اٹھائیسویں ترمیم کے آنے تک شائد یہ کالم کسی اخبار میں نہ چھپ سکے۔ فی الحال ٹوئیٹر پر ہی پڑھ لیں
=======
حلوائی بادشاہ
=======
کسی ملک کا بادشاہ وفات پا گیا
ملک کے دستور کے مطابق اعلان ہوا کہ اگلے دن صبح شہر کے دروازے پر تمام لوگ جمع ہوں گے، اور جو شخص سب سے پہلے شہر کے دروازے سے داخل ہوگا، اسے نیا بادشاہ بنا دیا جائے گا۔
اگلے دن ایک شخص سب سے پہلے شہر میں داخل ہوا اور وہ بادشاہ بن گیا۔
تخت نشین ہوتے ہی اس نے پہلا حکم دیا:
“حلوہ بناؤ اور پورے ملک میں بانٹ دو۔”
وزرا نے سمجھا کہ شاید نیا بادشاہ اپنی خوشی میں مٹھائی تقسیم کروا رہا ہے۔ چنانچہ حلوہ تیار ہوا اور پورے ملک میں تقسیم کر دیا گیا۔
ادھر پڑوسی ملک کو خبر ملی کہ پرانا، تجربہ کار بادشاہ فوت ہو چکا ہے۔ انہوں نے اسے حملے کے لیے موزوں موقع سمجھا اور جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔
جاسوسوں نے آ کر اطلاع دی:
“حضور! پڑوسی ملک حملے کی تیاری کر رہا ہے۔”
بادشاہ نے پھر وہی حکم دیا:
“حلوہ بناؤ اور سب میں بانٹ دو۔”
لوگوں نے کہا، “واہ! کتنا نڈر بادشاہ ہے، اسے دشمن کا ذرّہ برابر خوف نہیں۔”
چند دن بعد اطلاع ملی کہ دشمن کی فوج کوچ کر چکی ہے۔
بادشاہ نے پھر کہا:
“حلوہ بناؤ اور سب میں بانٹ دو۔”
عوام نے گمان کیا کہ یقیناً بادشاہ نے کوئی زبردست حکمتِ عملی بنا رکھی ہوگی۔
پھر خبر آئی کہ دشمن کی فوج قلعے کے سامنے پہنچ چکی ہے۔
وزیر نے عرض کیا:
“حضور! دشمن دروازے پر ہے۔”
بادشاہ نے پھر وہی حکم دہرایا:
“حلوہ بناؤ اور سب میں بانٹ دو۔”
لوگوں نے سوچا کہ شاید بادشاہ دشمن کو قریب لا کر فیصلہ کن وار کرے گا۔
کچھ دیر بعد دشمن نے قلعے کی دیواروں پر چڑھائی شروع کر دی۔
بادشاہ نے پھر کہا:
“حلوہ بناؤ اور سب میں بانٹ دو۔”
لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہی کسی بڑی جنگی چال کا حصہ ہے۔
آخرکار دشمن نے قلعے کا دروازہ توڑ دیا اور شہر میں داخل ہو گیا۔
وزیر نے گھبرا کر اطلاع دی، مگر بادشاہ نے ایک بار پھر وہی حکم دیا:
“حلوہ بناؤ اور سب میں بانٹ دو۔”
اب بھی لوگوں کو امید تھی کہ شاید دشمن کو اندر آنے دیا جا رہا ہے تاکہ پھر دروازے بند کر کے اسے ختم کر دیا جائے۔
لیکن دشمن شہر کو روندتا ہوا شاہی محل تک پہنچ گیا۔
وزیر سے رہا نہ گیا۔ اس نے کہا:
“حضور! جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ ہم پہلے دن سے دشمن کی ہر پیش قدمی کی خبر دے رہے ہیں، مگر آپ نے آج تک حلوہ بانٹنے کے علاوہ کوئی حکم نہیں دیا۔ اب دشمن محل کے دروازے تک پہنچ چکا ہے۔”
بادشاہ مسکرایا اور بولا:
“بھولے لوگو! جس دن تمہارا پرانا بادشاہ فوت ہوا، میں اتفاقاً شہر میں داخل ہو گیا تھا اور قسمت سے بادشاہ بن بیٹھا۔ میں ایک حلوائی کا بیٹا ہوں۔ ساری زندگی میرا کام صرف حلوہ بنانا اور بانٹنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے کوئی کام آتا ہی نہیں۔ مجھے بادشاہ بنانے سے پہلے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ میں اس ذمہ داری کے قابل بھی ہوں یا نہیں۔ اب اگر میں وہی کر رہا ہوں جو مجھے آتا ہے، تو اس میں میرا کیا قصور؟
_______
جوکر کو بادشاہ بنادیں تو وہ محل کو سرکس میں بدل دیتا ہے
کسی بھکاری کو بادشاہ بنادیں تو وہ پورے ملک کو بھکاری بنادیتا ہے۔
کرپٹ کام چور راشی کو حکمران بنادیں تو وہ ساری رعایا کو کام چور، راشی بنادیتا ہے
آپ بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کو لاکھ شوگر کوٹ کریں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس نے ایک ناسور بن کر ملک کی اکثریت کو کام چور نکھٹو اور کرپٹ بنادیا ہے۔ بیشمار خبریں ثبوتوں کیساتھ موجود ہیں لیکن جنھیں اس آٹھ سو ارب سالانہ بے ہنگم فنڈ سے حصہ مل رہا ہے وہ خاموشی سے یہ پیسہ کھا رہے ہیں
پیپلزپارٹی کی پوری ٹیم میں کوئی اہل شخص نہیں انکے پاس کوئی معاشی منصوبہ نہیں، کوئی وژن نہیں سوائے ایک کام کے کہ بجٹ سے آٹھ سو ارب روپے نکالو اور سب میں بانٹ دو
بینظیر قتل ہوئی تو ایک نا اہل شخص کو آپ نے حکمران بنا تو دیا لیکن اسے صرف ایک کام آتا ہے
حلوے بناؤ اور سب میں بانٹو
بے ہنگم انکم سپورٹ فنڈ وہی حلوہ ہے ہے اور وہ سب میں بانٹ رہا ہے۔
بقلم #شائن_سٹائن
یہ ٹویٹ اتنا زیادہ Retweet کرو تاکہ ہر ایک پاکستانی شہری تک پہنچے
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 2008 سے لے کر جون 2026 تک حکومتِ پاکستان تقریباً 3.3 ٹریلین روپے یعنی 3330 ارب روپے بنتے ہیں اس پروگرام پر خرچ کر چکی ہے اس سال کے بجٹ میں مزید 838 ارب روپے اس پروگرام کے لیے مختص کیے
یہ ایک بہت بڑی رقم ہے۔ ان وسائل سے ملک میں درجنوں جدید ہسپتال، اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیاں، ہزاروں اسکول و کالجز،موٹروے، سڑکیں، ڈیم اور ہائیڈرو پاور منصوبے بنائے جا سکتے تھے جو مستقل معاشی ترقی اور روزگار کا ذریعہ بنتے۔
اہم سوال یہ ہے کہ 18 سال گزرنے کے باوجود کیا غربت واقعی کم ہوئی ؟
کیا وہ خاندان جو 2008 سے امداد لے رہے تھے آج اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں؟
اگر ایک پروگرام مسلسل کھربوں روپے لینے کے باوجود لوگوں کو مستقل خود کفیل نہ بنا سکے تو پھر اس کی پالیسی شفافیت اور مؤثریت پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ اس پروگرام کے دوران کرپشن، سیاسی مداخلت، جعلی رجسٹریشن اور غیر مستحق افراد کو فائدہ پہنچنے کی شکایات بارہا سامنے آئی۔ دوسری طرف عام غریب آدمی کی زندگی میں وہ بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ نا روزگار کے مواقع بڑھے، نا لوگوں کو مستقل کاروبار یا ہنر ملا۔ صرف نقد امداد سے غربت کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔
وقت آگیا ہے کہ یا اس پروگرام کو ختم کیا جائے
یا اسے صوبوں کے حوالے کر کے ہر صوبے کو اپنی ضروریات کے مطابق اصلاحات کا اختیار دیا جائے،
اور امداد کے ساتھ ہنر، روزگار چھوٹے کاروبار تعلیم اور صحت کو لازمی جوڑا جائے تاکہ لوگ مستقل طور پر خود کفیل بن سکیں، نہ کہ ہمیشہ امداد کے محتاج رہے
(خالد حسین تاج کی وال سے کاپیڈ)
سعودی عرب میں حضرت عمر فاروقؓ کے نام سے منسوب تقریباً 1400 سال قدیم ایک تاریخی کتبہ دریافت ہوا ہے، جس پر درج ہے: 'اللّٰہ تعالیٰ عمر بن خطابؓ کا دنیا و آخرت میں مددگار ہے۔'
یکم محرم الحرام
یومِ شہادت خلیفہ دؤم، مراد رسول، امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ
#محرم_1448هـ
@Shine__Stine جناب کی زبان مبارک ثابت ہوئی ہے، 15 میں سے 9 مقدمات سے بریت مل چکی، باقی 6 میں بھی باعزت بری کیا جائیگا اور مقدمہ گرفتار کرنے والوں پر ہوگا۔۔۔۔۔ 😎
بھئی واہ 😄