اَستَغفِرُاللّٰہ اَستَغفِرُاللّٰہ اَستَغفِرُاللّٰہ
یا اَللّٰہ ہمیں معاف فرما ہمارے حال پر رحم فرما اور ہمیں اس اور ایسے فتنے سے محفوظ فرما🙏 ۔آمین سمہ آمین
یوتھیوں اورفتنےخان کولعن تعن کرنےکےلیے کیایہ ثبوت کم ہے..
کس طرح اس نےنابالغ سیاسی بچوں کواپنی حرص کاشکاربنایاایک بدکرداربدبخت زناٸی شخص کوصادق امین ریاست مدینہ کامہاتما پیش کیا
حقیقتاجج صاحب کوبھی پتہ تھایہ ایک فتنہ ہے ..👇
_اِس طر�� نہیں کرتے، رابطہ تو رکھتے ہیں.؛_
_تھوڑا مِلنے جُلنے کا، سِلسلہ تو رکھتے ہیں!!_
_منزلیں بُلند ہوں تو، مُشکلیں بھی آتی ہیں.؛_
_مُشکلوں سے لڑنے کا، حوصلہ تو رکھتے ہیں!!_
_جو تُمہارے اپنے ہوں، تُم سے پیار کرتے ہوں.؛_
_اُن کا حال کیسا ہے، کُچھ پتہ تو رکھتے ہیں_
صحافی فخر درانی نے را کی ایجنٹ لڑکی کی تمام کالز ریکارڈ کر لیں تھیں مکمل ثبوتوں ساتھ سٹوری بریک کی ھے را کی ایجنٹ لڑکی ساتھ ھونے والی گفتگو کی سنیں اور سوچیں قاسم سوری ،عمران ریاض اور صابر شاکر کیسے پاکستان سے باہر گئے
چائـے ☕ جــیسا کردار ہــے میــرا، کسی کو حـد سـے زیادہ پسنـد ہوں، تو کـسی کو نام سـے ہی نفــرت ہـــے...!!
وقـت قلیـل، باتیـں طویل، شکـوے ہزار۔۔۔ پـر جانـے دیجئـے، چائـے پیجیئـے!!♥️🤌🏻
آسام میں بھارتی فوج کے ایک اہلکار نے سکول کم عمر طالبہ کو ہراساں کیا جس پر مقامی لوگوں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ کر خوب چھترول کر دی۔یہ انڈین حرامی مقبوضہ کشمیر میں بھی یہی کچھ کرتے ہیں، انڈیا غلاظت کا دوسرا نام ہے۔
یہ مسلمان نوجوان جنتر منتر میں آئے طلبہ کو پانی پلاتا ہے کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتا ہے پولیس نے اس کے گھر سے اس کے والد کو اٹھالیا ۔ اس کے بہن کے سُسر کو اٹھا کر لے گئے اور اب پولیس کہہ رہی ہے کہ اس بندے کو پیش کرو تو ان کو چھوڑیں گے ۔ حالانکہ اس کا کوئی جُرم بھی نہیں ہے ۔
پاکستان اور انڈیا فرق ہے لیکن پولیس ایک جیسی ہے ۔
بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے ہی عوام پر پیلٹ گنز کا استعمال؛
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے ہی عوام کے خلاف پیلٹ گنز کے استعمال کا ثبوت سا��نے لے آئے۔
راہول گاندھی ایک زخمی نوجوان کو میڈیا کے سامنے لے آئے، جس کے چہرے اور آنکھ پر زخم نمایاں ہیں۔ اُن کے مطابق حکومت طلبہ پر طاقت کا استعمال کر رہی ہے اور اُنہیں پیلٹ گنز سے زخمی کیا گیا ہے۔
جب دلی میں ہندو طلبہ پر ان کے اپنے ہی دھرم کے لوگ لاٹھیاں اور ڈنڈے برسا رہے تھے انسو گیس پھینک رہے تھے تب کسی مندر نے ان کے لیے اپنے دروازے نہیں کھولے اگر دروازے کھولے تو مسجدوں نے اور گردواروں نے ۔
ان کی مدد اگر کی تو مسلمانوں نے اور سکھوں نے ہندوستان میں بڑھتا ہوا ہندو مسلم تفرقہ اپنے انجام کے قریب ہے ۔