@MalikAw87471444@BrSalmanSafdar Yes but it won’t be any benefit whatever he says as he’s obviously under duress himself. In all fairness, I personally won’t trust even that there has been a meeting of the lawyer today with the great man.
@ArafatMinhas_ You carry responsibility towards 270 million fellow Pakistanis.
You’re privileged to have such an honor. Focus totally on your game and make the homeland proud of you. There’s no need to get distracted by such petty material elements as cars or girls. You’re a budding superstar.
فیصل چوہدری صاحب! کون کہتا ہے کہ بار کی سیاست کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں؟
آپ جس انڈیپنڈنٹ گروپ کا حصہ ہیں، اس گروپ کے کردار پر بات کرنا ضروری ہے۔ میرا مؤقف ہے کہ گزشتہ پچاس سال سے یہ گروپ اس ملک کی کرپٹ اشرافیہ کے سیاسی اور ادارہ جاتی مفادات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
اس سیاسی و ادارہ جاتی قربت کے عوض مشرف دور میں احسن بھون پی سی او کے تحت ہائیکورٹ کے جج بنے، وزارتِ قانون، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل، پراسیکیوٹر جنرل اور ایسی ہزاروں سرکاری نوکریاں اور اہم عہدے سیاست دانوں اور حکمرانوں سے حاصل کیے گئے۔ پھر یہ کہنا کہ بار کی سیاست کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں، آخر کس منطق کے تحت درست ہے؟
لاہور ہائیکورٹ میں دس جج بھرتی کروائے گئے۔ میرا سوال ہے کہ ان دس میں سے کوئی ایک ایسا نام بتا دیں جس کی تقرری پر میرٹ کے حوالے سے کوئی سوال نہ اٹھتا ہو؟ کوئی ایک ایسا نام بتا دیں جس کا انڈیپنڈنٹ گروپ سے کوئی تعلق نہ ہو؟ کیا عدلیہ میں تقرریوں کا معیار پیشہ ورانہ قابلیت اور میرٹ ہونا چاہیے یا گروپ بندی اور سیاسی اثرورسوخ؟
اور فیصل چوہدری صاحب! اصل تضاد تو ہمارے سیاسی کردار میں ہے۔
انڈیپینڈینٹ گروپ سے تعلق رکھتے ہوئے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ایم این اے منتخب ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ووٹ اور عمران خان کے نظریے کی بنیاد پر پارلیمان میں پہنچتے ہیں۔ وہاں کھڑے ہو کر 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف بات کرتے ہیں، ان ترامیم کو آئین اور عدلیہ کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔
لیکن دوسری طرف آپ انڈیپنڈنٹ گروپ کا حصہ ہوتے ہوئے اسی گروپ کے اس کردار کا حصہ بنتے ہیں جس پر ان ترامیم کی منظوری میں بھرپور حمایت اور تعاون کے سوالات اٹھتے ہیں۔
یہ دوہرا معیار آخر کب تک؟
ایک طرف پی ٹی آئی کا مینڈیٹ، عمران خان کا نظریہ اور آئین کی بالادستی کا دعویٰ، دوسری طرف انڈیپنڈنٹ گروپ کی وابستگی اور اس کی سیاسی و ادارہ جاتی حکمت عملی!
آخر یہ کیسا اصولی مؤقف ہے؟
کیا سیاسی وابستگی اور نظریاتی وفاداری صرف پارلیمان کے اندر تقریر کرنے تک محدود ہے؟ کیا ایک طرف 26ویں اور 27ویں ترمیم کی مخالفت اور دوسری طرف ان کی منظوری کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے والے گروپ سے وابستگی بیک وقت ممکن ہے؟
یاد رکھیے! بار کی سیاست ملکی سیاست سے الگ نہیں۔ جب بار کے گروپ عدلیہ میں تقرریوں، سرکاری عہدوں، حکومتی مراعات اور آئینی ترامیم کے معاملات میں کردار ادا کرتے ہیں تو ان کے سیاسی کردار پر سوال بھی اٹھیں گے اور جواب بھی مانگا جائے گا۔
حسینؓ سے محبت بھی، یزید سے یارانہ بھی؟
اصولوں کی سیاست میں یہ تضاد آخر کیسے قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟
جرنیلی بیانیے کی شکست اور بڑے بڑے میڈیا چینلز کی تباہ ہوتی ساکھ کا اندازہ صرف اس ایک مثال سے لگا لیں کہ شہباز گل کو روزانہ تین ویلاگز دو اردو اور ایک پنجابی میں 11 لاکھ لوگ اوسطاً 90 منٹ دیکھتے ہیں تو عوام ان کی بات سننے پر مجموعی طور پر 16 لاکھ 50 ہزار گھنٹے صرف کرتی ہے، جبکہ طلعت حسین کو 35 ہزار لوگ اوسطاً 10 منٹ دیکھیں تو ان کا مجموعی واچ ٹائم محض 5 ہزار 833 گھنٹے بنتا ہے، یعنی شہباز گل کو طلعت حسین کے مقابلے میں 283 گنا زیادہ وقت دیکھا جاتا ہے، طلعت حسین دس منٹ کا ویلاگ کرتے ہیں اور انہیں اوسطاً پینتیس ہزار لوگ دیکھتے ہیں
اگر طلعت حسین عوام تک کوئی پیغام پہنچاتے ہیں تو وہی پیغام اگر شہباز گل پہنچائیں تو وہ 283 گنا زیادہ لوگوں تک پہنچے گا
جیو نیوز جب جسٹس افتخار چوہدری کے لیے مہم چلا رہا تھا تو اس کے تقریباً ہر اینکر کا اصرار تھا کہ جیو نیوز کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ حق اور سچ کی بات کرتا ہے، اس کے بعد بھی تین چار سال پہلے تک یہ منطق پیش کی جاتی رہی، بعد ازاں ARY نے بھی اپنی مقبولیت کو حق اور سچ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی، لیکن اب ان چینلز کی ساکھ بری طرح متاثر ہو چکی ہے، اگر کل کو یہ اپنی مقبولیت حق اور سچ کو بتاتے تھے تو آج ان کی تباہی کی وجہ بھی یہ خود ہی بتا دیں
In March 1919, the British passed the Rowlatt Act, allowing Indians to be detained without trial. It was passed over the united opposition of the Council's Indian members. Muhammad Ali Jinnah resigned from the Imperial Legislative Council in protest. In his letter to the Viceroy, he wrote:
"A government that passes or sanctions such a law in times of peace forfeits its claim to be called a civilised government."
107 years later, in the country Jinnah founded, the sisters of @ImranKhanPTI – my mother @DrUzma_KhanPK and my aunts @Aleema_KhanPK and @Noreen_KhanPK – have been held for six weeks under a 1960 preventive-detention law. No trial. No charge.
What would the Quaid call such a government?
Charge them or release them.
#RuleOfLaw #FreeImranKhanAndFamily
میں جب جب آڈیالہ جیل پیرومرشد عمران احمد خان نیازی سے ملنے گیا۔ چالیس منٹ کی ملاقات کی آخری بات جو مرشد فرماتے۔۔۔۔۔
" میرے سوشل میڈیا والوں کو سلام کہنا"
بیرسٹر سیف جیسے ٹاوٹس مکمل ننگے ہوچکے ہیں۔انکو بھی اور انکے ہینڈلرز کو بھی اصل تکلیف سوشل میڈیا ٹیم سے ہے۔۔۔۔۔
احد خان کے پریس آنگلش سب ٹائٹل کے ساتھ!!
اسوقت پوری دنیا میں احد خان کے پریس کانفرنس کو دیکھا جارہا ہے, یہ پریس کانفرنس اب پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ پر ہے!!♥️🔥
@Ruthhaslanded I can completely understand the host’s perspective. Girls generally don’t give space and time to the couple on such events and the man walks away thinking he’s less important than the friends. If you’re throwing a party for the friends too, you should pay, WHY should boyfriend?
فوج اور پولیس اہلکاروں کا یہ مؤقف کہ انہیں ’’اوپر سے حکم ملا تھا‘‘، آخرت میں قابلِ قبول عذر نہیں ہوگا۔ انہوں نے فضائیہ میں گزارے گئے اپنے 20 سالہ دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1975 میں لوئر ٹوپہ میں تربیت کے پہلے ہی روز انہیں سکھایا گیا تھا کہ کسی بھی غیر قانونی حکم کی تعمیل نہیں کرنی۔۔
احد خان