اسلام آباد اور راولپنڈی میں بارش ہوتے ہی متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔ کیا یہی آئیسکو (IESCO) کی کارکردگی اور مون سون کی تیاریاں ہیں؟ عوام کھوکھلے دعوؤں سے تھک چکی ہے، اب زمین پر عملی اقدامات اور بلاتعطل سپلائی چاہتی ہے
@akleghari@MoWP15
#Rawalpindi#Islamabad#IESCO
شہری سوچ رہے ہیں ایک سیوریج لائین عین بجٹ کے قریب، ٹریفک نقل و حمل بالکل معطل، پانی کے کنکشنز، گیس کنکشنز، ڈرین لائنز بلاک۔ یہ ترقیاتی منصوبہ ہے یا سزا؟ نئ سڑکیں درہم برہم کر کے واسا نے اربن ایریا کو چک میں تبدیل کر دیا
@MaryamNSharif@DCRawalpindi
بہ شکریہ واسا گھروں کے نلکوں میں پانی نہ آیا تو ڈھوک کشمیریاں کی گلیوں میں صاف پانی کی نہریں بہہ نکلیں ، گھروں کے بیڈ رومز تک پانی دستیاب کر دیا گیا۔بجٹ سے کچھ دن پہلے اچانک ترقیاتی منصوبے نے نئ بنی سڑکیں صفر کر دیں۔ ویڈیو ملاحظہ ہو کیسے صاف پانی کی لائن کٹنے سے گلیاں سسلی بنیں
ڈھوک کشمیریاں کو راولپنڈی واسا نے صرف 3 ہفتے میں کمال محنت سے ڈھوک کسمپرسیاں بنا کر دکھا دیا۔ہمت ہو تو کچھ بھی ممکن ہے۔ ایک سال پہلے نئ بنائی گئ سڑکیں مکمل برباد، گیس لائنوں میں پانی، ڈرین سسٹم مکمل بلاک، پانی کنکشنز منقطع، یہ سب سہولیات جو بہ آسانی دستیاب تھیں اب مفقود ہیں
یعنی یہ تو راولپنڈی کا حال ہے جسے لوگ شہر اقتدار جیسا ہی سمجھتے ہیں ، چلیں یوں کہیے پنجاب کے ایک پسماندہ علاقے راولپنڈی میں حکومتی آئل کمپنی کے پمپس بارہ بجنے کا انتظار کر رہے ہیں اور پرائیویٹ مافیا کے ساتھ کندھا ملاے ہوے ہیں ۔ مری روڈ اور فاروق اعظم روڈ پمپس کے حالات ملاحظہ ہوں
پیٹرول مہنگا ہونے کے بعد ہی بیچنا ہے، راولپنڈی میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کا پمپ بھی پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ عوام کا خون چوسنے میں مصروف ۔ یہ تصویر سکستھ روڈ پر صدیقی چوک والے پی ایس او پمپ کی ہے ۔سب کی بدمعاشی عوام ہر چلتی ہے
This paradox? 😲
Petrol and diesel prices in India remain unchanged on Thursday, March 5, even as global crude prices have surged amid the escalating tensions in West Asia.
The fuel prices across key Indian cities have not seen any immediate changes.
@MShehzadSpeaks اس میں پہلے ظالم کا ظلم تو دکھایا جاے۔۔۔۔ سوشل میڈیا ایک جن ہے جو جسے جیسے چاہے رام کر لے۔۔۔ اپ سوچ سمجھ کر کچھ لائنز لکھیں اور جادو دیکھیں اچھے اچھےدماغ کیسے ماوف ہوتے ہیں ۔ا۔ اس کے حقائق کسی کو معلوم نہیں لیکن مجرم کیپشن کی وجہ سے مار کھانے والا ہی ٹھہرا
the way team india and their management is behaving, it seems like its the last one.
what a play by team India, but what a nonsense attitude pre and post match.
Remember, Asia Cup is on rotation basis.
#INDvPAK#indvspak2025
پاکستانی ٹیم کے پاس موقع ہے اب انڈیا سے تھوڑا کلوز مارجن سے ہاریں
😂
Team Pakistan has a Great chance to get defeated by close margin this time in final
#PAKvIND#AsiaCup2025
بابر توں آخری ایں۔۔۔ اب کاں چٹا والا اک دکا کوئی بے چارہ ڈھٹائی دکھانے آجاے تو آجاے ورنہ جیڑھی ہوگئ پے ٹھنڈ گئ اے۔۔۔
اور آخر پر بابر کی ایک شرارتی سی تصویر۔۔۔سمجھو بہہ گئے دشمن تتے توے تے
3/3
#INDvsPAK#AsiaCup2025#AsiaCupT20
جن کو کہتے تھے یہ بابر کی خود غرضیاں اب کریں گے یہ عرضیاں۔
ایسی ایسی نفرت پر مبنی پوسٹس اور غبی کمنٹس پڑھے بابر کے سٹرائیک ریٹ اور انٹینٹ کے خلاف کہ الامان الحفیظ ۔
اب ماشاءاللہ آج حتمی ذلت بھی انٹینٹ والے ٹیلنٹڈ کھلاڑیوں اور ان کے حواریوں کو نصیب ہوئی۔
2/3
الحمدللہ ۔ بابر
عرصہ ہوا فرینڈ لسٹ کے ٹیلنٹڈ ، اننٹٹ لوورز اور بابر سے عاجز ڈائی ہارڈ دوست ایسے غائب ہیں جیسے ادھار کے بعد۔
ماشاءاللہ اس ٹیلنٹڈ ٹیم نے بنگلہ دیش سے ہوتے ہوے افغانستان ، یو اے ای اور عمان تک سے ذلت اٹھائی اور ماشاءاللہ ساٹھ ساٹھ فیصد ڈاٹ بالز کھیلیں ۔
1 of 3
چلیے آپ کو پوسٹ ٹرتھ کو چیرتی اور پوسٹ ہیومن کو گلے لگاتی دنیا کی سیر کرائیں ۔ تو پیش خدمت ہے:
"شہر نو"
یہ بات ہے ایک شہر کی جس کی دکانوں پر ان لوگوں کا ہجوم نظر آتا ہے جہاں ماضی بعید میں استعمال ہونے والے بیش قیمت پرانے آئینے دستیاب ہیں جو اصل چہرہ دکھاتے تھے۔ نو عمر اپنے والدین کے ہمراہ حیران ہوے جاتے ہیں کہ یہ کیسے انسان تھے جو آئینوں سے صرف چہرہ دیکھنے اور سنورنے کا کام لیتے تھے ۔
بالکل کبھی ایسا تھا کہ آئینہ صرف چہرہ دکھاتا تھا۔
اب آئینے یادیں محفوظ کرتے ہیں، فیصلے سناتے ہیں، اور جھوٹ کو حسن کی طرح منعکس کرتے ہیں۔
اس شہرِ نو میں انسان باقی نہیں رہے، صرف اُن کے عکس رہ گئے ہیں۔ یہ عکس اپنے نام اور اپنی شناخت خود چنتے ہیں۔ انسان کو مفقود ہوے صدیاں گزر گئ ہیں۔ جب آخری انسان مرا تھا (جس نے ںجاے ایک عکس کے بطور ایک جیتا جاگتا انسان ہو کر دنیا سے جانا چنا تھا) تو اس شہر کی ایک بڑی تجربہ گاہ میں اس کے جذبات کو بھی آخری نشانی اور تاریخ کے مطالعے کے لیے ایک سرور پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
اب یہاں تحقیقی اور تجریدی لیکچرز دیے جاتے ہیں کہ عکس سے پہلے کی دنیا میں جذبات کن کو کہا جاتا تھا؟ وہ کیسے ہوا کرتے تھے۔ ؟
اب دانشور عکس اور ساے ایک بڑی سکرین پر ان جذبات اور کیفیات پر تحقیقی کام کرتے ہیں ۔
آج شہر نو کی ایک جامعہ میں " دور قدیم میں حقیقت اور جذبات" کے موضوع پر ایک کانفرنس جاری ہے۔
"حقیقت؟" ایک مقالہ نگار عکس نے مباحثے کی نشست میں طنز کرتے ہوے کہا۔
"یہ لفظ تو پوسٹ ٹرتھ عہد میں ماضی کی لائبریریوں میں دفن ہو چکا۔ اب تو ہر سچ کا متبادل ورژن ہے، ہر عکس کا اپنا آیئنہ ہے اور ہر جھوٹ کا ایک اچھوتا وائرل جواز جس کو جیسے مرضی آئینے سے نوعیت اور ضرورت کے حساب سے منعکس کر لیا جاے"
ایک بوڑھا درخت، جو اب صرف سرور کے ڈیٹا میں محفوظ ہے، چپ چاپ یہ سب دیکھ اور سن رہا ہے، اس کو معلوم ہے اس کی بات کوئی نہیں سنے گا۔ وہ جانتا ہے کہ واقعی اس سیارے پر کبھی انسان تھا جو خاموشی کو عزیز رکھتا تھا، اسے رونا بھی آتا تھا، کوئی دل خراش واقعہ ہوتا تو حقیقتاٍ اس کا دل پسیج جاتا تھا۔