جس جس پولیس اہلکار نے عدالت میں جھوٹی گواہیاں دیں اور جن جج حضرات نے اوپر سے ڈکٹیشن لے کر بے گناہوں کو سزائیں سنائیں ان کے لئے یہ احادیث بہت اہم ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
۱) عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ
ترجمہ: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کے برابر ہے
2) يُوقَفُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَرِجْلَاهُ فِي النَّارِ حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَ النَّاسِ، ثُمَّ يُهْوَى بِهِ فِي النَّارِ”
ترجمہ: قیامت کے دن جھوٹی گواہی دینے والے کو روکا جائے گا، اس کے قدم آگ میں جمی ہوں گے، جب تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ ہو جائے۔ پھر اسے جہنم میں گرا دیا جائے گا۔
3) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“القُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَاثْنَانِ فِي النَّارِ؛ رَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّار��، وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ.”
(ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)
⸻
ترجمہ:
قاضی تین قسم کے ہیں:
1. وہ قاضی جس نے حق کو پہچانا اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا، وہ جنت میں ہے۔
2. وہ قاضی جس نے حق کو پہچانا مگر جان بوجھ کر اس میں ظلم کیا (جھوٹا فیصلہ دیا)، وہ جہنم میں ہے۔
3. وہ قاضی جس نے بغیر علم کے فیصلہ کیا، وہ بھی جہنم میں ہے۔
منیب فاروق ایک بے شرم ڈاکیا… ضمیر بیچ کر ٹاؤٹ گیری کرتا ہے! عوام کے دماغ میں بٹھاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سب کچھ ہے، اور عوامی نمائندے کچھ نہیں! ایسے دو ٹکے کے، بے کریڈِبل لوگ ذکر کے لائق بھی نہیں!مطیع اللہ جان
ہمیں اسوقت تک حقیقی آزادی نہیں ملے گی جب تک ہم انگریزوں کے قوانین سے نجات نہیں پاتے دفعہ 144 انگریز کا قانون ہے اسکوختم کرنا ہماری پارلیمنٹ کا فرض ہے ارکان پارلیمنٹ قائداعظم کی تقاریر پڑھیں اوران تمام نو آبادیاتی قوانین سے پاکستان کو نجات دلوائیں جن کے خلاف قائداعظم نے جدوجہد کی