"Some people have said criticising Israel is antisemitic. I think that's absurd."
Ben & Jerry's co-founder Ben Cohen, who's Jewish, calls the UK government's decision to ban left-wing commentator Hasan Piker from entering the country "crazy at face value".
@BarbaraGSerra | https://t.co/rB90NphURH
پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے، میں نے لاہور کاایک بہت اچھا جم جوائن کیا تھا,ایک سال تک باقاعدگی سے وہاں جاتی رہی، پھر یوگا سیکھنے کے بعد جم چھوڑ دیا،اُس جم میں عورتوں اور مردوں کے علیحدہ حصوں کے علاوہ ایک مخلوط ایگزیکٹو جم بھی تھا، میں عورتوں والے حصے میں جاتی تھی جبکہ میری ایک دوست اپنے شوہر کے ساتھ اُس مخلوط جم میں جاتی تھی اور ہم مذاق میں کہتے تھے کہ وہ شاید “خاوند کی راکھی” کے لیے جاتی ہے.
تاہم، ایک دو مرتبہ جب میں اُسے بلانے کے لیے اُس حصے میں گئی تو مجھے وہاں کوئی بھی شخص معیوب یا فحش لباس میں دکھائی نہیں دیا.زیادہ تر لوگ ٹریڈ مل پر واک کر رہے تھے اور موسیقی سنتے ہوئے اپنی ورزش میں مصروف تھے.
آج جو لوگ جمز کے ماحول اور لباس کے حوالے سے شدید تنقید کر رہے ہیں اُن میں سے شاید اکثریت نے کبھی جم دیکھا ہی نہ ہو . اُن کے تصورات زیادہ تر بھارتی فلموں،سوشل میڈیا کلپس یا اداکاروں کی گلیمرائزڈ ورزش ویڈیوز سے تشکیل پاتے ہیں. دلچسپ اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جن معاشروں میں لوگ اخلاقیات کے سب سے بڑے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں، وہی ممنوع ویب سائٹس اور غیر اخلاقی مواد دیکھنے میں بھی سرفہرست ہوتے ہیں اور پاکستان کے بارے میں ایسے اعداد و شمار کئی بار سامنے آ چکے ہیں.
شاید اسی لیے بہت سے لوگوں نے انصار عباسی صاحب کی ٹویٹ کی مخالفت کی کیونکہ پاکستان میں مخلوط جم کوئی نئی چیز نہیں.برسوں سے ایسے جم موجود ہیں اور وہاں ہراسمنٹ کا کوئی نمایاں کیس سامنے نہیں آیا. دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ شاید پاکستان کی ایک فیصد عورتیں بھی جم نہیں جاتیں لیکن روزانہ گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر برقعوں اور چادروں میں ملبوس خواتین اور معصوم بچیاں شدید ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں. اور یہ کلپس اکٹر سوشل میڈیا پر شیئر ہوتے رہتے ہیں جہاں پورے شرعی حُلیے والے جانوروں کی طرح عورتوں پر جھپٹ رہے ہوتے ہیں .
افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں اصل مسئلے یعنی مرد کی تربیت، ذہن، رویّے اور سماجی اخلاقیات پر بات کم ہوتی ہے جبکہ سارا بوجھ عورت کے لباس،موجودگی اور آزادی پر ڈال دیا جاتا ہے.انصار عباسی صاحب نے کبھی اسی شدت سے مردانہ رویّوں،معاشرتی بگاڑ، بد اخلاقی ، دین کے نام پر گالی گلوچ ،مدارس کی اصلاح، یا بچیوں کو مرد مولویوں کے بجائے خواتین سے قرآن پڑھانے جیسے حساس مگر ضروری موضوعات پر آواز بلند نہیں کی.اصل ایشوز پر توجہ دیں پلیز
Former President of Ireland Mary Robinson says we can't have "double standards" with the international rule of law.
She compares the criticism of Putin invading Ukraine with the U.S. and Israel's strike on Iran, which she says very few countries have spoken explicitly about it.
14 former international cricket captains, including ex-England skippers Nasser Hussain and Mike Atherton, have made a humanitarian appeal for Imran Khan amid growing concerns about his health while in detention.
Former #Pakistan prime minister #ImranKhan has suffered severe vision loss in prison.
His family and lawyer say he has 15% vision left in his right eye after prison authorities neglected to take action for months.
I have contacted Pakistani officials for comment.
Beyond shocked at how Imran Khan’s health has been ignored. This is abhorrent and outrageous. No one in the entire country supports this treatment of Khan, not one person.
“قیدی نمبر 804 کے نام “
اے اٹک جیل کی بیرک نمبر تین کے میرے قیدی نمبر 804 !
میں تجھے یاد کرتا ہوں !
جب جب میں اياك نعبد واياك نستعين سنتا ہوں '
میں تجھے یاد کرتا ہوں -
جب کسی نغمے کسی ترانے میں آزادی کا لفظ سنتا ہوں '
میں تجھے یاد کرتا ہوں -
جب مرے ملک میں انتخاب کو چرایا جاتا ہے
اور آئین کا نام لیکر ہی آئین کا مذاق اڑایا جاتا ہے '
میں تجھے یاد کرتا ہوں -
جب میرے ملک میں کسی پر بھی جھوٹا مقدمہ بنتا ہے '
اور کسی صحافی کسی دانشور کو اٹھایا جاتا ہے '
میں تجھے یاد کرتا ہوں -
جب دیار غیر میں کہیں کوئی
میرے نبی (صلی الله وسلم )کی حرمت پامال کرتا ہے '
" ہمارے نبی ہمارے دل میں رہتے ہیں "
میں تیرا یہ کہا سنتا ہوں
اور میں تجھے یاد کرتا ہوں
جب میرے عوام بجلی پٹرول ' گیس کے نرخوں سے بلبلاتے ہیں
مفلوک حال لوگ فاقوں سے اپنے بچے مار کر خود بھی مر جاتے ہیں
تب میں تیرا دور تیرے عہد کی بات کرتا ہوں '
تب میں تجھے یاد کرتا ہوں
جب امیر اپنا علاج لندن میں کراتا ہے
اور غریب چارپائی پر پڑا بیماری سے کراہتا ہے
میں تیرا کینسر ہسپتال اور تیرا ہیلتھ کارڈ دیکھتا ہوں '
میں روتا ہوں اور تجھے یاد کرتا ہوں
جب گرم دوپہروں اور سرد راتوں میں
بے گھروں کو سڑک پر سوتا دیکھتا ہوں
میں تیرا "احساس " اور تیری "پناہ گاہوں " کا منظر سوچتا ہوں '
اور میں تجھے یاد کرتا ہوں
او شہزادوں کی طرح پلنے والے میرے قیدی نمبر 804 !
میں اکثر سوچتا ہوں کہ
جیل کی بیرق نمبر تین میں تو کس حال میں ہوگا ؟
بڑھی شیو' بڑھے بال ' درویش سا نہ جانے کس وبال میں ہوگا ؟
آدھی دیوار والے غسل خانے میں لگے کیمرے کے
سامنے ہمارے بارے کیا سوچتا ہوگا!
کبھی غمگین ' کبھی افسردہ ہو کر
پھر کبھی ہماری بزدلی پر ہنستا ہوگا !
جب ہم یہاں اے سی میں سوتے ہونگے '
وہاں کوٹھری میں ماحول کتنا دہکتا ہوگا ؟
جب ہم یہاں اپنوں میں رہتے ہونگے
تو وہاں غیروں کے رحم و کرم سہتا ہوگا ؟
اس کال کوٹھری میں لگے آئینے سے
اپنا قصور تو پوچھتا ہوگا ؟
اس جیل رجسٹر اور ڈائری میں '
میں اپنا جرم تو ڈھونڈتا ہوگا ؟
وہاں کھڑے سنگتری کو بھی
آزادی کے نغمے سناتا ہوگا
وہاں موجود قیدیوں کو بھی
"ایبسو لوٹلی ناٹ" پڑھاتا ہوگا !
یہ جیل زیادہ قید ہے یہ یا باہر وہ ملک '
یہ پہیلی تو سلجھاتا ہوگا
چوبیس کروڑ چیونٹیوں کو کب ہوش آئیگا !
یہ سوال دوہراتا ہوگا
اے میرے قیدی نمبر 804 ! مرے الفاظ کی اس بے ربطگی پر مجھے ڈانٹیوں مت !
میری خفت ' میری خاموشی ' میری بے حسی اور میری اس چپ پر ہنسیوں مت !
وہ کیا ہے کہ میں اپنے نفس اپنے اغراض کا قیدی ہوں
میں تیری طرح آزاد نہیں بلکہ اپنے مفاد کا قیدی ہوں
تو قید میں ہو کر بھی آزاد تھا ' آزاد ہے اور آزاد ہی رہے گا !
میں مفلوج تھا ' معذور ہوں اور اور اپنے بغض و عناد کا قیدی ہوں
پھر بھی اس بے بسی اس بے اختیاری میں
تجھے ڈھونڈھتا ہوں رب سے تیری ہی فریاد کرتا ہوں
اے اٹک جیل کی بیرک نمبر تین کے قیدی نمبر 804 !
میں تجھے ' میں تجھے بہت یاد کرتا ہوں !
(اس غلام ملک کے سب سے آزاد شہری ! مرے قیدی نمبر 804- تجھے رب دیا راکھاں!)
قلم کی جسارت وقاص نواز
بریکنگ نیوز🚨: برطانوی صحافی یلدا حکیم نے عمران خان پر قیدِ تنہائی میں ہونے والے مظالم پر پورے دنیا کے سامنے آواز اٹھا دی۔خان پر ہونے والے مظالم پاکستانی اسٹبلیشمنٹ کروا رہی ہے۔یہ اب انٹرنیشنل مسئلہ بن چکا ہے 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
”قومی لیڈر عمران خان کو غدار/ سیکیورٹی رسک کہا گیا، پشاور اس بیان کی مذمت کرتا ہے پاکستان بھرپور مذمت کرتا ہے۔ اسی ملک میں بانی پاکستان کی بہن فاطمہ جناح کو بھی غدار وطن کہا گیا۔ یہی روش رہی ہے کہ ہم نے عوام کے مقبول لیڈر کو نہیں ماننا، بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے ہیں۔“ مصطفٰی نواز کھوکھر
Imran Khan and "the death cell" where he is being held.
@sayedzbukhari is one of Khan's closest advisors and tells @SkyYaldaHakim about the condition the former Prime Minister is in amid growing concerns for his health.
Hear their full chat here 👉 https://t.co/mZlxtePiuf
This is terrifying — a deepfake of my interview with Imran Khan’s sister, Aleema Khan, is circulating. It falsely claims we discussed the Pakistan-India war earlier this year. We did NOT. This clip is completely fake.
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔
پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔
زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 2 of 2
”لے کے پِنشن جاؤندا کیوں نئیں
چاچا وردی لاؤندا کیوں نئیں؟
غیرت نوں اپناؤندا کیوں نئیں
چاچا وردی لاؤندا کیوں نئیں؟“
سینئیر صحافیوں کے مطابق 2007 میں محسن نقوی نے اپنے اس وقت کے مائی باپ زرادری کے کہنے پر مشرف کی ڈکٹیٹرشپ پر یہ گانا بنوایا تھا، جو آج محسن نقوی کے نئے مالک عاصم منیر کی بدترین آمریت اور طاقت کی ہوس پر بالکل فِٹ بیٹھتا ہے۔
#ذہنی_مریض_نامنظور