ایک ملحد اور ایک مسلمان (ملک فصاحت عرف برادر دعویٰ) میں ڈیبیٹ کے دوران دیسی ملحد نے منطق کے خلاف بات کرتے ہوئے Gödel پر یہ الزام لگا دیا۔
وہ بھی سوچتا ہوگا کہ شکر ہے پاکستانی ملحدین تک میرا کام پہنچنے سے پہلے ہی میں مرگیا 🙂
جو خاتون پب جی کھیل رہی تھی، اس نے گستاخی کا اعتراف کیا تھا۔ جج نے اس کو یہ کہہ کر بری کر دیا جس فون سے گستاخی ہوئی تھی، وہ اس سے ریکور نہیں ہوا تھا جبکہ فرد مقبوضگی جج کے سامنے رکھی فائل میں رکھا تصدیق کر رہا تھا کہ فون اسی کے پاس سے نکلا تھا۔
جو بزنس گینگ کی اصطلاح سنی تھی، وہ احمد نورانی کی ماری ہوئی بڑ تھی، کئی انویسٹیگیشنز کے بعد آج تک اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
ہمارے صحافیوں کو منہ کھولنے سے پہلے تحقیق کرنے سے الرجی کیوں ہے؟
A brother just confirmed in Myfti Yasir Sahib’s live stream that he has reverted back to Islam after listening to Dr Mufti Yasir sahib (@Mufti_Yasir) and brother Hijab (@mohammed_hijab)
Allah o Akbar!
ان صاحب کو اپنی محفل میں کوئی عقل مند لوگ لانے پڑیں گے۔ میرا سپین سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا 55 روپے فی کلو میٹر جہاز اڑانے کا سچ سے تعلق ہے 🙂۔
رہی بات شراب کی، میں لعنت بھیجتا ہوں شراب پر۔ زرا آپ بھی کہہ دیں کہ آپ شراب پر لعنت بھیجتے ہیں 🙂۔
میں لعنت بھیجتا ہوں اس پر جس نے زندگی میں کبھی شراب پی، اب آپ بھی یہ کہہ دیں 🙂۔
میں لعنت بھیجتا ہوں پاکستان میں شراب کو عام کرنے کی کوششوں پر، اب آپ بھی کہہ دیں 🙂
سابق وزیر سائنس کے مطابق خواتین کی تعلیم کو آبادی کم کرنے کے ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے۔ عام طور پر عورتوں کی تعلیم کا مقصد ان کو باشعور شہری بنانا ہوتا ہے!
سابق وزیر سائنس اس بات سے بھی نابلد ہیں کہ پاکستان کی آبادی میں "بے ہنگم اضافہ" نہیں ہو رہا۔ 1960 کی دہائی میں فرٹیلیٹی ریٹ 7 کے قریب جو اب 3.5 سے بھی گر چکا ہے۔
البتہ ماڈرن لائف سٹائل میں جہاں شادیاں تعلیم کے بعد روزگار کی مجبوری کی وجہ سے تعطل کا شکار ہونا شروع ہوئیں، اس کی وجہ سے پاکستان میں اس وقت تیس سال سے زائد عمر کی ایک کروڑ سے زیادہ خواتین شادی کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہیں۔
تعلیم عورت کا بنیادی حق اور ایک اسلامی ریاست کا فرض ہے، لیکن اسے depopulation drive کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
آپ "جاہلین" کو مسترد کرنے بجائے صرف ایک کام کر دیں، زندگی میں اگر پھر کسی سیاسی پارٹی نے آپ پر اعتبار کرکے ٹکٹ دے دیا، تو الیکشن کیمپیئن میں شراب اور جوا عام کرنے والے خیالات کا اظہار کردینا۔
پھر دیکھنا، باشعور عوام کیسے جہالت کو مسترد کرتی ہے!
ڈاکٹر لال صاحب کی جگت کا لیول ان کی گائیکی کے لیول جیسا ہی ہے 🙂۔
ویسے جو نسان ارتقاء کو ٹھیک ثابت کرتے ہوئے ہیکلز ایمبریوز (بین القوامی سطح پر ثابت شدہ فراڈ)کی تصویر دکھا رہا ہو، اسے سائنس پر خاموشی اختیا کر لینی چاہیئے 🙂۔