دن جو ہنسنے والے تھے کٹ گئے اداسی میں پل بھر جہاں ٹھہرنا تھا کڑی مسافت کے دن تھے کچھ دوستوں کی بھیڑ تھی خود سے بات کرنی تھی
بہہ گئے روانی میں
بے وجہ سی الجھن نے
بے سبب سی عجلت نے
بے یقین لوگوں نے
کیا دیا محبت میں عمر دراز کی تنہائی
عمر بھر کے پچھتاوے۔