آزاد کشمیر کی ویڈیوز ایسے گروپس میں شیئر کی جا رہی ہیں جہاں بھارتی صحافی @AdityaRajKaul اور بھارت نواز عناصر موجود ہیں ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنما اور کارکنان اس مہم کا حصہ بن کر بھارتی میڈیا کو مواد فراہم کر رہے ہیں۔
مریم صاحبہ🚨اختلافات اپنی جگہ، مگر ایسے درندہ صفت انسان کو کسی صورت نہ چھوڑا جائے۔ 🚨معصوم بچے پر تشدد ناقابلِ برداشت ہےفوری اور سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے! @MaryamNSharif
قران حافظ بناو سات نسلیں بخشیں جائیں گی اسی چکر میں سارا پاکستان لگا ہوا ہے جبکہ ہمارے مدرسے ٹاچر سیل سے کم نہیں ۔
🚨🚨اپنے بچوں کو ان شیطان نما جانوروں سے بچائے ۔
پاکستان میں سب سے زیادہ بدفعلی بچوں سے ان مدرسوں میں ہوتی ہے ۔زیادہ تر خاندان رپورٹ نہیں کرتے ۔بچے کو اس طرح ماریں گے تو بچہ ہر بات تو پھر مانے گا ۔
لوگ سمجھتے ہیں بچہ ان کے لیے جنت لینے گیا ہے ۔کیا والدین کو پتہ وہ مدرسے نہیں تھانے کے ٹارچر سیل بھیج رہے ہوتے ہیں ۔
⚠️اگر اپ اسے ری ٹویٹ نہیں کریں گے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی جو عمران خان کے لیے باہر نکلے ہوئے ہیں⚠️
انصاف یوتھ ونگ کراچی پارٹی کا حقیقی اثاثہ یہی نوجوان ہیں۔
So-called Baloch “human rights” accounts are acting as digital mouthpieces for the BLA, a globally proscribed terrorist group—not as civilian advocates.
Weaponizing human rights to justify terrorism is a crime, not activism. The proof is public. The pattern is exposed.
ہم نے تو انٹرویو دیا تھا انڈین میڈیا کو، یہ تو ہاتھ ملا رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کا پانی بند کیا ہوا ہے جنہوں نے بزدلانہ حملہ کر کے پاکستان کے اندر میزائل مارے فتنہ ہند خوارج کو سپورٹ کرتے ہیں
اب میڈیا کیوں خاموش ہیں ؟
بوڑھے جرنیل “Boomers” نئی نسل کو قابو نہیں کر پائیں گے۔ ان کے جھوٹ، فریب، ملک کی معاشی بدحالی اور قانون کی پامالیوں نے ان کے اور نئی نسل کے درمیان نہ ختم ہونے والی دراڑیں پیدا کر دی ہیں۔ زورین نظامانی نے عسکری بوڑھوں کی ابدی ناکامی پہ آرٹیکل لکھا، ڈیلیٹ کروا کر بھی حقیقت تبدیل نہ کر پائے۔ تم لوگوں کے فریب کا قصہ اب ختم ہو چکا ہے عسکری بوڑھو۔
پنجاب میں ہزار اصلاحات ہو گئیں مگر پولیس کے حالات نا بدل سکے بچے پر اس طرح کے تشدد کی کوئی گنجائش نہی ہے آپ غیر قانونی چیزوں پر سخت ایکشن لیں جرمانے کر لیں مگر یوں مار پیٹ غیر قانونی غیر اخلاقی ہے
پنجاب پولیس کی طرف سے اکثر ایسے واقعات سامنے آتے ہیں