عائشہ کے ٹرانسپلانٹ کے لیے 25 لاکھ کی رقم کی ضرورت ہے جس میں سے صرف ایک لاکھ 90 ہزار کم ہے اپ لوگوں سے گزارش ہے اگر اپ تھوڑے تھوڑے پیسے بھیجتے ہیں تو اس بچی کا ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے ۔۔۔اگر اپ ان کو کوئی بھی رقم بھیجیں تو پلیز مجھے سکرین شاٹ دیجیے گا تاکہ رقم مکمل ہوتے ہی میں پوسٹ ڈیلیٹ کر دوں
خواجہ آصف ویگو ڈالے کو "بیہودہ" کہتے ہوئے ویگو ڈالے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے۔۔
نہ نہ۔۔خواجہ صاحب۔ اب نہیں۔ ابھی تو اقتدار میں ہو کر بھی شکایتیں شروع ہو گئیں۔
اقتدار ختم ہو لینے دیں ذرا۔ اسی ویگو ڈالے پر چڑھ کر آپ ہاری ہوئی سیٹ پر اسمبلی آۓ ہیں
لوگوں نے بجلی کے بلوں پر عائد مختلف ٹیکسوں کے خلاف آواز اٹھائی، تو حکومت نے بل کا ڈیزائن ہی بدل ڈالا۔
اب سارے ٹیکس ایک ہی جگہ جمع کر دیے ہیں تاکہ عوام کو پتہ ہی نہ چل سکے کہ ان کی جیب سے کس کس مد میں پیسہ نکالا جا رہا ہے۔#خان_بغیر_بجٹ_نامنظور@TeamPakRising@Legacy_Leavers_
عدالت کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ انگریز افسران اپنی مخصوص وردیوں میں ملبوس خاموشی سے بیٹھے تھے۔ ہر طرف خوف، بے بسی اور خاموشی کا راج تھا۔
کمرۂ عدالت کے وسط میں ایک نحیف مگر پُرعزم بزرگ زنجیروں میں جکڑے کھڑے تھے۔ چہرے پر تھکن کے آثار ضرور تھے، مگر آنکھوں میں عزم کی وہ چمک تھی جسے دنیا کی کوئی طاقت مدھم نہ کر سکتی تھی۔
انگریز جج نے میز پر رکھا ہوا ایک کاغذ بلند کیا۔اور نرمی سے کہا
"یہ آپ کا آخری موقع ہے۔ اگر آپ صرف اتنا کہہ دیں کہ یہ فتویٰ آپ نے نہیں لکھا... تو آپ کو باعزت بری کر دیا جائے گا۔"
سارا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا۔
عدالت میں سناٹا چھا گیا۔
سب کی نظریں اس مردِ پر جم گئیں۔
کچھ لمحوں تک خاموشی رہی...
پھر اس شخص نے اپنی کمزور مگر گونجدار آواز میں فرمایا:
"ہاں! یہ فتویٰ میرا ہی لکھا ہوا ہے... اور آج بھی میں اپنے مؤقف پر قائم ہوں!"
یہ الفاظ بجلی بن کر پورے کمرۂ عدالت پر گرے۔
چند لمحوں کے لیے ہر شخص ساکت رہ گیا۔
جج کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
"کیا آپ جانتے ہیں کہ اس اعتراف کا مطلب کیا ہے؟"
شخص نے پوری استقامت سے جواب دیا:
"میں خوب جانتا ہوں۔ لیکن ایک مسلمان اپنی جان بچانے کے لیے حق کا انکار نہیں کرتا۔"
جج غصے سے کانپ اٹھا۔
"عدالت ملزم کو تاجِ برطانیہ کے خلاف بغاوت کا مجرم قرار دیتی ہے! اس کی تمام جائیداد ضبط کی جاتی ہے، اور اسے عمر بھر کے لیے کالاپانی بھیجا جاتا ہے!"
فیصلہ سن کر عدالت میں موجود بہت سے لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جس شخص کو ابھی ابھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، اس کے چہرے پر خوف نہیں بلکہ ایک پُرسکون مسکراہٹ تھی۔
زنجیریں کھنکیں...
سپاہی انہیں لے جانے لگے۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے فرمایا:
"جسم کو قید کیا جا سکتا ہے... مگر حق کی آواز کو نہیں۔"
جزائر انڈمان کی تاریک قید میں بھی آپ کا عزم نہ ٹوٹا۔ کاغذ اور قلم چھین لیے گئے تو کوئلے سے کپڑوں کے ٹکڑوں پر تاریخ رقم کی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بھی آپ نے علم اور حق کا پرچم بلند رکھا۔
20 اگست 1861 کو یہ مردِ حق اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا، مگر ��س کی جرات، استقامت اور قربانی آج بھی تاریخ کے صفحات میں زندہ ہے۔
یہ مرد حق تھا "فضلِ حق" اور یوں ایک مردِ مجاہد تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
کیا آپ نے علامہ فضلِ حق خیر آبادیؒ کا نام پہلے کبھی سنا تھا؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آج ہماری آزادی کی بنیاد رکھی تھی . کیا اس گمنام مرد مجاہد کو دنیا سے شئیر نہیں کروگے . الله پاک اسے درجات بلند کرے، سب لکھو . آمین
منقول
جعلی مینڈیٹ تو لے لیا لیکن عزت خاک میں مل گئی ، پی ٹی آئی کے ممبران نے پچھلے ایک ��فتے میں قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کو خوب بے عزت کیا ، سینکڑوں کلپس کے ہزاروں شیئر ، لاکھوں لائکس اور کروڑوں وویوز ہیں،
ن لیگ کے کسی رکن اسمبلی نے لاجک کے ساتھ کوئی ایک جواب نہیں دیا ، کیونکہ وہ اندر سے حقیقت جانتے ہیں ، شاید اس لیے کاونٹر بھی نہیں کرتے
جناب سپیکر ویگو ڈالے بین ہونے چاہئیں۔ویگو ڈالے سے بڑی فحاشی اور کوئی نہیں ہے۔ویگو ڈالے بہت بڑی vulgarity ہیں۔ پارلیمنٹ کو ویگو ڈالے سے بچائیں ۔ خواجہ آصف کی اسپیکر سردار ایاز صادق سے اپیل
ٹیلی کمونیکیشن بل کے حوالے سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ اگر جائیداد کے مالک اور کمپنی کے درمیان تنازعہ ہوتا ہے تو یہ معاملہ دو فریقین کا جس کا فورم عدالت ہے ��س میں حکومت کہاں سے آگئی ؟
یعنی سادہ سی مثال ہے میں ایک جگہ کرائے پر رہتا ہوں تو یہ مالک مکان اور میرا بطور کرایہ دار معاملہ ہے اگر مالک مکان میرے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو کیا حکومت یہاں بھی 5 کروڑ والا اصول لاگو کرے گی ؟ میں عدالت جاؤں گا یا حکومت کے پاس ؟ حکومت کہے گی یہ دو فریقین کا معاملہ ہمارا اس سے کیا لینا دینا ؟
اس بل میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو نوازا گیا ہے
ابھی بہت کچھ باہر آئے گا
کمیٹی میں بریف کیا کیا گیا اور پھر مسودہ کیا پاس کروایا گیا
یہ خبر اور آئینی عدالت کا حکم پڑھ کر یاد آیا۔۔۔پاکستان کے سب سے اہم ترین ادارے( الیکشن کمیشن) میں بھی سب کچھ غیر آئینی چل رہا ہے جیسے
الیکشن کمیشن میں ساری منیجمنٹ 65 سال سے اوپر کنٹریکٹ پر ہی لگی ہوئی ہے جو 5 سال سے زائد عرصے سے کنٹریکٹ کی توسیع پر ہی چل رہے ہیں
چیف الیکشن کمشنر
ممبران الیکشن کمیشن سندھ بلوچستان
سکریٹری الیکشن کمیشن
اسپیشل سیکرٹری الیکشن
اسپیشل سیکرٹری لا
اسپیشل سیکرٹری پولیٹکل فنانس فنان��
ڈی جی ایڈمن
ایکسٹنشن پر ایکسٹنشن جاری ہے
رحیم یار خان میں 19 سالہ لڑکی کو آئن لائن نوکری کی پیشکش کی گئی ۔ لڑکی نوکری کے لالچ میں جھانسے میں آ گئی تو اسے میٹنگ کے لئے بلا کر نشہ آور چیز پلا کر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اس قسمت ماری کو گاڑی تلے کچل کر قتل کر دیا گیا۔۔
پنجاب میں خواتین ریڈ لائن نہیں رہیں ؟
@OfficialDPRPP
جن حکمرانوں کی اپنی اور فیملی کی جائدیں اور کاروبار بیرون ممالک ہوں وہ بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کے پوزیشن نہیں ہوتے۔
��وئی شرم ، کوئی حیا
عمران خان کے دور میں ادویات کی قیمتوں کا معاملہ سامنے آیا تو وزیر صحت کو ہٹا کر پارٹی کا جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا۔ چینی سکینڈل آیا تو خسرو بختیار کی وزارت بدل کر اسے "سزا" قرار دے دیا گیا۔
اب شزا فاطمہ کا ٹاور بل سکینڈل سامنے آیا ہے لیکن خاموشی چھائی ہوئی ہے۔شاید رشتے داریاں احتساب سے زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔
شہباز شریف صاحب اگر اپنے لوگوں کے لیے معیار الگ اور مخالفین کے لیے الگ ہے تو پھر عمران خان پر تنقید کیسی؟ عوام کو بھی سمجھا دیں کہ احتساب صرف دوسروں کے لیے ہے یا اپنے لیے بھی؟
ورنہ پھر تبدیلی صرف چہروں کی ہوئی ہے طریقہ کار تو وہی پرانا ہے۔
کچھ لوگوں کو اپنی پرائویسی پیسوں سے زیادہ عزیز ہوتی ہے
اسی وجہ سے لوگ اپنا گھر کرائے پر نہیں دیتے
یہ انکا حق ہے
اگر ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں کسی عمارت/گھر پر اپنا ٹاور لگانا چاہتی ہیں تو وہ ماہانہ معقول رقم دیتی ہے ایگریمنٹ کرتی ہیں
لوگ خوشی خوشی لگوا بھی لیتے ہیں
مگر جب کچھ کو پرابلم شروع ہوتی ہے
جیسے بار بار مینٹیننس کا کام کرنے ٹیم آتی ہے
چھت پر نقل و حرکت نہیں کرنے دیتے
ہمارے محلے میں بھی ایک بنگلے والے نے ٹاور ہٹوا دیا ہے
کیونکہ وہ سولر پینل لگانا چاہتے تھے جو کمپنی نے لگانے نہیں دے رہے تھے
انھوں نے ایگریمنٹ پورا ہوتے ہی ٹاور ہٹوا دیا
پرائیویسی متاثر ہونے پر بھی لوگ ٹاور ہٹوا دیتے/لگانے نہیں دیتے ہیں
یہ بھی انکی مرضی/حق ہے
اس حق کو چھینے کے لیے قانون بنانا
بلکل وہی حرکت ہے جو مقبوضہ علاقوں میں قابض فوج کرتی ہے
آئی ٹی منسٹر شزا فاطمہ نے جس قسم کا بل اسمبلی سے پاس کروایا ہے۔، اس پر نہ صرف ان سے استعفی لینا چاہئے بلکہ سب سے پہلا ٹاور ان کے گھر میں نصب کرنا چاہئے۔ ایسی بے وقوف اور گھٹیا عورتوں کو اقتدار پکڑا دیا گیا یے جنکی قابلیت صرف باپ چاچا کی سفارش اور موروثیت ہے۔ سائرہ بانو
"ایس آئی ایف سی نے پانچ برس میں 60 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری لانا تھی لیکن پچھلے 3 سالوںمیں بیرونی سرمایہ کاری 2.15ارب ڈالر تھی جبکہ اس مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں صورتحال مزید بدتر ہوئی ہے اور بیرونی سرمایہ کاری 31 فیصد کمی سے 1.4ارب ڈالر رہ گئی ہے، اس میں سے بھی 740 مل��ن ڈالر کی سرمایہ کاری چین سے آئی ہے۔چین کے علاوہ ہماری طرف سرمایہ کاری کیلئے کوئی نہیں آرہا،کئی نامی گرامی کمپنیاں پاکستان سے چلی گئیں، جو بیوروکریٹک سسٹم ہے، جو ٹیکسز کا نظام ہے، پھر یہاں کون سرمایہ کاری کرے گا؟"۔کامران خان بھی ایس آئی ایف سی کی کارکردگی سے مایوس ؟
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل کی انکوائری کمیٹی میں کم و بیش وہی خواتین و حضرات موجود ہیں جنکی موجودگی اور رضامندی سے یہ متنازعہ بل قومی اسمبلی سے پاس ہوا ….
میر بھی کیا سادہ ہیں ہوئے بیمار ��س کے سبب ،
اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں !!!