تاریخِ عصر کے اوراق جب فہم و فراست جراتِ اظہار اور مدبرانہ قیادت کا باب رقم کریں گے تو قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کا نام وقار بصیرت اور استقامت کی درخشندہ علامت کے طور پر ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔
ابو محمد بادینی
ٹی وی چینلز پر مارننگ شوز اور ڈراموں میں ہونے والے اخلاق باختہ پروگرام قابل مذمت ہیں ۔ترجمان جے یو آئی
میڈیا کو آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی، اخلاقی اور قومی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرنا ہوگا۔اسلم غوری
افسوس اسلامی معاشرے کیخلاف کی جانےوالی سازشوں میں حکومتی وزراء کے چینل سر فہرست ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
غیر اسلامی، غیر شرعی قانون سازی کے بعد یہ اگلا قدم ملک کو سیکولر بنانے کی گہری سازش ہے۔اسلم غوری
پیمرا اور سنسر شپ کے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ترجمان جےیوآئی
قوم پوچھتی ہے کہ حکمرانوں کیخلاف بیانات پر نوٹس لینے والی پیمرا کہاں ہے ۔اسلم غوری
اخلاقیات اور مشرقی اقدار کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے ۔ترجمان جےیوآئی
فیملی کے ساتھ بیٹھ کران پروگراموں کو دیکھنا ممکن نہیں رہا ۔اسلم غوری
ملکی میڈیا پر مشرقی روایات، حیا اور خاندانی اقدار کو دانستہ طور پر پامال کیا جا رہا ہے۔ترجمان جےیوآئی
موجودہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
ایران امریکہ کے درمیان جنگ بندی وقت کی سب سے بڑی اور اھم خبر ہے وزیراعظم شہباز شریف انکے نائب اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس انتہائی نازک موقع پر جو سفارتی کوششیں کیں وہ نہایت قابل مبارکباد اور ملک کے لئے فخرو اعزاز کی بات ھیں آخری دن ایران کا سعودی عرب پر حملہ بلاجواز تھا لیکن سعودی عرب نے اس پورے عرصے میں جس تحمل کا مظاھرہ کیا وہ اسکے ایثار کی دلیل ہے جسکے بغیر جنگ بندی ممکن نہ ھوتی
پرنس محمد بن سلمان بارے ٹرمپ کے توہین آمیز جملے قابل مذمت ہیں
محمد بن سلمان بارے کلمات امت مسلمہ کی توہین ہے،مولانا فضل الرحمان
ٹرمپ کو بنیادی انسانی حقوق اور تہذیب سیکھنے کی ضرورت ہے،مولانا فضل الرحمان
امریکہ کا ایسے فاتر العقل شخص کو صدر مسلط کرنا سوالیہ نشان ہے،مولانا فضل الرحمان
مسلم حکمرانوں کو اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان
اسلامی بلاک اور امریکہ واسرائیل گٹھ جوڑ کے مقابلہ میں ایک آواز بننے کی ضرورت ہے،مولانا فضل الرحمان
@KingSalman@HRHMBNSALMAAN@KSAembassyPK@KSAMOFA@AmbassadorNawaf
#JUI #Pakistan #KSA
عید کے موقع پر چنددن کے لئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی اچھی خبر ہے لیکن دعا یہ ہے کہ اس وقفے کو سنجیدگی اخلاص اور عدل وانصاف کے ساتھ تنازعے کا مستقل اور پائیدار حل نکالنے کے لئے استعمال کیا جائے دونوں طرف اخلاص اور اسلامی اصولوں کا پاس ھو تو یہ مسئلہ ناقابل حل نہیں ہے خداکرے کہ ان بنیادوں پر یہ جنگ بندی مستقل ھوجائے اور سالوں سے بےگناہ مسلمانوں کا جو خون بہا جاتا رہاہے اسکا باھمی اتفاق سے سد باب ھو سکے
ایوب خان کے دورِ حکومت میں چند خواتین اراکینِ اسمبلی مفتی محمود کی سخت مخالف تھیں، ایک مرتبہ جب مفتی صاحب فلور آف دی ہاؤس پر آئے تو ان خواتین نے فوراً پردہ کر لیا، یہ منظر دیکھ کر سرکاری بینچوں پر بیٹھے اراکینِ اسمبلی آوازیں کسنے اور ہنسنے لگے، مفتی صاحب نے برجستہ خطاب کیا: "مسٹر سپیکر اور معزز اراکینِ اسمبلی! آج میں آپ سب فرزندانِ اسلام کو مبارک دیتا ہوں کہ ہماری مسلم خواتین کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ اسلام نے عورت کو غیر محرم مرد سے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔" حکومتی بینچ سے ایک ممبر نے شرارت بھرے لہجے میں کہا: "لیکن یہ بیبیاں تو صرف آپ ہی سے پردہ کرتی ہیں۔" مفتی صاحب نے فوراً پلٹ کر جواب دیا: "شاید پوری اسمبلی میں انہیں میرے سوا کوئی مرد نظر ہی نہیں آتا۔"
”برادر پڑوسی ملک“ اب ایک دوسرے کو کچھ ایسا پکارتے ہیں -
اسلام آباد کہتا ہے ”افغان طالبان رجیم“-
کابل جواب دیتا ہے ”پاکستان ملٹری رجیم“-
دونوں کے درمیان جنگ میں پکڑے گئے فوجیوں کا تبادلہ سعودی عرب کا وفد کراتا ہے۔
افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں۔ پالیسی بنائی جائے کہ افغانیوں کی صلاحیتیں پاکستان کے لیے استعمال ہوں۔ افغان مہاجرین کو مہمان کے طور پر ڈیل کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن
وسعت اللہ خان نے لکھا تھا "مولانا اگر یورپ میں پیدا ہوتے تو کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں سیاست کے طلبہ کو ان کے لیکچر سنائے جاتے".
لیکن مولانا ایک ایسے معاشرے میں سیاست کررہے ہیں جہاں کسی سیاستدان کی سب سے بڑی خوبی اس کے شلواروں میں سوراخوں کی تعداد سے ناپی جاتی ہے.
اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جامعہ مفتاح العلوم مستونگ بلوچستان کی سالانہ تقریب سے آن لائن خطاب
مجلسِ اتحادِ امت کے زیر اہتمام مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندگان اور دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ایک اہم اجتماع 22 دسمبر کو کراچی میں منعقد ہوگا ۔مولانا فضل الرحمان
اجتماع میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ ہمارا ملک کس سمت جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمان
اجتماع میں پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں پر غور کیا جائے گا ۔مولانا فضل الرحمان
اجتماع میں ملک کی ترقی، صوبوں میں عوام کے حقوق، بالخصوص چھوٹے صوبوں کے مسائل پر بات کریں گے۔مولانا فضل الرحمان
افغانستان اور ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے فروغ، موجودہ مشکلات کے حل، دوست ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانے اور شکایات کے ازالے کے لیے تعمیری اقدامات پر غور کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان
ان شاء اللہ، ملک کے اندر بہتری اور بیرونِ ملک پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اجتماعی لائحۂ عمل طے کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان
اجتماع کے فیصلوں سے ملک کے مستقبل پر دیرپا اثرات ظاہر ہونگے ۔مولانا فضل الرحمان
آج پوری دنیا میں دینی علوم کے حوالے سے برصغیر، اور بالخصوص پاکستان، ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔مولانا فضل الرحمان
ہمارے اکابر کی شروع کی ہوئی جدوجہد کی بنیاد پر قرآن، سنت، حدیث اور فقہ کے علوم کی حفاظت ہو رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان
دینی مدارس سے فارغ التحصیل علماء اور اساتذہ مختلف ممالک میں قرآن و حدیث کے ماہرین کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔
مدارس کے طلبہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان
امتحانات میں مسلسل بورڈ ٹاپ کر رہے ہیں۔ ایسا ذہین اور محنتی ٹیلنٹ شاید دنیا میں کم ہی ملے، مولانا فضل الرحمان
افسوس کہ ہمارے ملکی نظام میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں اس کی قدر پیدا فرمائے۔مولانا فضل الرحمان
ہمارے حکمران نہ صرف قرآن و سنت سے ناآشنا ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
بلکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کو بھی پورا نہیں کر رہے۔ مولانا فضل الرحمان
حالیہ دنوں میں کی گئی آئینی ترامیم اور قانون سازی واضح طور پر قرآن، سنت اور حدیث کے منافی ہے۔مولانا فضل الرحمان
انہیں دینی علوم اور قرآنِ کریم کی صحیح سمجھ ہوتی تو وہ ایسی غلطیاں ہرگز نہ کرتے جیسی حالیہ دنوں میں اسمبلی کے اندر کی گئیں۔مولانا فضل الرحمان
یہ زیادتی ہے
اگر خان کو پھٹے پر چڑ۔ھانا ہے تو اسے لانے والوں کو بھی وہی سزا دینا ہو گی۔ 14 سال قید با مشقت تو ایک مذاق ہے۔ جرائم کی فہرست دیکھیں اور سزا دیکھیں۔۔
اسلام کی ٹھیکداری اور چوکیداری میں فرق سمجھنا ھو تو آج پارلیمنٹ کے فلور پر جمعیت علماءاسلام اور اسکے قائد مولانا فضل الرحمن صاحب کاکردار دیکھ لیجئے پھر کوئ سوال پوچھنے کی نوبت نہیں آئیگی۔
#محافظ_ختم_نبوت_مولانا
*قادیانیوں کی چالاکیوں کا وزیر قانون کو شاید پتا نہیں قائدجمعیت*
> یہ ایسی چیزوں سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اور سائیڈ بھی ہوتے ہیں، ہمیں اس قسم کے مسائل میں پڑنا ہی نہیں چاہیے، گزارش ہے یہاں یہ نیا پٹارا نہ کھولا جائے۔
> بل پر بحث کے دوران جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے قوانین لانے سے محتاط رہنا چاہیے تاکہ کسی غیر قانونی فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے اور ایوان کو بتایا جائے کہ بل کیوں پیش کیا جا رہا ہے۔
> جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل کے کچھ سیکشنز پر اعتراضات کیے، خاص طور پر سیکشن 35 اور سیکشن 12 کی کلاز ایچ پر، اور کہا کہ ان پر عمل درآمد عدالتوں کے موجودہ اختیارات کو متاثر کر سکتا ہے۔
> پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے حکومتی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بہت ساری چیزوں پر قیامت کے روز ہماری پکڑ ہونی ہے، میں مولانا فضل الرحمان صاحب کی بات کی حمایت کرتا ہوں۔
> آقا نام دار ﷺ کی حرمت پر بات آئے گی تو میں مخالفت کروں گا، وزیرِ قانون سے درخواست کروں گا مہربانی کریں۔
*نتائج میں 160 ووٹ بل کے حق میں اور 79 مخالفت میں آئے*
> بل کی شق وار منظوری کے دوران جے یو آئی کی سیکشن 35 پر اور کمیشن کو سوموٹو کا دیا گیا اختیار واپس لینے کی تجویز مان لی گئی۔
#محافظ_ختم_نبوت_مولانا
جیو نیوز ایک معتبر صحافتی ادارہ ہے، درجنوں نیوز ادارے اس کو دیکھ کر چلتے ہیں، کل قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کے بیان کے حوالے سے جیو نیوز نے جس طرح کی رپورٹنگ کی ہے وہ صریح طور پر بددیانتی کے زمرے میں آتی ہے،
مولانا کے بیان کے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور اس کو ایک ایسے زاویے سے پیش کیا گیا جو مولانا کے بیان کے بالکل مختلف تھا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ مولانا کا ویڈیو بیان موجود ہے اور اس میں مکمل بات وضاحت کے ساتھ موجود ہے،
اگر جیو نیوز نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا ہے تو کم از کم اس صحافی کو شوکاز نوٹس ضرور جاری کرنا چاہئے جس نے مولانا کے بیان کے ٹکر بنا کر ڈیسک کو ارسال کیے تھے، اس نے مولانا کے بیان کو اپنے ذہن میں موجود نظریے کے مطابق بدل کر خبر بنائی ہے۔
مولانا نے پشتو میں فرمایا کہ انہیں عمران خان کی حکومت سے بنیادی اور اصولی اختلاف یہ تھا کہ وہ مغربی ایجنڈے پر کام کررہی تھی اور وہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی طرح موجودہ حکومت مغربی ایجنڈے پر زیادہ عمل در آمد کررہی ہے اور انہیں اس بات پر سخت تحفظات ہیں۔
مولانا کا یہ بیان دیکھیں اور پھر جیو نیوز کی اس سرخی کو دیکھیں کہ ایک عمومی بیان کو کس طرح غفلت یا بددیانتی سے تبدیل کرکے جے یو آئی کیخلاف کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
(شیخ نوید)