بہن نے اپنی اور میری شادی کے بعد میرے لی��ے اپنی پھدی پر تالا لگا دیا۔ اس بار بھی گھر آئی، لیکن پھدی دینے سے صاف انکاری تھی. میں نے بہت منت سماجت کی، میں نے کہا بس ممے چُسا دے، کہتی گھر میں بہت رسکی ہے۔ منا کر باہر لے آیا اور لٹا کر ممے چوسنے لگا
سارا دن چادر لپیٹے پارسائی دکھاتی والدہ رات کو دو بجے کمرے میں آ گئی، گھوڑی بنا کر لمبا لنڈ امی کی موٹی گانڈ میں گھسایا تو امی کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔ لیکن پھر بھی کہتی "بیٹا،جلدی نہ کر، سوار ��ے جھٹکے لا لا کے مار میری"
جاب پر امی کو فون کیا، سیلری کا بتایا اور رازداری سے گھر آنا کا پوچھا، ہاں بول کے چُپ ہو گئی، پھر کچھ لمحے بعد کہا،"اوپر سٹور والے کمرے نو کنڈی مار لئیں،"۔
میں اگلے دن گھر آیا، دوپہر کے قریب، امی کے ساتھ سٹور والے کمرے میں جا کر کُنڈی لگا لی۔
سب کے جانے کے بعد امی نے ناشتے کی میز پر کہا "نہانے جا رہی ہوں"۔
میں اندر پہنچا تو کمر پر صابن لگانے کا کہا، کچھ لمحے بعد میں نے شوٹ لگانے کا کہا، تھوڑی دیر بعد "ہوں" کہ کر جھک گئی۔ کچھ دیر میں پھر سیدھی ہو کر مجھے کمرے میں چلنے کا کہا۔
جب مرد کو سیکس چاہیے ہوتا ہے، تب اُسے عورت کے فگر،رنگ، یا رشتے سے فرق نہیں پڑتا، اُسے صرف ملنے والی پھدی سے مطلب ہوتا ہے۔
اور عورت کی سیکس کی ح��س مرد سے زیادہ ہوتی ہے۔
گھر میں مہمان آئے تھ��، میں نے امی کے کان میں سرگوشی کر کے وعدہ یاد دلایا۔ امی نے کچھ دیر بعد اشارے سے اوپر والے کمرے میں بلایا، جلدی جلدی لنڈ ہلاتے ہوئے بولی
"تیرا بس چلتا، تو سب کے سامنے میری شلوار اُتار کے شروع ہو جاتا"
میں رات کو گھر لیٹ آیا۔ امی نے تازہ روٹی پکائی، کھانا دیا، کھانا کھا کے برتن اُٹھائے، اندر کمرے کی چارپائی پر میرا بستر بنایا، اپنی شلوار اُتار کر چارپائی کی سائیڈ پر لیٹ گئی۔ امی کے گوشت بھر چوتڑوں اور میرے جھٹکوں کے بار بار لگنے کی آواز رات کی تاریکی میں خلل ڈالنے لگ گئی۔