ظلم، زیادتی، قتل و غارت، ڈکیتی کو جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے، یہ لوگ گولیاں چلا کر حکومت چلانا چاہتے ہیں، لاشیں گرا کر اپنی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ بلاول زرداری
بھارتی مسلمانوں کا غم چھوڑیں جو اپنے ملک کے مسلمانوں سے ہورہا نورانی صاحب اس پر لب کشائی کریں۔ صحافت اور صحافی یتیم نہیں ملک میں ہم نے سیاست دانوں کو نئے نئے باپ چنتے ضرور دیکھا ہے۔ اصولوں کا سبق دینے سے قبل سیاست بتائیں کہ ہماری ملک کی سیاست کا اصول کیا ہے؟ آپ کا اصول کیا ہے؟
نواز شریف، آصف زرداری، عمران خان، مولانا فضل الرحمان یہ سب بیٹھ جائیں، مل کر حکومت بنا لیں، سب جتنا مرضی سوچیں، موجودہ سسٹم مکمل collapse کر چکا ہے، یہ ناقابلِ واپسی ہے، ungovernable ہے
اطلاعات کے مطابق آزاد جموں کشمیر میں،مقبوضہ جموں کشمیرجیسا خونی منظر ہے۔وہاں تو انڈین فوج کے ہاتھوں عوام کا خون بہایا جا رہا ہے۔یہاں تو انڈین فوج نہیں،پھر اپنے کشمیری بھائیوں کا خون کس جرم میں بہایا جارہاہے؟
کیا ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب خونی اسٹیٹ ہے یا فلاحی اسٹیٹ؟
راجہ جی جیسے 8 فروری پولنگ کے بعد پولنگ اسٹیشنز پر ٹرن آؤٹ 99 فیصد تک پہنچا تھا، بالکل ویسے ہی آزاد کشمیر میں بھی 90% ہو گیا ہو گا۔ اس میں رونے والی کون سی بات ہے
بیماری کا جھوٹا بہانہ بنانا،باہر چلے جانا،وہاں پرسوٹڈ بوٹڈ ہوکر واک کرنا،علاج کے نام پر ریسٹورنٹ جا کے کھانے کھانا،پارٹی کی میٹنگز کرنا یا ہسپتال شفٹ ہو جانا،اس سے مردانگی سے جیل کاٹنا کہتے ہیں؟ ہیں ناں
کل سے شیخوپورہ کے درجنوں دیہات اور لاہور شیخوپورہ کے درمیاں واقعہ کالونیاں اور رہائشی سوسائٹیز زیر آب ہیں تین بچوں کی موت ہوچکی ہے۔ کھڑی فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔ فلاحی تنظیمیں کیمپ لگا رہیں ہیں۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کہاں غائب ہیں سیلاب سے قبل اس صورتحال کا زمہ دار کون ہے؟
یہ”ہارڈ سٹیٹ “ کی تھیوری پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ جِس خِطہ میں مختلف قومیں اور زبانیں بولنے والے لوگ ہوں وہاں ہارڈ سٹیٹ نہیں بنا کرتے۔ ہم مصر و چین نہیں اور نہ ہی شمالی کوریا۔ یہاں صرف ایک دوسرے سے تعاون کی بنیاد پر ہی ریاست چل سکتی ہے اور افراد اور قوموں کے درمیان تعاون کا ہی دوسرا نام آئین ہے۔
آزاد کشمیر ، بلوچستان ، خیبر پختونخواہ لہو لہان ہیں۔ آزادیاں چھین لی گئی ہیں۔ الیکشن بے معنی ہو گئے ہیں اور معیشت تباہ حال ہے۔ یہ”فیلڈ سٹیٹ “ کی نشانیاں نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمیں ہارڈ سٹیٹ کی نہیں ، ایک آئینی سٹیٹ کی ضرورت ہے۔ لوگوں اور قوموں کے حقوق کی ضامن۔
ہر بات کا جواب جیل یا گولی نہیں ہوتا۔ عقل کو ہاتھ دیں، پاکستان کسی بڑے سانحہ”Implosion “ سے اَب کُچھ زیادہ دور نہیں۔
کل سے شیخوپورہ کے درجنوں دیہات اور لاہور شیخوپورہ کے درمیاں واقعہ کالونیاں اور رہائشی سوسائٹیز زیر آب ہیں تین بچوں کی موت ہوچکی ہے۔ کھڑی فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔ فلاحی تنظیمیں کیمپ لگا رہیں ہیں۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کہاں غائب ہیں سیلاب سے قبل اس صورتحال کا زمہ دار کون ہے؟