Aadaab Altaf Bhai
I agree with you cent percent that Kadhmir belongs to Kashmiries. Pakistan establishment should not attempt to enforce their will on Kashmiri people. This qction will be extremely damaging for the integrity of Pakistan
#RightsMovementAJK
Long Live Altaf Bhai🌹
کشمیرصرف کشمیری عوام کا ہے، کشمیری عوام کو ان کے حقوق اورحق حاکمیت سے محروم رکھا گیا۔ جذباتی نعرے کسی بھوکے کا پیٹ نہ��ں بھر سکتے۔ الطاف حسین
#RightsMovementAJK
برصغیر کی تقسیم سے قبل کشمیر ایک پرنسلے اسٹیٹ تھی۔ گلگت اور بلتستان کے علاقے ریاست کشمیرکاحصہ تھے اور ریاست کشمیرپر ڈوگرہ راج قائم تھا۔ قیام پاکستان کے بعد27، اکتوبر1947ء کو ریاست کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیاسے الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے تو پاکستان نے قبائلی اورافغانی عوام کے فوجی دستے تشکیل دیکر کشمیرپر حملہ کردیا۔ انڈیا کے ردعمل کے بعد گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی اورانڈین فوج نے پیش قدمی کرتے کرتے آدھے سے زائد کشمیرواپس اپنے کنٹرول میں لے لیا جبکہ دیگرکشمیر پر پاکستان کا کنٹرول قائم ہوگیاجسے ختم کرنے کیلئے انڈین فوج کی پیش قدمی جاری تھی کہ ��سی دوران انگریزوں نے جنگ بندی کرادی اور لائن آف کنٹرول بنادی کہ جب تک اقوام متحدہ یہ فیصلہ نہیں کردیتی کہ پورا کشمیر کس کے ساتھ جائے گا اس وقت تک کشمیر کا جوحصہ انڈیاکے کنٹرول میں وہ انڈیاکے پاس رہے گااورجوحصہ پاکستان کے پاس ہے وہ پاکستان کے کنٹرول میں رہے گا۔ اس طرح ریاست کشمیرIndian Occupied Kashmir اورPakistan Occupied Kashmir بن گئی۔ اقوام متحدہ نے حکم دیا کہ اس مسئلہ کے حل کیلئے کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا آزاد خودمختار کشمیر چاہتے ہیں۔ 78 برس گزر گئے لیکن آج تک اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کاحل نہیں نکال سکی اورکشمیرکا مسئلہ پاکستان اورانڈیا کے درمیان فٹبال بن گیا۔ میں 48 برس سے یہ کہتاآرہا ہوں کہ کشمیر صرف کشمیری عوام کا ہے اور کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کا حق صرف کشمیری عوام کو حاصل ہے مگر انڈیا اور پاکستان کشمیرکو فٹبال کی طرح کھیلتے رہے، اس کھیل میں دونوں طرف کے کشمیریوں کا بے پناہ جانی نقصان ہوتا رہا، ہجرتیں ہوتی رہیں اور خاندان تقسیم ہوتے رہے۔
اگست2019میں انڈیا نے اپنے آئین کی شق 370 کوختم کرکے اپنے زیرکنٹرول کشمیر کو انڈین یونین کا حصہ بنالیالیکن پاکستان کی جانب سے اس پرکچھ نہیں کیا گیا اورانڈیا کے زیرانتظام کشمیرانڈیا کا حصہ بن گیا۔ گزشتہ 78برسوں میں اسٹیبلشمنٹ نے کشمیری عوام کو ” کشمیربنے گا پاکستان“ کے نعرے دیئے، جہادی تنظیمیں بنائیں اور کشمیری نوجوانوں کو کشمیر جہاد کی آگ میں جھونک دیا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس مقصد کے لئے مذہبی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی کواستعمال کیا، جماعت اسلامی نے فوج کی بی ٹیم کاکردار ادا کیا، وہ ہمیشہ فوج کے منصوبوں کی حمایت کرتی رہی، کشمیرکے نام پر جگہ جگہ کیمپ اور اسٹال لگاکرنہ صرف عطیات جمع کرتی رہی بلکہ کشمیرکی آزادی کے لئے جہاد کے نام پر نوجوانوں کی بھرتی کرتی رہی۔ جماعت اسلامی نوجوانوں کو جہاد کا درس دیکر ہزاروں ماؤں کی گودیں اجاڑدیں لیکن جماعت اسلامی کے کسی لیڈرنے اپنے بچوں کو کشمیرکے جہاد پر نہیں بھیجا بلکہ وہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے رہے۔ کشمیری عوام کی تمام ترہمدردیاں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ��ہیں، پاکستان کے زیرکنٹرول کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوتے رہے، وہاں صدر اوروزیراعظم بھی منتخب ہوتے ہیں مگر وہ سب پاکستان کی فوج، جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے تحت کنٹرول کیے جاتے رہے۔ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کشمیر کےنظام حکومت پرجس طرح اثرانداز ہوتی رہیں اس حساب سے کشمیرمیں بہت ترقی وخوشحالی ہونی چاہیے تھی اورکشمیر کو گل وگلزار بن جانا چاہیے تھا مگرپاکستان آزادکشمیرکے وسائل، پانی، بجلی، گیس اور دیگر معدنیات کو تو استعمال کرتا رہا لیکن کشمیری عوام کو ان کے حقوق اورحق حاکمیت سے محروم رکھا گیا۔
کشمیری بزرگ مذہبی جنون اورخوشنما نعروں میں اتنے غرق تھے کہ وہ بنیادی وسائل سے محرومی اوربھوک وافلاس کے باوجود جذباتی نعرے لگاتے رہےلیکن جذباتی نعرے کبھی کسی بھوکےکاپیٹ نہیں بھر سکتے۔ میرا سوال ہے کہ اگرپاکستان کی فوج اور مذہبی جماعتیں عوام کو یہ ٹاسک دیں کہ ملک کے 25 کروڑ عوام 40 دن تک اللہ اکبر کاوظیفہ پڑھتے رہیں تو کیا اس سے کشمیر آزاد ہوجائے گا اورپاکستان کا حصہ بن جائے گا؟ اگرصرف نعرے لگانے سے فتوحات مل سکتیں تونبیوں کے نبی،حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کبھی تلوار ہاتھ میں لیکر جنگوں میں میں شریک نہیں ہوتے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب
6، جون 2026ء
(مکمل خطاب سنئیے 👇)
https://t.co/aiXjyb8imX
Aadaab Altaf Bhai
Excessive use of force on our own citizens will only create hatred and nationalistic feelings among ordinary people
#RightsMovementAJK
Let the people make their choice instead of imposing establishment's decisions on the public.
Long Live Altaf Hussain Bhai ❤️
کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین
#RightsMovementAJK
کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معط�� کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ ��ہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔
ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی ��لامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔
میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔
میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب
6 جون 2026ء
(مکمل خطاب سنئے 👇)
https://t.co/HOHGQ5bWHF
The then army Chief Gen Bajwa in uniform confessed in public that Pakistan Army interferes in politics.
If the army establishment repeated the same wrong move of interfering in Gilgit Baltistan elections and forcefully change the results, Pakistan will pay very high price!
اگرگلگت بلتستان کے الیکشن کے نتائج 8 فروری 2024ء کی طرح آ��ے تو ناانصافیوں اوردھاندلیوں کا یہ عمل گلگت بلتستان میں نیشنلزم کوپروان چڑھائے گا۔ الطاف حسین
#GBElection
7، جون 2026ء کوگلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف لے رہی ہے، حکومت پاکستان کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان ان انتخابات کا انتظام کررہا ہے لیکن اہم سوال یہ ہےکہ کیاگلگت اور بلتستان کے علاقے پاکستان کےجغرافیے میں آتے ہیں؟ اور کیاگلگت بلتستان، پاکستان کا پانچواں صوبہ ہے؟ہرگز نہیں۔گلگت، بلتستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر متنازع علاقے ہیں۔
حکومت پاکستان اورسپریم کورٹ نے8، فروری2024ء کے عام الیکشن میں PTI کے ساتھ ظلم وجبر اور زیادتی کی اور بلے کا انتخابی نشان چھینا، اب گلگت بلتستان میں وہی تاریخ کیوں دہرائی جارہی ہے؟جب مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کو گلگت بلتستان کے انتخابات میں حصہ لینے کی کھلی آزادی ہے تو PTI کو پی پی پی اور ن لیگ کی طرح انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟پیپلزپارٹی اپنے انتخابی نشان ”تیر“ اور ن لیگ اپنے انتخابی نشان”شیر“ کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے پھر ان انتخابات میں بھی PTI کے امیدواروں کو انتخابی نشان ”بلا“ کیوں لینے نہیں دیاگیا؟ اس عمل کو دیکھ کر کیایہ کہاجاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان میں آزادانہ، ایماندارانہ اور شفاف طریقے سے انتخابات کرائے جارہے ہیں؟ 8، فروری 2024ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو ایک پارٹی کے طورپر حصے لینے سے روکا گیا، پی ٹی آئی کے تمام لوگوں نے آزادامیدوار کی حیثیت سے اُن انتخابات میں حصہ لیا تھا اورتمام امیدواروں کے علیحدہ علیحدہ انتخابی نشان تھے اسی طرح گلگت بلتستان کے الیکشن میں بھی PTI کو ایک جماعت کی حیثیت سے حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگرکوئی یہ کہتا ہے کہ یہ انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے کرائے جارہے ہیں اورPTI آزاد امیدواروں کو سپورٹ کررہی ہے تو جس طرح لاڑکانہ ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم کی جاگیر ہے توکیاپورا ملک ان کی جاگیرہے کہ بلاول زرداری، آصفہ زرداری اور پیپلزپارٹی کے تمام لیڈروں کو گلگت بلتستان میں آنے کیلئے NOC دی گئی، اسی طرح میاں نوازشریف اورن لیگ کے تمام لیڈروں کو بھی گلگت بلتستان میں آنے کیلئے NOC دی گئی لیکن PTI کے ماسوائے ایک دو لوگوں کے دیگر تمام لیڈروں کو گلگت بلتستان آنے نہیں دیا گیا آخرکیوں؟ یہ ظلم اور زیادتی کیوں کی گئی؟
ہونا تویہ چاہیے تھا کہ عمران خان کو رہا کیا جاتااوروہ خود گلگت بلتستان جاتے اور نوازشریف اوربلاول زرداری کی طرح اپنا منشور اورمقاصد بیان کرتے لیکن ایسا نہ کیا گیا اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ کوآزادی دیکر اورپی ٹی آئی کے پیروں میں بیڑیاں ڈالی گئی ہیں۔ میں مطالبہ کرتاہوں کہ پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرین کوبھی گلگت بلتستان میں داخل ہونے کا این او سی جاری کیاجائے،انہیں یہ آزادی دی جائےکہ وہ الیکشن کومانیٹر کرسکیں، پولنگ اسٹیشنزپر جاسکیں اور انتخابات میں تعاون کرسکیں۔
میں گلگت بلتستان کے غیور، بہادر، پیار کرنے والے اورمہمان نواز عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کی موروثی سیاست اورچند خاندانوں کی حکمرانی ختم کرنے کے لئے7جون کوگھروں سے نکلیں اور عمران خان کی تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کوووٹ دیکرکامیاب بنائیں۔ میں یہ متنبہ کرتاہوں کہ اگر 8 فروری 2024ء کی طرح گلگت بلتستان کے الیکشن کے نتائج آئے توناانصافیوں اوردھاندلیوں کا یہ عمل گلگت بلتستان میں نیشنلزم کوپروان چڑھائے گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 412 ویں فکری نشست سے خطاب
5، جون2026ء
(مکمل نشست سنئیے 👇)
https://t.co/9E21qWEouK
Please join hands together against oppression and to eradicate barbarism and genocidal actions of the corrupt establishment of Pakistan
SAVE THE NATION,
JOIN APMSO 🌹
#11JuneComingSoon
Do you know @OfficialAPMSO_ gave birth to MQM ? Yes APMSO was the student organization founded on 11 June 1978 by @AltafHussain_90 Bhai 💐
MQM was later founded in 1984 :)
This is why we are excited that #11JuneComingSoon
Sharing QR code for those who want to join 🙌
سرفراز صدیقی کواے پی ایم ایس او کاچیئرمین مقررکردیا گیا
بانی وقائدجناب الطاف حسین کی جانب سے رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق
لندن … 3 جون 2026ئ
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن (APMSO) کو ازسرنو منظم کرنے کے سلسلے میں اے پی ایم ایس او کے سابق چیئرمین اور تحریک کے سینئرکارکن سرفراز صدیقی کواے پی ایم ایس او کاچیئرمین مقررکردیا ہے۔اس ��ات کافیصلہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ بانی وقائدجناب الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق کی ہے۔
٭٭٭٭٭
علم سے عمل تک
اڑتالیس برس کا سفر ، عزم کی پہنچان ہے
ہر وفا دار کارکن اس تاریخ کی شان ہے
وفا شعار دلوں نے یہ روایت رکھی ہے
مشکلوں کے سامنے بھی سربلندی رکھی ہے
#11JuneComingSoon
Scan the QR code on the poster to become the member of APMSO 🙌
We are delighted to unveil the Official Poster of APMSO’s 48th Foundation Day.
48 Years of Struggle, Leadership & Student Empowerment
📅 11 June 2026
“علم سے عمل تک” ✨
#11JuneComingSoon
‼️ایم کیوایم کینیڈاکی سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کی تشکیل نو: چھ رکنی آرگنائزنگ کمیٹی قائم کردی گئی
اقبال بہاد ر ایم کیوایم کینیڈا کے سینٹرل آرگنائزر اورسید صفدر عباس جوائنٹ آرگنائزر مقرر
سیدندیم شاہ، ریحان ظہیر، شبیر ہاشمی اورعزیزخان آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان ہوں گے
بانی وقائدجناب الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کردی
‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️
لندن …… 4 جون 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے تنظیم نو کے سلسلے میں ایم کیوایم کینیڈا کی سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کی تشکیل نوکرتے ہوئےچھ رکنی آرگنائزنگ کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔کینیڈا کی آرگنائزنگ کمیٹی کی تشکیل نو کا فیصلہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے تحت سینئر تحریکی ساتھی اقبال بہادر کوایم کیوایم کینیڈا کا سینٹرل آرگنائزر اور سید صفدرعباس کو جوائنٹ آرگنائزر مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ سید ندیم شاہ، ریحان ظہیر، شبیر ہاشمی اورعزیزخان آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ بعدازاں کمیٹی میں مزید نام بھی شامل کئے ��ائیں گے۔یہ نئی سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کیلگری اور دیگر چیپٹرز کی تنظیم نوکرے گی۔ بانی وقائدجناب الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
٭٭٭٭٭
Dear Field Martial Gen Asim Munir and ISI chief Mr Asim Malik, please take serious notice of 14 innocent workers of MQM who were forcibly disappeared by LEA and their whereabouts are still unknown
@coas_official1@OfficialDGISPR@AltafHussain_90
This war is not based in National interests of the USA. Rather, it is a war to strengthen the business empire of Teump and other filthy rich billionaires....
Taxpayers are paying for this war and rich are getting richer !
In the other hand, the middle and poor class is screwed 😭
The House has passed a resolution to limit President Donald Trump’s war powers in Iran, a significant rebuke to Trump and his handling of the conflict. https://t.co/7xwuN4SAHl
Altaf Hussain Bhai wanted to fix the corrupt and outdated fudal system of Pakistan
The feudals of Pakistan created a joint alliance against Altaf Hussain Bhai to stop his philosophy to reach at the ordinary people!
People of Pakistan have to unite and follow Altaf Bhai
There is only leader in Pakistan who is trustworthy and capable of helping the helpless.....
Help Altaf Hussain Bhai, help secure a better future for our coming generations 💝💖💞
While Pakistan Muslim League-Nawaz and the Pakistan People's Party have facilitated and managed the passage of the 27th Constitutional Amendment (CA) , they have actually sabotaged the spirit of the #Constitution. The ruined the law, the judiciary, the justice system, and their own promises, claims, and manifestos.
#27thConstitutionalAmendment
Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) and the Pakistan People's Party (PPP) always boasted about democracy and made tall claims to uphold democracy, the sanctity of the Constitution, the independence of the judiciary, and justice system now have sabotaged the Constitution, the law, the judiciary, the justice system, and their own promises, claims, and manifestos through passing the 27th Constitutional Amendment (CA). Prime Minister Mian Muhammad Shehbaz Sharif, the Prime Minister of Pakistan, imposed through form 47, used to frequently recite a famous couplet of poet Habib Jalib about 15 years ago at his rallies:
"I refuse to accept such a constitution, such a lightless morning. I do not recognize it."
Prime Minister Mian Shehbaz Sharif would recite this couplet with such passion and emotion that one day, in the heat of his speech, he even knocked down the microphone placed on the dice, and the people perhaps could not understand that in fact Shehbaz Sharif did not accept the Constitution of that time under democratic norms and values, the President and Prime Minister had powers, and in which all institutions and rulers were answerable. Shehbaz Sharif did not accept that Constitution; in fact, he wanted a Constitution through which all democratic normd and values would be eliminated. He wanted a Constitution under which the country would have a puppet Prime Minister, one without authority, with no independent judiciary, and in which rulers and institutions were not answerable to the Constitution and law, standing above the law and exempt from accountability.
He wanted all the sins of the looting of national wealth committed by the Sharif and Zardari families, all the corruption they had spread, and all their extrajudicial killings of opponents to be forgiven, and for the puppet Prime Minister to keep polishing boots with silk cloth. The people want democracy and justice. This is why Nawaz Sharif, his daughter Maryam Nawaz, Shehbaz Sharif, and others would loudly raise the slogan “give respect to Vote” to mislead the people. In the February 8, 2024 elections, the people of Pakistan gave the most votes to Pakistan Tehreek-e Insaf @PTIofficial and @ImranKhanPTI . Let me ask when the elections results were changed under form 47, victors were declared losers, and vice versa, did the PML-N give respect to the people’s vote, or did they humiliate it?
By passing the 27th CA, have they respected the vote or spoiled its dignity?
After the assassination of Benazir Bhutto, the PPP raised the slogan “Pakistan Khappay,” and her son Bilawal Zardari raised the slogan “Democracy is the best revenge.”
However, the PPP, by accepting the rigged results under form 47 along with the @pmln_org and forming a coalition government, have the two parties not ruined the votes cast in accordance with the people’s aspirations? Did the PPP and PML-N preserve the dignity and respect of the people’s vote, or did they desecrate it? Where did the shame and modesty of the PPP and PML-N disappear when they did this?
The PML-N and PPP used to talk about democracy, judicial independence, and justice, but the way both parties have torn apart the Constitution and the justice system is known to the entire nation. Everyday, both the parties are tirelessly working toward the complete destruction of the justice system. 1/2
2/2
I am not an expert in numerology, but according to my research, the #27thConstitutionalAmendment passed by PML-N and PPP to secure the continuity of their family rule, if the digits 2 and 7 of the number 27 are added, the total becomes 9. Similarly, this amendment was made in the year 2025. If the digits of 2025 are added, the sum is also 9. If 9 and 9 are added, the total becomes 18. If the digits of 18 are subtracted, that again becomes 9. This amendment was made in the month of November, which is the 11th month of the year, and if the digits of 11 are subtracted, the result is 2. The central parties that played the main role in the passage of this CA are also 2 in number.
Therefore, the 27th CA is indicating that in the future, both the PPP and PML-N will vanish from political canvases. According to available information so far, two judges, Justice Mansoor Ali Shah and Justice Athar Minallah, have resigned in protest, while Pakistan’s constitutional and legal expert lawyer Makhdoom Ali Khan has also resigned from the Law and Justice Committee. I ask PTI workers: Where is the entire central leadership of PTI in this situation? Why have they not held a joint press conference so far regarding the 27th CA? The PTI leaders who visit Imran Khan do appear on TV talk shows, but after the approval of the 27th Amendment, why are they not coming out to inform the public? At this time, only the KP Chief Minister, Sohail Khan Afridi, has become the sole voice of PTI. Sohail Afridi is an energetic young man from the middle class. Is it appropriate for him alone to raise his voice considering the position he holds? Is it suitable for him to come out alone and lead a movement? Imran Khan had proposed Sohail Afridi’s name for the Chief Ministership, and he was elected by a large majority of elected members. Should he handle administrative affairs and matters of law and order in his province, or should he lead protest movements? Coming alone to the front line can be dangerous and harmful for him. Therefore, I advise PTI workers to protect Sohail Afridi and bring forward those leaders who held ministries in Imran Khan’s government and are still enjoying their lives. Why are they not coming forward? I say to Jamiat Ulema-e Islam, Jamiat Ulema-e Pakistan, and all religious parties of the country: When the Grand Mufti, Mufti Taqi Usmani, has issued a fatwa about the 27th CA, then how many rallies have the scholars of this country held according to the fatwa of the Grand Mufti? Where are the scholars of Pakistan? If you do not accept the fatwa of the Grand Mufti, then according to your own jurisprudence, why do you not inform the nation about the 27th CA? I feel it is my job to invite the nation to reflect. I tell the truth, and I will continue to speak the truth.
Altaf Hussain.
346th public address vis TikTok on November 14, 2025.
بانی وقائد جناب الطاف حسین کا کارکنان سے اظہارتعزیت
دکھ کی گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیو ایم کے تمام کارکنان سوگواران کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، جناب الطاف حسین
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی میں پانچ نئے اراکین کوشامل کرلیاگیا
رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طورپرامریکہ سے سید فہد مصطفی، شعیب علی خان ، شکیل الدین مہاجر،
کینیڈا سے سید ذکی اور عمیرخسرو کورابطہ کمیٹی میں شامل کرنے کافیصلہ
قائد تحریک الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق کردی
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کی تعداد 19 ہوگئی
لندن۔۔۔2، جون2026ئ
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی میں تحریک کے پانچ سینئر اراکین کااضافہ کردیاگیا ہے جس کے بعد رابطہ کمیٹی کے ارکان کی تعداد 19 ہوگئی ہے ۔ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق گزشتہ روز ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی تنظیمی امور کو مزید بہتر اور مربوط بنانے کیلئے رابطہ کمیٹی میں مزید پانچ ارکان کے اضافے کیلئے مختلف سینئراراکین کے ناموں پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا ۔ اجلاس میں کنوینراور ڈپٹی کنوینر ز سمیت رابطہ کمیٹی کے تمام اراکین نے شرکت کی ۔ اجلاس میں اتفاق رائے سے تحریک کے پانچ سینئر اراکین امریکہ سے سید فہد مصطفی، شعیب علی خان، شکیل الدین مہاجر،کینیڈا سے سید ذکی اور عمیرخسرو کو رابطہ کمیٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیاگیا ۔ ایم کیوایم کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے ۔
اس موقع پرایم کیوایم کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی میںنئے اراکین کی شمولیت کو تحریک اور قوم کیلئے نیک شگون قراردیا اورنئے اراکین سمیت رابطہ کمیٹی کے تمام ارکان کو مبارکبا د پیش کرتے ہوئے تلقین کی کہ رابطہ کمیٹی کے ارکان محنت ولگن سے تحریکی جدوجہد جاری رکھیں اور تحریک کے فکروفلسفے اور پیغام کے فروغ کیلئے اتفاق اور اتحاد سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں۔
رابطہ کمیٹی میں شامل ہونے والے نئے اراکین سید فہد مصطفی، شعیب علی خان ، شکیل الدین مہاجر، سید ذکی اور عمیرخسرو نے جناب الطاف حسین سے دلی تشکرکااظہارکرتے ہوئے کہاکہ تحریک نے ہم پر جس اعتماد کااظہار کیا ہے ہم اس اعتماد پر پورا اترنے کی بھرپورکوشش کریں گے ۔ بعدازاں کنوینر ، ڈپٹی کنوینرز اور اراکین رابطہ کمیٹی نے بھی فرداً فرداً نئے اراکین کو رابطہ کمیٹی میں شمولیت پردلی مبارکباد پیش کی اوراپنی نیک خواہشات کااظہارکیا۔
٭٭٭٭٭