میں آپ کو بتاؤں عمران خان صاحب کے پاس جو پلان لے کے گئے تھے، میں ساتھ تھا اس میں۔ عمران خان صاحب نے اس سے پہلے کہ یہ لوگ، پانچ چھ لوگ تھے ہم۔ سلمان اکرم راجہ صاحب تھے، علی امین گنڈاپور صاحب تھے، صاحبزادہ حامد رضا میرا بھائی جو بے گناہ جیل میں ہے، تو خان صاحب نے بیٹھتے ہی کہا، "میں نے، پہلے میری بات سنو، میں نے بنی گالا نہیں جانا ہے۔"
"میں نے کوئی کمپرومائز نہیں کرنا ہے۔ میرے ساتھ والے لوگ جو ایک جملہ لکھ کے دے دیتے باہر آ جاتے۔ وہ جیل میں رہیں اور میں جنابِ والا ڈیل کر کے تو جا کے ادھر بیٹھ جاؤں؟ میں نہیں جاؤں گا۔ اور یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔" "میں پہلے وقت نہیں ہوتا تھا، قرآن پڑھتا ہوں تو پہلے ایک ترجمہ ابھی میرے پاس کئی ترجمے ہیں یا تفسیریں ہیں، مجھے اب صحیح یاد نہیں ہے۔" چار پانچ کی انہوں نے بات کی تھی۔ "دعا کرتا ہوں، پہلے نماز جلدی جلدی پڑھتا تھا، اب اطمینان سے نماز پڑھتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں۔ یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔
قائد حزب اختلاف سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
دنیا میں بچے جنم دیتے ہوئے جو خواتین کی اموات ہوتی ہیں، پاکستان میں اس کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ چھوٹے شہروں میں ماں اور بچے کی صحت کے لیے ہسپتال نہ ہونا ہے، اس لیے میانوالی میں "مدر اینڈ چلڈرن" ہسپتال بنایا گیا ہے۔ یہ صرف میانوالی کے لیے نہیں بلکہ قریبی اضلاع بلکہ کے پی کے علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت کی خواتین کے لیے بھی سہولت فراہم کرے گا جنہیں حمل یا زچگی کے دوران پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔
عمران خان صاحب کی میانوالی "مدر اینڈ چلڈرن" ہسپتال کی افتتاحی تقریب کے موقع پر گفتگو۔
یاد رہے آج اس ہسپتال کا سٹیٹس تبدیل کر کے اس میں ڈسٹرکٹ ہسپتال شفٹ کر دیا گیا ہے، عمران خان کے نام کی افتتاحی تختی اتار کر کوڑے میں پھینک دی گئی ہے اور میانوالی سمیت قریبی اضلاع کی خواتین اور بچوں کی زندگیوں کو بچانے والی اس امید کی کرن کا دیا بجھا دیا گیا ہے۔
فارم 47 کے ان چوروں کی گھٹیا حرکتیں عمران خان کا نام تاریخ سے نہیں مٹا سکتیں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
“ان ظالم لوگوں کو اللّہ عبرت کا نشان بنائے گا، ہمارے دل سے تکلیف کے ساتھ یہ بددعا نکلتی ہے کہ اللّہ ان کو عبرت کا نشان بنائے۔ میرا بیٹا بھی فوجیوں کی قید میں ہے جہاں عدالت بھی کچھ نہیں کرسکتی۔ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونا ہی بہت بڑا جرم ہے۔ یہ خوفزدہ ہیں اس لیے انہوں نے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔ جو انہوں نے کیا ہے ان کا حساب ہو گا انشاءاللّہ۔ اڈیالہ جیل انہی سے بھری ہو گی۔”
- @Noreen_KhanPK
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
#حق_کی_جیت_ہو_گی
Imran Khan and Asim Munir are sworn enemies, but their fates are intertwined. Register for free to learn how the pair are battling for control of Pakistan’s politics https://t.co/sJxviu8zXy
For now Imran Khan sits in a seven-by-eight-foot cell, with only an exercise bike and a few books for company. But the former prime minister could still have a hand in the fate of Pakistan’s leadership https://t.co/xOv7t2XwLs
پہلے قوم کو سیاسی شعور دینے والے محسن قائد عمران خان کو پسِ زندان ڈالا گیا، پھر ایمان مزاری کی آواز کو زنجیروں میں جکڑا گیا، اس کے بعد مہرنگ بلوچ اور اب شوکت نواز میر کو بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر دبائی گئی آواز کے بدلے کئی نئی آوازیں جنم لیتی ہیں۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت اور جبر سے نہیں، بلکہ دلیل، انصاف اور آئین کی بالادستی سے دیا جاتا ہے۔ گرفتاریاں نظریات کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ انہیں مزید مضبوط اور توانا بنا دیتی ہیں۔آوازِ حق کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ سچ ہمیشہ اپنی راہ خود بنا لیتا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک بوکھلائے ہوئے اور خوف زدہ نظام کی بے بسی کی علامت ہیں۔
یہ آوازیں اب کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں رہیں، بلکہ اس دھرتی کے ہر مظلوم، ہر محروم اور ہر پسے ہوئے انسان کی دھڑکن بن چکی ہیں۔
جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوتے تھے جہاں خواتین کو معاف کر دیا جاتا تھا، مگر آج کا فاشزم ہر حد پار کر چکا ہے، ظالم نظام کے خلاف کھڑا ہونے والا چاہے بچہ ہو بزرگ ہو یا خاتون اس کو کچلنے کے لیے یہ یزیدی پیروکار ہر حد کراس کر جاتے ہیں۔ عمران خان کو ٹارچر کرنے کے لیے بشریٰ بی بی کی قید اور علاج سے محرومی، ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی کینسر کی مریض بزرگ خاتون اور پی ٹی آئی کی دیگر بہادر خواتین کی بے جرم اسیری ختم ہونے کو نہیں آرہی، یہ ظلم تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔
ہر پاکستانی کو چاہے وہ دنیا میں کہیں بستا ہو عمران خان پر فخر ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا: "جب قوموں پر عاصم منیر جیسے درندے مسلط ہو جائیں تو پھر کسی کو اپنے کندھوں پر وزن اٹھانا پڑتا ہے۔ عمران خان آپ سب کا وزن اٹھا رہا ہے۔"
#PTIUSAProtest #FreeImranKhan
"عمران خان کا جرم کوئی مالی کرپشن یا آئین شکنی نہیں، ان کا اصل جرم وہ اصول ہیں جن پر انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہیں سزا مل رہی ہے "لا الہ الا اللہ" کے نظریے پر ڈٹ جانے کی، حرمتِ رسول ﷺ کا مقدمہ دنیا کے سامنے لڑنے کی، اور مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھانے کی۔ انہیں قید تنہائی میں اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کیا اور غیر ملکی ڈکٹیشن پر "ایبسلوٹلی ناٹ" کہنے کی جرات کی۔ یہ سزا ایک فرد کو نہیں، بلکہ پورے پاکستان کی خودمختاری و حقیقی آزادی کے خواب کو دی جا رہی ہے۔"
یہ درس کربلا کا ہے، خوف بس خدا کا ہے
وہ ڈٹا ہوا ہے آج بھی، انکارِ حسینؑ کی طرح
لرزتا ہے خدائی کا دعویدار جس کے خوف سے
وہ کھڑا ہے باطل کے سامنے اک دیوار کی طرح
#حسینی_خان_بمقابلہ_یزیدی_نظام
اللہ کی فوج کے سربراہ نے ناحق قید میں ، ملک کے ہیرو اور سابق وزیراعظم عمران خان سے تمام سہولیات چھین کر، ملاقاتوں پر پابندی لگا کر اور ان کے ساتھ جیل میں ہر طرح کا غیر انسانی سلوک کرنے کے بعد، ان کی عید کی نماز اور اور جمعہ کی نمازوں پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔۔!!
#ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح
حقیقی آزادی کا مطلب قانون کی حکمرانی ہے اور قانون کی حکمرانی کا مطلب محض عمران خان کا حکومت میں آنا نہیں ہے۔ حقیقی آزادی میں پولیس مقابلوں ، فل فرائی ، ہاف فرائی ، نیفے میں پستول چلنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
نام لیکر کہنے سے کیا حاصل ، وہ تمام صحافی جو بظاہر تحریک انصاف ، یا عمران خان ، یا پھر حقیقی آزادی کے داعی بنے ہوئے ہیں وہ جانے مانے چہرے اگر ماورائے عدالت قتل ، پولیس مقابلوں پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں تو تسلی رکھیے یہ سب اچھے جرنیل کے انتظار میں ہیں ، اندر کھاتے کچھ نا کچھ وصول پا رہے ہیں ، یا وقت بدلنے پر وصول پانا شروع کردیں گے۔
یہی وہ نیم دروں نیم بروں ہیں جو وقتا فوقتا ٹھنڈی ہوائیں بھی چلاتے ہیں ، “ سیاسی اختلاف “ کو بالائے طاقت رکھتے ہوئے غاصبوں اور ظالموں کا دفاع بھی کرتے ہیں۔ اپنے کانسیپٹس کلئیر رکھیں۔ حقیقی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو بالاتر رکھیں۔
Former Governor Punjab Omar Sarfraz Cheema has been sentenced to nearly 300 years under #AsimLaw as he’s stood with Imran Khan for democracy and rule of law in Pakistan. #ShameOnJudges
آپ کو تو آرام اور طریقے سے بات کرنی چاہیے تھی۔ اب جس انداز میں وہ کہہ رہے تھے کہ جی فلانی ڈبل روڈ ہم نے دی ہے بلوچستان میں؛ بلوچستان کی سوئی گیس کے ٹریلینز آف ٹریلینز آف ڈالرز آپ لے گئے ہیں۔ اگر آپ پورے بلوچستان کی سڑکیں پکی کر دیں اور پورے بلوچستان کو سولر دے دیں، پھر بھی آپ بلوچستان کی گیس کے مقروض رہیں گے۔
آپ کے پاس وقت بہت تھوڑا ہے۔ ہمارے ارد گرد کے علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہت بڑی بربادی ہے۔ اس کی تیاری کے لیے، خدا کے لیے اپنے لوگوں پر بھروسہ کریں۔ لوگوں کو آپ سے کچھ نہیں چاہیے؛ جس طرح قیصر بھائی نے آپ سے کہا کہ پشتونخوا وطن اور بلوچستان کے لوگ سینٹرل ایشیا کے ذریعے اپنی تجارت کر کے خود کو پالتے تھے۔ وہ خود اپنا پیٹ پالتے تھے، لیکن آپ نے اس پر پابندی لگا دی اور اس چکر میں آپ نے پنجاب کے زمیندار کو بھی فارغ کر دیا۔
ہم پر آپ فوراً غدار کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔ میرے بھائی نے کہا تھا کہ "پاکستان ہے تو ہم ہیں"، جی ہاں، شہباز بھائی یہ بات 100 فیصد درست ہے۔ لیکن پاکستان آسمان پر لٹکی ہوئی کوئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان کا مطلب بلوچستان ہے، پاکستان کا مطلب خیبر پختونخوا ہے، پاکستان کا مطلب سرائیکی علاقہ ہے، پاکستان کا مطلب سندھ ہے اور پاکستان کا مطلب پنجاب ہے۔ جب یہاں خوشی ہوگی، جب یہاں امن و امان ہوگا، تب ہی پاکستان میں امن ہوگا۔
کشمیر کے لوگ آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ ان کے مطالبات کیا ہیں؟ خدا کے لیے شہباز بھائی، میں شریف لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہاں کوئی وفد (ڈیلیگیشن) بھیجیں اور انہیں سمجھائیں۔ آپ پاکستان کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
@MKAchakzaiPKMAP
This verdict, which is an affront to the right to a fair trial, demonstrates how Pakistan’s anti-terrorism laws are being cynically misused to silence peaceful dissent.
https://t.co/X2cpyNzCG0