ایک ہزار بندا مرگیا لیکن کبھی ایسی پریس کانفرنس سننے کو نہیں ملی چہرے پر ہوائیاں اڑی ہیں وضاحتیں یقین دہانیاں تحقیقاتاں
شکریہ آسٹریلین پاسپورٹ کا جس نے معصوم بچی کے ناحق قتل کا پردہ چاک کیا
غلامی سی غلامی ہے
🚨🚨Bushra Bibi’s family agreed not to publicly discuss details of their meetings with her, nor politicise them, on the understanding that they would be granted regular access. However, it has now been four weeks since they were last allowed to see her.
During their last meeting, the family were deeply distressed by her condition and cried for days afterwards. They described significant weight loss and serious eye-health concerns. One of her eyes is stitched closed, while the sight in the other is deteriorating. They also stated that there have been serious delays in receiving medical attention and that prison conditions, as well as the treatment of certain staff members—particularly a woman named MARIAM—have contributed to her mental suffering. A gutter outside her cell is deliberately kept open, making her cell unbearable and infested with insects.
Bushra Bibi has also reportedly said that Imran Khan’s conditions are similarly concerning and that he continues to suffer from ongoing eye and health problems. According to her, he refuses to complain because of the man that he is.
Regardless of political views, all detainees are entitled to proper medical care, humane treatment, and regular access to their families. This is a serious violation of basic human dignity and internationally recognised human rights standards. This situation requires urgent attention, transparency, and accountability.
ان دنوں وہ واحد چیز جس کی میں کمی محسوس کرتا ہوں وہ شمالی پہاڑیوں میں اپنے بیٹوں کے ہمراہ کوہ پیمائی (Hiking) ہے۔
رب العزت نے پاکستان کو دنیا کی بہترین پہاڑی گزرگاہیں (Mountain Trekking) عطا کررکھی ہیں۔ ایک روز ہم پاکستان کو سکینگ (Skiing) کا مرکز بھی بنائیں گے، انشاءاللہ۔
اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بنیادی قانونی حقوق مسلسل سلب کیے جا رہے ہیں۔
القادر ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے درکار وکالت نامہ اور اپیل دستاویزات پر دستخط کروانے میں جیل انتظامیہ تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔
وکیل خالد یوسف چوہدری @KhalidYChaudry نے آج آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ کر واضح کیا ہے کہ متعدد درخواستوں، خطوط اور ذاتی حاضریوں کے باوجود دستاویزات نہ دستخط کے لیے پیش کی جا رہی ہیں اور نہ واپس کی جا رہی ہیں۔
یہ طرز عمل سیاسی انتقام ہے اور عمران خان کی سزاؤں کو حتمی قرار دلوانے کی منظم کوشش ہے۔
#EidMubarakImranKhan
You are the leader of multiple generations of Pakistan! We love you and pray that you are among us soon with full health recovery.
#عیدقرباں_عہدمزاحمت
عمران خان ، شاہ محمود قریشی ، عمر چیمہ ، محمود الرشید ، عالیہ حمزہ ، ڈاکٹر یاسمین راشد ، صنم جاوید ، فلک جاوید کسی کی بھی ملاقات عید کے دن بھی گھر والوں سے نہیں کروائی گئی ۔
عمران ریاض خان
@ImranRiazKhan#عیدقرباں_عہدمزاحمت
اپریل 2022 میں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے پر میری جانب سے بیرونی مداخلت (سائفر) پر پیش تحریکِ عدم اعتماد کو آئین کے منافی قرار دے کر مسترد کرنے اور صدرِ مملکت کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اس کا از خود نوٹس لیا تھا، تحریکِ عدم اعتماد پر پہلے تو سپریم کورٹ نے اپنی حدود سے تجاوز کر کے پارلیمنٹ جو کہ ایک سپریم ادارہ ہے اس میں مداخلت کی اور پاکستان کے خلاف ہونے والی بیرونی و اندرونی سازش کو روکنے کے لیے دی گئی میری رولنگ کو غیر قانونی قرار دیا، اس کے بعد 12 اپریل، 2022 سے آج ( 4 سال سے زائد وقت) تک پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس کے پاس میری بطورِ قائم مقام سپیکر بھیجی ہوئی سائفر کی سربمہر کاپی تحقیقات کے لیے پڑی ہے جو کہ ان کے سیکرٹری نے آفیشلی وصول کر کے سائن بھی کیے لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے سائفر اور بیرونی مداخلت کی بڑی سہولت کاری کرتے ہوئے اس پر آج تک تحقیقات نہیں کیں، پاکستانی کی بربادی میں حصہ ڈالنے پر سپریم کورٹ کے یہ تمام ججز بھی آرٹیکل 6 کے حقدار ہیں۔
#سائفر_ایک_حقیقت
علیمہ خان کا انکشاف 🚨
عمران خان کو ان کے blood test کے رپورٹ نہیں دئے جا رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ پمز ہسپتال کے رپورٹس کو چھپایا جا رہا ہے
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے وہ بھی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں
جو سائفر کی موجودگی سے انکاری تھے، وہ اب مان تو گئے ہیں، لیکن اب یہ پوچھ رہے ہیں کہ اسے لیک کس نے کیا؟ اس کا جواب @DropSiteNews کی رپورٹ میں موجود ہے- #سائفر_ایک_حقیقت
ایک قلم فروش صحافی جسم فروش عورت سے زیادہ بدکردار ہوتا ہے
لونڈا لپاڑا عرف منصور علی خان کل تک سائفر کو جھٹلاتے تھے اور آج کہتے ہیں کہ سائفر کو تو ہم مانتے ہیں مگر سائفر میں جو کچھ درج تھا اسے عمران خان نے درست انداز میں پیش نہیں کیا تھا حالانکہ عمران خان نے جو الفاظ کہے تھے وہ لفظ بہ لفظ درست ثابت ہوئے
منصور علی خان اپنی سابقہ گفتگو سے انحراف مت کیجیے اور اپنی بات کو پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہوئے صحافت سے کنارہ کش ہو جائیے ورنہ پھر ہم یہی کہیں گے کہ منصور علی خان بھی ایک منافق اور لونڈا لپاڑا صحافی ہیں
سید مزمل وہاڑی والے انٹلیکچول کی طرح
اور شہزاد میلے کی طرح