ستھرا پنجاب کے تحت عید پر آلائشیں شہروں گاؤں دیہات سے اٹھانے کے حوالے سے پنجاب حکومت نے اقدامات کا اعلان کیا تھا جس کا عمومی تاثر یہ تھا کہ ایسے اقدامات شہروں کی حد تک زیادہ تر ہوتے ہیں گاؤں دیہات چھوٹے شہروں میں کم ہی نظر آتے ہیں
لیکن اس کے برعکس یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور یہ اقدام پنجاب حکومت کا قابل تعریف بھی ہے جہلم اپنے علاقے کی میں بات کروں تو ستھرا پنجاب کی یہ ٹیمیں گاؤں دیہات میں نا صرف مرکزی جگہوں بلکہ گھر گھر پہنچ کر آلائشیں اٹھا رہے ہیں ٹیمیں متحرک ہیں ان کے آرگنائزز بھی اپنی ٹیموں کے ہمراہ ایکٹیو ہیں
سیاست کا سلطان ✌️
دو دن میں مولانا فضل الرحمان کا گھر نہیں لگتا سیاسی ایمرجنسی وارڈ بن گیا ہےجہاں ہر بڑا مریض خود چل کر آ رہا ہے کل تک جنہیں راستہ بھی یاد نہیں تھا آج بلاول بھٹو زرداری خواجہ آصف اور چینی سفیر لائن میں لگے ہوئے ہیں
سیاسی ورکر کی حیثیت سے اس اعلان پر بہترین تجزیہ:بھائی، یہ اعلان (وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر اسلام آباد اور پنجاب میں 30 دن تک پبلک ٹرانسپورٹ مفت، وزارت داخلہ 35 کروڑ روپے برداشت کرے گی — محسن نقوی کا بیان) ایک کلاسک پاپولسٹ موو ہے جو PML-N کی روایتی سیاست کا آئینہ دار ہے۔ میں اسے تین پہلوؤں سے توڑ کر سمجھاتا ہوں — سیاسی، معاشی اور حکمتِ عملی کے زاویے سے — تاکہ ایک سیاسی ورکر اسے فیلڈ میں استعمال کر سکے۔1. سیاسی حکمتِ عملی: پنجاب کو ہگ کرنا، ملک کو نظر اندازیہ اقدام PML-N کے ووٹ بینک (پنجاب + اسلام آباد) کو مزید مضبوط کرنے کا براہ راست حربہ ہے۔ پنجاب PML-N کا گڑھ ہے، مریم نواز صاحبہ وہاں الیکٹرک بسوں اور گرین ٹرانسپورٹ کا ڈرامہ پہلے سے چلا رہی ہیں۔ اب وفاقی فنڈز (یعنی پورے پاکستان کے ٹیکس پیئرز کا پیسہ) استعمال کر کے صرف اس علاقے کو ریلیف دے دیا گیا۔
دوسرے صوبوں (خصوصاً خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان) میں رہنے والا عام آدمی یہ دیکھ کر سوچے گا: "پنجاب تو پاکستان ہے، باقی سب غلام؟" یہ PML-N کی "پنجاب فرسٹ" پالیسی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
اپوزیشن کے لیے گولڈن موقع: PTI، PPP، JUI-F یا دیگر جماعتیں اسے "صوبائی تفریق" اور "وفاقی وسائل کی لوٹ" کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔ JUI-F جیسے جماعتوں کے ورکرز کو فیلڈ میں یہ بات پھیلانی چاہیے کہ "35 کروڑ اگر پورے ملک میں لگتے تو کتنا بڑا ریلیف ملتا؟"
2. معاشی حقیقت: عارضی پٹی، مستقل زخم35 کروڑ روپے کا بوجھ وفاقی بجٹ (یعنی قومی خزانے) پر پڑے گا۔ موجودہ معاشی بحران (مہنگائی، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، IMF کی شرائط) میں یہ عارضی پاپولزم ہے، نہ کہ کوئی سٹرکچرل حل۔
پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے سے ٹرانسپورٹ کمپنیوں/آپریٹرز کو سبسڈی ملے گی، لیکن اصل مسئلہ (بجلی، آٹا، دال، پٹرول کی مہنگائی) حل نہیں ہوا۔ عوام 30 دن بعد وہی پرانی مہنگائی دیکھے گا۔
مقایسہ: اگر یہ پیسہ پٹرول پر سبسڈی یا پورے ملک میں ٹرانسپورٹ ریفارم پر لگتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ یہ صرف "دکھاوے کا کام" ہے، جیسا کہ کئی ریپلائز میں لوگ کہہ رہے ہیں۔
3. حکمتِ عملیاتی اثرات: PML-N کے لیے فائدہ، اپوزیشن کے لیے چیلنجPML-N کا فائدہ: پنجاب اور اسلام آباد میں فوری عوامی خوشی، خاص طور پر غریب، مزدور اور طلباء طبقے میں۔ الیکٹرک بس پروجیکٹس (جو پہلے سے چل رہے ہیں) کو "ریلیف پیکج" بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر 30 دن اچھے گزرے تو میڈیا اور سوشل میڈیا پر "عوام دوست حکومت" کا بیانیہ چلے گا۔
اپوزیشن کا چیلنج: ہمیں (سیاسی ورکرز) فوری طور پر یہ بات اٹھانی چاہیے:کیوں صرف PML-N کے علاقے؟
35 کروڑ کا اکاؤنٹ کہاں سے آ رہا ہے؟ شفافیت کہاں؟
باقی صوبوں کے لوگوں کو کیا ملے گا؟
طویل مدتی نتیجہ: یہ اقدام PML-N کو 2029 کے الیکشن سے پہلے "ریلیف" کا بیانیہ دینے میں مدد دے گا، لیکن اگر معیشت نہ سنبھلی تو یہ "عارضی جھلک" ثابت ہو گا۔ PTI جیسے مخالف اسے "چور دربار" کہہ کر حملہ کر سکتے ہیں۔
خلاصہ (سیاسی ورکر کے لیے عملی مشورہ):
یہ اعلان PML-N کی مہارتِ سیاست ہے عوام کو فوری ریلیف دے کر ووٹ خریدنا — لیکن یہ ملکی اتحاد کو کمزور کرتا ہے۔ ایک سیاسی ورکر کو اسے "پنجاب والوں کا پاکستان، باقی سب کا نہیں" ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
والدہ محترمہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئیں۔ ان کی نماز جنازہ آج جمعرات کو پاکپتن شریف میں نماز عصر کے وقت، بابا فرید مسعود الدین گنج شکر کے مزار سے ملحقہ مسجد میں ادا کی جائے گی اور قرآن خوانی او پی ایف ہاوسنگ سوسائٹی فیز ون بی بلاک لاہور کی جامعہ مسجد میں بعد از نماز جمعہ کی جائے گی۔
احباب سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔
آج بڑے بیٹے محمد اسامہ رضی کی سالگرہ ہے، آپ ستائیس رمضان المبارک کو دنیا میں تشریف لائے۔ ان کے چھوٹے بھائی محمد مائد رضی، سترہ رمضان المبارک والے دن عطا ہوئے۔ اللہ تبارک و تعالی دونوں بھائیوں کو صراط مستقیم پر چلائے اپنے راستے میں قبول کرے اور ان سے اپنے دین کا کام لے۔
آمین
اور کیسے "فئیر ٹرائل" مکمل کیا جاتا لاوا جی؟
استغاثہ کے گواہوں پر بار بار موقع دینے کے باوجود جرح نہیں کی۔ عدالت میں پیش ہونے کی بجائے بار روم میں چھپی رہی۔ آج جب ویڈیو لنک پر پیش ہوئی تو جج کو گالیاں دینے لگی۔ جب ملزم استغاثہ کے گواہوں پر جرح نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے پاس اپنے دفاع میں کچھ نہیں۔
پھر جج نے سزا ہی سنانی تھی۔
اسلام آباد بار کے وکلا کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کے اصل ذمہ دار آپ کے فیورٹ جج اطہر من اللہ اور محسن اختر کیانی ہیں۔ وکلا کو کمزور کرنے میں ان دونوں ججز کا کردار انتہائی شرمناک اور افسوسناک رہا ہے۔
8 فروری 2021 کے بعد یہ سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے، آپ کی ناک کے نیچے ہوتا رہا اور آپ خاموش تماشائی بنے رہے۔ رات 2 بجے اطہر من اللہ کے کہنے پر خواتین وکلا کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، مگر آپ خاموش رہے۔ ایک خاتون وکیل کو اس کی 4 ماہ کی شیر خوار بچی سے جدا کر کے 27 دن اڈیالہ جیل میں رکھا گیا۔ اس وقت آپ نے اس خاتون وکیل کے حق میں آواز اٹھانے کے بجائے اطہر من اللہ کی وکالت کو ترجیح دی۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں شاید ہی کسی نے اپنی انا کی تسکین کے لیے اپنے عہدے اور کرسی کا ایسا بے دریغ اور بے رحم استعمال کیا ہو جیسا اطہر من اللہ نے کیا۔ اس وقت آپ خاموش تھے۔
اور آج بھی آپ میرے اس ٹویٹ کا جواب نہیں دیں گے۔ آپ خاموش ہی رہیں گے، کیونکہ آپ اس کا جواب دے ہی نہیں سکتے۔
آخر کب تک اصل حقائق پر پردہ ڈالتے رہیں گے؟
کیا اطہر من اللہ نے ایک خاتون وکیل کو 27 دن جیل میں نہیں ڈلوایا ؟
کیا اطہر من اللہ نے رات 2 بجے خواتین وکلا کے گھروں پر چھاپوں کے احکامات نہیں دیے؟
کیا اطہر من اللہ نے اپنے ماتحت ججز کو فون کر کے وکلا کی ضمانتیں خارج نہیں کرائی @saqibbashir156 بھائی، آج سچ بولیں۔ آدھی بات نہ کریں، پوری حقیقت بتائیں۔
بر طرف دونمبری دیکھو ایبٹ آباد میں خواجہ سراؤں کے میڈیکل ٹیسٹ لئے گئے 40 خواجہ سراؤں میں صرف 5 خوجہ سرا نکلے باقی سارے پٹواری تھے
#ملت_کا_پاسبان_مولانا
مولانا فضل الرحمٰن کی 24 گھنٹے میں اسلام آباد پہنچنے کی دھمکی ۔۔۔
جناب خرچہ مانگنے اسلام آباد آ رھے ہیں ۔۔ اپنے دونوں بچے ایم این ایز بھائی سینیٹر اور مدارس کے بچے صرف سڑکوں پر لاکر مار کھانے کو ، مولانا صاحب غریبوں کے بچوں پر رحم کرو ۔۔۔
کیا آپ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال صاحب کے بعد پاکستان کا قومی ہیرو عمران خان کو تسلیم کرتے ہیں ؟
آج اس ٹویٹ پر آنے والے رسپانس سے اندازہ ہو جائے گا ۔۔۔
...
#حقیقی_آزادی_لے_کر_رہیں_گے