajudicial killings, unlawful detention, and the misuse of terror laws against Baloch political and human rights activists.
#Pakistan: UN experts condemn life sentence against Baloch #humanrights defender Dr. Mahrang Baloch as grave injustice. “These convictions risk silencing independent voices in #Balochistan and further shrinking civic space.”
https://t.co/0F2GhgyJDY
Dear @kristinclemet,
Dr. @MahrangBaloch_ belongs to a region where thousands have been abducted & killed by the state, including her own father.
She raised her voice against these crimes.
Now she faces state retaliation.
Raise your voice for #ReleaseMahrangBaloch.
@drtchand 1/