Overseas PTI official account.we support @imrankhan. we believe on democracy and justice. Pakistan Zinda baad.long live Pakistan
our Red line Imran khan
شاید کوئی عقل مند آجاتا۔ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرلیتا۔ فوج ٹڈی دل پر سپرے کرکے قوم پر احسان چڑھاتی رہتی۔ جرنیل پلاٹ بانٹتے رہتے۔ فوج چلغوزے اگاتی رہتی۔ قوم بھوک سے مرتی رہتی۔ ٹی وی چینلز پر سیاستدان گلے پھاڑتے رہتے۔
جو اذیتیں اٹھائی ہیں ان کا کرب اپنی جگہ۔ فوج کے پردے چاک ہونا باعث رحمت رہا۔
مجھے ISI نے اٹھایا میں قاضی فائز عیسیٰ کی منتیں کرتا رہا کہ میں انگلی پکڑ کر اس عقوبت خانے کے کر جاسکتا ہوں لیکن مجھے نہیں سنا گیا مجھ پر 16 دن ٹارچر کرتے رہے کہ ویڈیو بنا کر دوں کہ میں اپنی مرضی سے کہیں چلا گیا تھا میں اندازے سے دن گنتا تھا اور جب رہا ہوا تو 142 دن کا اندازہ درست ثابت ہوا ۔
- عمران ریاض خان -
Former Prime Minister Imran Khan's Important Message to the Nation from Adiala Jail - February 1, 2025
"You were robbed of your mandate on February 8th (2024). Therefore, you must take to the streets and observe this date as a ‘Black Day.’
Farmers, laborers, lawyers, and citizens from all walks of life must come out on February 8th to protest the blatant theft of their rights because a nation in chains has no future. Struggle is essential to breaking the shackles of slavery.
This nation’s mandate was stolen on February 8th, plunging the country into gloom and despair. Pakistanis came out in droves and voted for Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) overcoming all hurdles and challenges, but their votes were trampled upon, and democracy was attacked. Democracy has been shackled in this country and human rights have been brutally violated.
Overseas Pakistanis must reduce their foreign currency remittances as protest until democracy is restored.
Justice is essential to saving democracy. This is why we demand a judicial commission to investigate the events of May 9th (2023) and November 26th (2024), so the victims and their families can get justice. It takes moral courage to deliver justice. Where moral strength exists, justice prevails. A true leader possesses moral strength. Democracy is based upon the principles of ethics, yet the current government completely lacks them. They, in cohorts with their handlers, orchestrated the biggest robbery in history, depriving the people of their right to elect their representatives. To cover up their heist, an illegitimate and incomplete parliament is continuously legislating to suppress the truth and extend their illegitimate rule.
The Constitution has been shredded to bits, freedom of speech has been severely curbed, and laws like the PECA Amendment have been enacted to silence dissent against their fascism. After subjugating electronic media, they are now restricting social media, causing the country billions in losses. The 26th Constitutional Amendment has clipped the judiciary’s wings, judges are being pressured, and human rights are being grossly violated. Peaceful political workers are being treated like beasts.
The actual duty of intelligence agencies is to protect the borders and prevent terrorism. If they remain engaged in political engineering and dismantling PTI, then who will defend our borders?
Terrorism is resurging in Balochistan, yet no political solution is being sought. Unless and until a government based on public trust is established, it is impossible to get stability across the country, including in Balochistan."
“When all organs and agencies of the state that are mandated by the law to exercise power in order to safeguard life, liberty and democracy stand subjugated by brute force and are acting in aid of persecution and fraud. It is the duty of the Supreme Court of Pakistan to intervene.”
Writes the Former Prime Minister Imran Khan in his letters to the Chief Justice of Pakistan, Justice Yahya Afridi, and the head of the constitutional bench, Justice Amin Ud Din Khan, urging the Supreme Court to exercise its constitutional authority to safeguard the fundamental rights of the people of Pakistan. In his letter Imran Khan shares pictorial as well as documentary evidence of some of the ongoing murders, injuries, abductions and torture carried out against members and supporters of the Pakistan Tehreek-e-Insaf.
Below is the link to access copies of these letters sent by Imran Khan.
https://t.co/a8CncoDFIr
میں ان لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اپ کی غلط فہمی ہے 24 نومبر کو جو اپ نے ہمارے ساتھ کیا ہم یہ تصور نہیں کر رہے تھے۔ ہم ان اداروں کو اپنا سمجھ رہے تھے ہم اس ملک کو اپنا سمجھ رہے تھے ہم اس لیے گولی کھا کے آگئے۔
ہمیں پتہ ہے کون بھاگتا ہے اور کب بھاگتا ہے ہمیں نہ بتائے اس دفعہ انشاءاللہ تعالی جب ہم ائیں گے تو ہمیں یہ پتہ ہوگا کہ ہم نے گولیاں کھانی ہے پہلی دفعہ ہماری تیاری گولی کھانے کی نہیں نہیں تھی۔ صوبائی صدر جنید اکبر خان
تاریخ گواہ رہے گی کہ جب آئین کی اصل روح نکال دی گئی تھی، عوام کے مینڈیٹ چرایا جا چکا تھا، بنیادی انسانی حقوق تاریخی کی پست ترین سطح پر تھے اور عدلیہ کی تقسیم انتہا پر تھی اس وقت پاکستان کے چیف جسٹس نے بجائے ان مسائل کی جانب متوجہ ہونے کے سپریم کورٹ کے ٹک ٹوک اکاونٹ کی جانب توجہ دی اور حکم دیا کہ سپریم کورٹ کا ٹک ٹاک اکاونٹ اور انسٹا گرام اکاونٹ مکمل طور پر چلائے جائیں ۔ سبحان اللہ
سرور باری صاحب نے وہی بات کی جو میں گزشتہ کئی سالوں سے کہہ رہا ہوں کہ RTS بند کرکے ن لیگ کو فائدہ پہنچایا گیا جس کے بعد نواز شریف اینڈ کمپنی نے چور مچائے شور والا فارمولہ لگا کر انتخابات کو متنازعہ بنانے کی سازش کی۔
عمران بھائی شکریہ کس بات کا، ایک بھائی نے بھائی کا فرض نبھایا ہے آپ ہمارے مہمان تھے اور آپ کی جان و عزت کی حفاظت ہم پر فرض تھی، اپنے ساتھیوں، قبیلے اور افغان بھائیوں کا تاحیات شکر گزار و مقروض رہوں گا کہ انہوں نے ہمیشہ کیطرح مجھے عزت دی اور میرے بھائی کی حفاظت کی، سلامت رہیں 🙏
شہباز شریف کی مثال کوے کی طرح ہے خود گند کھاتا ہے اور چونچ ہلاتا ہے ایک طرف مذاکرات کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف 24 نومبر کے بے گناہ کارکنان کو اتنے دنوں کے بعد دوبارہ نئے جعلی مقدمات پر ریمانڈ پر تھانوں کو منتقل کردئیے۔
9 اپریل 2022 کو رات 9 بجے سے رات 12 بجے تک ملک کا وزیراعظم تو عمران خان تھا مگر حکومت کس کی تھی؟ کس نے عدالتیں کھلوائیں؟ کس نے تحریکِ انصاف کےلوگوں کے نام ECL میں ڈلوائے؟ کس نے پرزن وینز منگوائیں؟ کس کا حکم چل رہاتھا؟
#ہمارا_سیاست_سے_کوئی_تعلق_نہیں#PakistanUnderMilitaryFascism
یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ آپ ہمیں ڈرا سکتے ہیں آپ ہمیں ننگا کر سکتے ہیں آپ ہمیں مار سکتے ہیں آپ جو کرنا چاہتا ہیں کر سکتے ہیں لیکن ہمارے دلوں سے عمران خان نہیں نکال سکتے نہ ہی جھکا سکتے ہیں۔ :صوبائی صدر جنید اکبر خان
ورکر کمزور ہیں یہ ورکر اپ کے مقابلے میں نہیں لیکن جو نفرت ہمارے سینوں میں اپ کے لیے ہیں میں یہ میرے پاس آپ کی امانت ہے میرے پاس اپ کی امانت ہے میرے پاس اگر میں انتہائی کمزور ہوا تو میں اپنے بچوں کو یہ اپ کی نفرت ہے یہ میں وراثت میں دے دوں گا مجھے میں اپ سے وعدہ کرتا ہوں یہ اپ نے جو اس ملک کے ساتھ کیا جمہوریت کے ساتھ کیا اس کا اپ کو جواب دینا ہوگا۔ صوبائی صدر جنید اکبر خان
حکومت کی مجبوریاں کا مجھے نہیں پتہ لیکن میں ہر اس شخص کو جس نے 9 مئی کے بعد میرے ورکر کو رلایا میں اس کو رونا دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالی مجھے وہ اختیار دے ایک ایک شخص کو نہیں بھولا چاہے شانگلہ، دیر، ملاکنڈ جہاں بھی ہوں، کسی غلط فہمی میں نہ رہے اچھی بات بھول جاتا ہوں لیکن بری چیز کبھی نہیں بھولتا۔ 10 سال گزارے 20 سال گزارے میرا اپ سے وعدہ ہے کہ جو بھی جس پوزیشن پہ ہے جب بھی میرے اختیار میں کچھ ایا میں اپ کو نشان عبرت بناؤں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔ خدا کی قسم ایک ایک چیز یاد ہے تکلیف میں ہوں جب یہ دیکھتا ہوں کہ میری حکومت میں آپ آرام سے ہے میں آپ کو رونا دیکھنا چاہتا ہوں۔ انشاءاللہ مثال بناو گا آپ کو۔ :صوبائی صدر جنید اکبر خان
اگر میں غائب ہوگیا تو بحثیت صوبائی صدر ملک بند کرنے کا لائحہ عمل بتاتا ہوں شانگلہ، کوہستان، بٹگرام والے شاہراہ ریشم بند کردیں پشاور ریجن کے لوگ اٹک پل بند کردیں فاٹا والے افغانستان سے آنے والا راستہ بند کردیں اور ساوتھ ریجن موٹروے بند کردیں۔ صوبائی صدر جنید اکبر خان
عمران خان نے شادی پر ڈھول بجانے کیلیے مھجے صدر نہیں بنایا بلکہ جعلی نظام کے خاتمے کیلئے آیا ہوں۔ صوبائی صدر جنید اکبر خان
۸ فروری کے احتجاج کی تیاری میں مختلف حلقوں میں کارنر میٹنگز اور فلیش پروٹیسٹ ہورہے ہیں۔ آئندہ آنے والے دنوں میں آپ کو ان میں مزید تواتر دیکھنے کو ملے گا۔ اس کے علاوہ آئی ایس ایف او یوتھ کی ممبر سازی مہم کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ گذشتہ رکنیت سازی مہم کے نتیجے میں بننے والے ۲۷ لاکھ ممبران کو فعال کرنے کے لیے ان سے رابطے اور پارٹی سطح پر ممبر شپ مہم کا بھی جلد آغاز کیا جائیگا۔ ہماری تحریک اس وقت پاکستانی قوم کی آئین و قانون کی بحالی، جمہور کی حکمرانی اور ملک کے روشن مستقبل کی اکلوتی امید ہے۔ اس لیے جہاں گراؤنڈ پر احتجاج کی تیاری جاری ہے وہیں سوشل میڈیا ایکٹویسٹس اور بیرون ملک مقیم پاکستانی یہ سوال اٹھاتے رہیں کہ #گولی_کیوں_چلائی اور اسی شدت کے ساتھ ناحق اسیران کی رہائی کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں۔ اپنے آج اور اپنی جانوں کو داؤ پر لگا کر یہ ہمارےمستقبل کے لیے نکلے تھے، ان شہیدوں اور ان اسیران کو انصاف دلانا ہمارا فرض ہے۔ گرفتار کارکنان کی رہائی کے لیے پارٹی سطح پر اور انفرادی کوششیں ہورہی ہیں۔ اسلام آباد سے گرفتار متعدد کارکنان رہا ہوچکے ہیں تاہم پنڈی ریجن سے گرفتار ہونے والے افراد آج بھی اٹک اور جہلم وغیرہ کی جیلوں میں مقید ہیں۔ ان کارکنان کے خلاف ایک ایک فرد پر ۷-۸ مقدمے درج کیے گئے ہیں۔ ان کی رہائی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے لیے بھی اپنے تئیں ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو ان سے رابطے میں ہیں۔
آپ کی معلومات کے لیے بتا دوں کہ ۲۶نومبر کے قافلوں میں شریک گاڑیاں جن میں بیشتر کو یا تو رینجرز اور سیکیوریٹی فورسز نے توڑ دیا تھا یا انہیں آگ لگا دی گئی تھی، ان کی علاوہ جن گاڑیوں کو قبضے میں لیا گیا تھا ان کی واپسی کے لیے پہلے پیسے مانگے گئے۔ اور جب قانونی راستے سے ان کی واپسی کا حکم نامہ حاصل کیا گیا تو ان گاڑیوں کے پارٹس یہاں تک کہ ٹائرز تک چرا لیے گئے۔ یہ قتل و غارتگری یہ ننگی فسطائیت، یہ بدمعاشی صرف اور صرف آپ کا حوصلہ توڑنے کی کوشش ہے۔ آپ کو کبھی دہشتگرد، کبھی انتشاری، کبھی ملک دشمن کہہ کر ہر پریس کانفرنس ہر ٹاک شو میں نشانہ اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ تمام بڑے چینلز پر اپنی اجارہ داری قائم کرکے اربوں روپے کا پراپگینڈہ اور ریاستی مشینری کا استعمال بھی آپ کے بولے اس سچ کے سامنے ہیچ ہے جس کی ترویج کے لیے نہ فالس فلیگ کرنے پڑتے ہیں، نہ چادرو چاردیواری پامال کی جاتی ہی نہ ماورائے قانون اغوا اور گرفتاریاں کی جاتی ہیں۔ ارشد شریف نے کیا خوب کہا تھا ”یہ تو آئینہ ہے، اگر اس میں آپ کی شکل بری نظر آرہی ہے تو آئینہ مت توڑیں۔ اپنے خدوخال درست کریں“۔ جہاں غاصب مافیہ کے لیے مناسب ہوگا کہ اس تلقین پر غور کر لے (کیونکہ جبر سے جمہور کیا زیر ہونا تھا اپنے نقش مٹنے کی نوبت آگئی ہے) وہاں آپ بھی اپنی طاقت کا ادراک کریں۔ اپنا نشانہ درست اور توجہ منزل پر مرکوز رکھیں۔ سفر طویل ضرور ہوگیا ہے مگر بے منزل نہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام اہم پیغام
“آٹھ فروری کو آپ کا مینڈیٹ چرایا گیا لہذا اس روز کو بطور یوم سیاہ منانے کے لیے آپ سب کو نکلنا ہو گا۔
کسانوں، مزدوروں، وکلاء اور ملک کے ہر مکتبہ فکر سے منسلک افراد کو 8 فروری کو نکل کر اپنے حق پر ڈالے گئے ننگے ڈاکے کے خلاف احتجاج کرنا ہو گا کیونکہ غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا اور غلامی سے نجات کے لیے جدوجہد ضروری ہوتی ہے ۔
آٹھ فروری کو اس قوم کا مینڈیٹ چرا کر ملک کو اندھیروں میں دھکیلا گیا۔ پاکستانی قوم نے تمام تر مشکلات کے باوجود جوق در جوق نکل کر تحریک انصاف کے حق میں ووٹ ڈالا مگر آپ کے ووٹ کو پیروں تلے روند کر جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ ملک میں جمہوریت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔
اوورسیز پاکستانی جمہوریت کی بحالی تک ترسیلات زر میں کمی لا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں-
جمہوریت بچانے کے لیے انصاف ناگزیر ہے، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کا ہمارا مطالبہ اسی لیے ہے تاکہ ان واقعات کے متاثرہ افراد اور خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ انصاف دینے کے لیے اخلاقی جرأَت کا ہونا اہم ہے۔ جہاں اخلاقی قوت موجود ہو گی وہاں انصاف بھی ہو گا۔ ایک حقیقی لیڈر میں اخلاقی قوت موجود ہوتی ہے۔ جمہوریت کی بنیاد ہی اخلاقیات پر ہے۔ موجودہ حکومت اخلاقیات سے بالکل عاری ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ہینڈلرز کے ساتھ مل کر تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ مار کر عوام کو ان کے نمائندگان چننے کے حق سے محروم کیا۔ اس ڈاکے کی پردہ پوشی کے لیے مسلسل جعلی اور نا مکمل پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کی جا رہی ہے تاکہ حق اور سچ سامنے نہ آئے اور ان کے جھوٹے اقتدار کو طول ملتا رہے۔ ملک میں آئین کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں، آزادی اظہار رائے پر پابندی ہے، پیکا جیسے قوانین منظور کیے گئے ہیں تاکہ کوئی ان کی فسطائیت کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے، الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا پر پابندی لگا کر ملک کو اربوں کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹ دئیے گئے ہیں، ججز پر دباؤ ڈالا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جا رہی ہے۔ پر امن سیاسی کارکنان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟
بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، استحکام ممکن نہیں ہے”
190 ملین پاؤنڈ کیس میں مجھے نواز شریف مستقبل میں جیل جاتے نظر آرہے ہیں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی 9 ارب کا فلیٹ 18 ارب میں کوئی کیوں لیگا وہ بھی وزیر اعظم کے بیٹے سے؟؟