When the tyrannical king of the Sassanids tore up the letter of the Prophet ﷺ in contempt, the Prophet ﷺ remarked, “God shall tear his kingdom up as he tore my letter.”
We learn from the Qur’ān: “Whoever commits evil will be repaid with its like” [4:123].
While we don't gloat over anyone's sickness, we see a clear lesson here: Never invoke the punishment of God on innocent people, lest you become the subject of your own curse.
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم مسکرا رہے ہیں - حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:
"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کون سی چیز مسکراہٹ کا سبب ہوئی"؟
فرمایا:
"میرے دو امتی اللہ تعالی کے سامنےگھٹنےٹیک کر کھڑے ہو گئے ہیں ایک کہتا ہے کہ یا اللہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے میں بدلہ چاہتا ہوں اللہ پاک اس ظالم سے فرماتا ہے کہ اپنے ظلم کا بدلہ ادا کرو ظالم جواب دیتا ہے یا رب! اب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کے بدلے میں اسے دے دوں تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دے" -
یہ کہتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے کہ:
"وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا لوگ اس بات کے حاجت مند ہونگے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر دھر دیں - اب اللہ پاک طالبِ انتقام سے فرمائے گا کہ نظر اٹھا کر جنت کی طرف دیکھ - وہ سر اٹھائے گا، جنت کی طرف دیکھے گا اور عرض کرے گا:
"یا رب! اس میں تو چاندی اور سونے کے محل ہیں اور موتیوں کے بنے ہوئے ہیں یا رب! کیا یہ کسی نبی، کسی صدیق یا کسی شہید کے ہیں"؟
اللہ تعالی فرمائے گا:
"جو اس کی قیمت ادا کرتا ہے اس کو دے دئیے جاتے ہیں" - وہ کہے گا کہ:
"یا رب! بھلا اسکی قیمت کون ادا کر سکتا ہے"؟
اللہ تعالی فرمائے گا کہ:
"تو اس کی قیمت ادا کرسکتا ہے"
اب وہ عرض کرے گا:
"یا رب کس طرح"؟
اللہ جل شانہٗ ارشاد فرمائے گا
"اس طرح کہ تو اپنے بھائی کو معاف کر دے"
وہ کہے گا:
"یا رب میں نے معاف کیا"
اللہ پاک فرمائے گا:
"اب تم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جنت میں داخل ہو جاؤ" -
اس کے بعد حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا کہ:
"اللہ تعالی سے ڈرو, آپس میں صلح قائم رکھو کیونکہ قیامت کے روز اللہ پاک بھی مومنین کے درمیان آپس میں صلح کرانے والا ہے" -
(مآخذ: تفسیر ابن کثیر جلد ٢: ص: ٢٦٩)
ہندکو کا ایک زبردست محاورہ ہے: “تو وت مار”
یعنی: “چلو بھائی، پھر تم ہی مار لو!”
اب ذرا عالمی سیاست کو بھی اسی نظر سے دیکھیں تو بڑا مزہ آتا ہے 😄
ٹرمپ صاحب کا حال بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ پہلے پورے غصے میں آ کر اعلان کرتے ہیں:
“ایران! بس 24 گھنٹے… پھر تم ختم!”
ایران ادھر سے بڑے سکون سے چائے کی چسکی لیتا ہے اور کہتا ہے:
“او بھائی… جا، جو کرنا ہے کر لے!”
اب ٹرمپ صاحب تھوڑا سا رک جاتے ہیں، ادھر ادھر دیکھتے ہیں، پھر آہستہ سے بولتے ہیں:
“اچھا… تو وت مار!” 😂
یعنی پہلے خود للکار، پھر جب سامنے والا ڈرنے کے بجائے الٹا کہہ دے “آ جا”، تو بندہ کہے:
“نہیں نہیں… میرا مطلب تھا تم ہی کر لو!” 🤣
بس جناب، یہی آج کل کی سپر پاور سیاست ہے:
پہلے دھمکی… پھر خاموشی… اور آخر میں ہندکو والا فلسفہ:
“تو وت مار!” 😛
اَسْتَغْفِرُاللهَ
استغفار کثرت سے کریں۔ بعض دفعہ گناہوں کے بوجھ دل کو بو جھل کر دیتے ہیں۔ استغفار سے دل اور روح روشن ہوتے ہیں۔
لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ (100) بار پڑھے)
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه
ان کلمات میں نناوے بیماریوں کی شفا ہے اور دل کا غم اور رنج ان ننانوے بیماریوں میں سب سے چھوٹی ہے تو اسے کثرت سے
پڑھیے۔
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
اللہ تعالیٰ کو وکیل بنانے کا مطلب ہے اپنے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا۔ اس کلمے کو بھی پڑھا کیجیے۔ کم از کم سات بار ، اکیس یا سو بار۔ جتنا آسانی سے ہو سکے۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَ ارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي (11) بار
إِنَّمَا أَشْكُوا بَثي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ (کثرت سے پڑھیے)
اللهُ اللهُ رَبِّي لَا يُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا
نبی ﷺ نے شدت غم میں ان کلمات کو،اس دعا کو پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْتُ
لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
اس دعا کو پڑھ کر دعا مانگنے سے غم ، مصائ�� دور ہو جاتے ہیں۔ اسے کثرت سے پڑھا کیجیے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَ الْحَزَنِ وَ الْعَجْزِ وَ الْكَسَلِ وَ الْجُبْنِ وَ الْبُخْلِ وَ ��َلَعِ الدَّیْنِ وَ غَلَبَةِ الرِّجَالِ
اے الله! میں آپ کی پناه چاہتا ہوں فکر وغم سے اور بے بسی و سستی سے اور بزدلی اور بخل سے اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے سخت غلبے سے
صحیح البخاری: 6369
اَللّٰهُمَّ رَحْمَتَكَ اَرْجُوْ فَلَا تَكِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَیْنٍ وَّ اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ كُلَّهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ
اے الله! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں پس ایک لمحه کے لیے بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرے سب حالات سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
سنن أبی داؤد: 5090 صحیح
لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبُّ الْاَرْضِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ
الله کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت بڑا بہت بردبار ہے، الله کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، الله کے سوا کوئی معبود نہیں، جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔صحیح البخاری: 6346
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ عَبْدُكَ، اِبْنُ عَبْدِكَ، اِبْنُ اَمَتِكَ، نَاصِیَتِیْ بِیَدِكَ، مَاضٍ فِیَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُكَ، اَسْاَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَكَ اَوْ عَلَّمْتَهُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ اَوْ اَنْزَلْتَهُ فِیْ كِتَابِكَ اَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَكَ اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَهَابَ هَمِّیْ
اے الله! بے شک میں تیرا بنده اور تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے قابو میں ہے، میرے حق میں تیرا حکم جاری ہے، تیرا فیصله میرے بارے میں انصاف پر مبنی ہے، میں سوال ��رتا ہوں تیرے ہر اس نام کے ساتھ جو تو نے اپنے لیے رکھا یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یا تو نے اپنی کتاب میں اتارا یا تو نے اسے اپنے پاس علم غیب میں رکھنے کو ترجیح دی که تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور سینے کا نور اور میرے ��م کو دور کرنے والا اور میری فکر کو لے جانے والا بنا دے
مسند احمد، ج: 6، 3712 صحیح
اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
درود شریف کثرت سے بھیجیں۔
ان تمام دعاؤں کو ہر روز سات سات بار لازمی پڑھیں۔
ان شاء اللہ تعالیٰ کچھ عرصے میں کشائش ضرور ملے گی۔
اللہ تعالیٰ ہر دل کو سکون عطا فرمائے آمین ثم آمین۔