یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں
وہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیں
وہ ہم ہیں جو تیری آواز سن کے تیرے ہوئے
وہ اور ہیں کہ جو دیدار کرنا چاہتے ہیں
یہاں تک آ تو گئے آپ کی محبت میں
اب اور کتنا گناہ گار کرنا چاہتے ہیں؟
سوال بدستور وہی ہے کہ جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت گزشتہ 79 سال سے موجود ہے جس میں جمہوریت کسی نہ کسی صورت موجود ہے، ایک سیاسی پارٹی کے اندر جمہوریت ملکی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوگی practically
جن لوگوں نے کبھی اپنی پارٹی میں ووٹ کو عزت نہیں دی وہ ملک میں ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے ہوئے ایک مذاق لگتے ہیں۔۔۔ ملک میں جمہوریت تب آئے گی جب سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر جمہوریت آئے گی اسی لیے عوام راج تحریک ایک جمہوری سیاسی جماعت کے قیام کی کوشش کر رہی ہے۔
@UrduVirsa وہ جدا بھی کیسے ہوا کہ میں کوئی رسم بھی نہ نبھا سکا
نہ میں پاس اس کو بلا سکا نہ میں دل کی بات سنا سکا
وہ ہنسی ہنسی میں ہی چل دیا کہ میں ہاتھ تک نہ ہلا سکا
سر جی ایک سوال نیک نیتی پر مبنی پوچھنا چاہتا ہوں۔۔۔ سوال یہ ہے کہ آپ کی تحریک یقیناً نیک نیتی پر مبنی ہے مگر ایک سیاسی محبوس ماحول میں کس طرح یہ تحریک اپنے مقاصد حاصل کرے گی جہاں ووٹ سے لے کر پارلیمان کی کرسی تک، وزارت سے لے کر ہر اس چیز تک جہاں تک آپ سوچیں سب بک رہا ہے
یاد آتا ہے کہ اچھی خاصی عمران خان صاحب کی حکومت چل رہی تھی، پھر انہیں چوہدری پرویز الہٰی صاحب نے اپنی سائیکل پر بٹھایا اور اڈیالہ چھوڑ آئے، اب چوہدری صاحب بھی اپنی سائیکل گھر پر کھڑی کرکے استراحت فرما رہے ہیں
سوال یہ ہے کہ مراد سعید کیوں منظر عام سے غائب ہیں؟ "بظاہر" کوئی مقدمہ بھی نہیں، شاید بلکہ یقیناً کوئی کرپشن یا فوجداری کیس بھی نہیں ان کے خلاف۔۔۔۔ پھر بھی........؛
سوال یہ ہے کہ پاکستان میں جماعت اسلامی ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جس میں بڑی حد تک جمہوریت یا الیکشن کا واضح اور مضبوط نظام موجود ہے لیکن کیا وہ آج تک پاکستان میں ایوان کے اقتداروں تک آ سکی؟ کیا انہوں نے کوئی سیاسی کارنامہ دکھایا؟ تو عوامی راج تحریک کیسے تبدیلی لائے گی؟
جانوروں کی طرح اپنے اپنے سیاسی نظریات کے پنجروں میں قید ذہنی غلاموں سے صرف ایک سوال:
ملک میں جمہوریت کا راگ الاپنے والا آپ کا لیڈر اپنی پارٹی میں جمہوریت کیوں نہیں لاتا؟؟
عوام راج تحریک کا موقف ہے کہ سیاسی جماعت کے اپنے اندر جمہوریت لائے بغیر ملک میں جمہوریت نہیں آ سکتی۔
اقرار الحسن بیچارے کے پاس کہنے کے لئے اپنی کوئی عقل والی بات یا بیانیہ تو ہے نہیں، نہ اپنی پارٹی والے مذاق کو یہ خود سنجیدگی سے لیتے ہیں
ہر وقت عمران خان کے خلاف فضول گوئی کرتے کرتے اب اس مقام تک آ چکے ہیں کہ عمران خان کی شہادت کی خواہش کا اظہار ہو رہا ہے۔
اس گھٹیا انسان کو کوئی بتاۓ کہ سیکیورٹی کا عملہ سخت سیکیورٹی کیلئے عمران خان کے سر کو پوری طرح سے ڈھانپ کر لاتے تھے۔ اس بندے کا واقعی نہ کوئی caliber ہے، نہ اس میں عقل نام کی کوئی چیز ہے۔
مجھے حیرت اور افسوس ہے کہ ہم اقرار کے "سر عام" والے stunts کو اچھی کاوش سمجھ کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ وہ سب بھی ڈرامہ ہی تھا۔
سیاسی مخبوط الحواس لوگ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ دراصل اس جنگ کی بنیاد افغانستان کی بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر بدامنی کی کوشش ہے افغانستان کے اندر غیر ملکی حکومت ختم ہونے کے بعد بھی یہ سیاسی جہلاء آج تک افغان مہاجرین کارڈ استعمال کر رہے ہیں جبکہ وہ کارڈ ایکسپائر ہوچکا ہے
“عاصم منیر افغانستان کی موجودہ حکومت کی مخالف لابی کو خوش کرنے کی کوشش میں کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے دور میں خطے میں قائم ہونے والے امن کو تباہ کر رہا ہے۔ جہاں ہمارے بہترین تعلقات ہونے چاہییں وہاں جان بوجھ کر حالات خراب کیے جا رہے ہیں۔”
- عمران خان
#FreeImranKhan
پاک افغان دوستی سے جنگ کا سفر 🚨👇
جب وزیراعظم عمران احمد خان نیازی کی صورت میں قوم پر ایک مخلص، خودار، نڈر، غیرت مند انسان حکومت کر رہا تھا تو تب ہمیں افغانستان کے دارالحکومت کابل سے یہ تاریخی مناظر دیکھنے کو ملے تھے۔ خان نے دن رات کی محنت سے امریکیوں اور افغانیوں کو ایک ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا کر افغانوں پر مسلّط 20 سالہ امریکہ جنگ کا خاتمہ کروایا دیا۔ پھر اُس وقت کے غیرتِ مند وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید باقاعدہ افغان طالبان کی دعوت پر کابل پہنچے۔ افغان طالبان نے پرتپاک استقبال کیا۔ ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ یہ سب خان کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ممکن پایا تھا۔ خطے میں امن آگیا۔ امریکی افغانستان سے بیس سالوں کے بعد انخلاء کر گئے۔ افغانستان میں امن وامان قائم ہوگیا۔ نہ کوئی افغانستان میں خودکش حملے ہوئے نہ کوئی پاکستان میں ایسی صورتحال پیدا ہوئی۔ امن کا سفیر عمران خان دنیا میں سرخرو ہوگیا۔ پھر جب خان روس گیا، امریکہ کی غلامی کرنے سے صاف انکار کر دیا تو پھر امریکہ سے سائفر کے ذریعے پنڈی پیغام پہنچا۔ ہمارے باپ کی حکومت کا تختہ الٹ دو۔ یہ تو بہت خطرناک ہوگیا ہے، الٹا ہمیں لتر مار رہا ہے۔ اسے فوراً ہٹا کر کٹ پتلی حکومت ملک پر مسلّط کر دو۔ وہی لوگ لاؤ جو ہمیں یس بوس بولتے ہیں۔ اُدھر خان اپنی حکومت گرانے سے چند ہفتے پہلے قوم کو بتاتا رہا میرے پاکستانیوں آپ کے وزیراعظم کو رجیم چینج آپریشن کے ذریعے ہٹایا جا رہا ہے۔ واشنگٹن سے باقاعدہ مراسلہ پنڈی پہنچ چکا ہے۔ پھر دنیا نے دیکھا رات کی تاریکی میں عدالتیں لگوا کر قوم کے مینڈیٹ سے منتخب شدہ وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا گیا۔ پھر ہوا کچھ یوں کہ پی ڈی ایم کی حکومت مسلّط کر دی گئی۔ چوروں کا ٹولہ اقتدار میں آگیا۔ ملک کی اکانومی برباد کر دیا۔ خان پر قاتلانہ حملہ کروا دیا۔ ارشد شریف کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے میں زبردستی گھس کر عمران خان کو گریبان سے پکڑ کر غیر قانونی طور پر اغوا کرلیا۔ 9 مئی کا فلس فلیگ آپریشن کر کے پارٹی توڑ دی۔ بعدازاں خان پر سینکڑوں کی تعداد میں جھوٹے مقدمات قائم کر کے جیل بھیج دیا۔ 8 فروری کو جب الیکشن ہوئے تو قوم نے اپنے محبِ وطن لیڈر عمران احمد خان نیازی کو بھاری اکثریت سے الیکشن جتوا دیا۔ 9 فروری کی صبح ملک پر مسلّط آئین شکن عناصر نے اپنے چوروں، ڈاکوؤں کو اقتدار میں لانے کیلئے قوم کا مینڈیٹ چوری کر کے دوبارہ ان کو لا بٹھایا۔ پھر قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی کٹ پتلی وزیر اعظم شہبازشریف نے اسٹبلیشمنٹ کی لائن لاتے ہوئے امریکی غلامی کا طوق گلے اپنے گلے میں ڈال دیا۔ افغانستان کے ساتھ پھر لڑائی شروع کر دی، فلسطینیوں کے معاملے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی۔ پاکستان میں فلسطینیوں کے حق میں نکلنے والی ریلیوں پر تشدد، پکڑ دھکڑ شروع کر دی۔ اس تناطر میں سنیٹر مشتاق احمد کو جیل بھی بھیجا گیا۔ فلسطینی پرچم لہرانے پر پابندی لگا دی۔ قوم کو بتائے بغیر ٹرمپ کے نام نہاد غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرلی۔ فوج دستے باقاعدہ اسرائیل بھیج دیے، مقصد حماس کی جہادی تنظیم جو خالصتا اللّٰه کی رضا کیلئے یہودیوں کے ساتھ لڑ رہی ہے اپنے مظلوم فلسطینیوں کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے اسے اسرائیلی فورسز کے ساتھ مل کر غیر مسلح کیا جائے گا۔ بانی پاکستان کے نظریہ کو پاؤں تلے روند دیا ہے۔ نیتن یاہو امن لائے گا۔ امت مسلمہ کے ساتھ اس سے بڑا بھونڈا مذاق نہیں ہوسکتا۔ اب جبکہ پورے دنیا جان چکی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ باقاعدہ متعدد جگہوں پر اس چیز کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ بٹگرام ائیربیس انکی ملکیت ہے اور وہ اسے ہر صورت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امریک چائنہ اور خطے موجود دیگر ممالک پر نظر رکھنا کیلئے بٹگرام ائیربیس طالبان حکومت سے واپس لینا ہے۔ تو میرے بھولے بھالے پاکستانیوں اس ٹرمپ کی اس خواہش کی تکمیل کیلئے پری جنگ ایک مرتبہ پھر آپ مسلّط کی جاری ہے۔ اس لیے سارا ماحول بنایا جارہا ہے۔ امریکہ پر فوج اڈے قائم کرنا چاہتا ہے اور اُس کا قوم ہم سے بہتر کون کر سکتا ہے؟ کرائے قاتل دستیاب ہیں، چند ڈالروں کی خاطر، اپنی ناجائز خواہشات پوری کرنے کیلئے قوم پر ایک مرتبہ پھر جنگ مسلط ہو رہی ہے۔ اب آئے روز آپ کو ملک کے طول وعرض میں دہشت گردی کی ایک اور تازہ لہر دیکھنے کو ملے گی۔ پھر اس قوم اپنی جانیں ضائع کرے گی۔ پھر خطے میں امریکی اجارہ داری کا دور شروع ہوگا۔
یہ جاہل مطلق یہ نہیں جانتے کہ اگر افغانستان کی حکومت بقول ان کے ایک آزاد اسلامی ریاست ہے تو پھر ان کے لوگوں کو ہجرت کی ضرورت کیا ہے؟ اور یہ خودساختہ مہاجرین اپنی حکومت کو بتائیں کہ جس پاکستان نے ہمیں برے وقت میں سہارا دیا اس کی پیٹھ میں چھرا مت گھونپو!
“افغانستان ہمارا برادر مسلمان ملک ہے۔ افغان مہاجرین تین تین نسلوں سے یہاں مقیم ہیں۔ نبی کریم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ گئے تو سب نے ان کے لیے دروازے کھولے اور اسی لیے انصار مدینہ آج تک محترم ہیں لیکن ہم نے اپنے مسلمان بھائیوں پر زمین تنگ کر دی۔ مہاجرین کو دھکے دے کر بے دخل کرنا بہت افسوسناک ہے۔ عاصم منیر اینٹی طالبان لابی کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کر رہا ہے اور جہاں جنگ نہیں ہے وہاں جان بوجھ کر جنگ نافذ کر رہا ہے۔ یہ اقدامات فوری طور پر رکنے چاہییں ورنہ حالات مزید بگڑیں گے۔”
- عمران خان
#FreeImranKhan
شاموں میں بہتریں ہے تیری گفتگو کی شام
صبحوں میں معتبر تیری صبح کا ذکر ہے
تو آخری خیال ہے سونے سے پیشتر
اور جاگنے کے بعد میری پہلی فکر ہے!
#اردو#UrduPoetry