🚨🚨#BREAKING: Majority judgment of reserved seats case answers to criticism that why #PTI was given relief when it was not party before the #SupremeCourt in the said case, “Indeed, more particularly for this kind of cases, where the rights of people are involved, not only of the parties before the Court, the words of Kaikaus, J., resound that 'the proper place of procedure in any system of administration of justice is to help and not thwart the grant to the people of their rights.'87 Even otherwise, as held by this Court in several cases,88 while doing complete justice in the exercise of its general power under Article 187(1) of the Constitution, this Court is not handicapped by any technicality or rule of practice or procedure, nor is the exercise of this power by the Court dependent on an application by a party.”
Qazi Fraud Issa & his stooge Chief election commision orchestrated the elections, but the majority of SC judges hve now unequivocally ruled that the so-called election was nothing more than a sham.
Article 6 should be applied to Sikandar Sultan
#NotifyPTI_MPs#SeatsBelongToPTI
معتبر ذرائع اور دستیاب ٹھوس شواہد کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے سیکریٹری اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے نکالے گئے ڈاکٹر مشتاق سپریم کورٹ کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی سے خوب بدلہ لے رہے ہیں۔
دسمبر 2023 میں بطور ایک رکن بورڈ آف ٹرسٹیز شریک ہوتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر مملکت عارف علوی اور بینالقوامی یونیورسٹیوں کے سربراہان کی موجودگی میں یونیورسٹی کے سعودی صدر اور ریک��ر ڈاکٹر ثمینہ ملک اور یونیورسٹی کے ماتحت اہلکاروں کو باری باری بلا کر اُن سے بھی بدزبانی اور بدسلوکی کی۔
صدر عارف علوی تو بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموش رہے مگر ویڈیو لنک پر موجود سعودی ��ور دیگر یونیورسٹیوں کے سربراہان نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ اسلامک یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ ہے نہ کہ اُنکی سپریم کورٹ، اسکے باوجود قاضی صاحب اس حد تک بدتمیزی پر چلے گئے کہ خود کو محض رکن بورڈ کی بجائے چیف جسٹس تصور کرتے ہوئے حراسیگی کا الزام لگانے والی ایک خاتون کو بھی کمرے کے باہر سے بلوا کر بین القوامی یونیورسٹیوں کے سربراہان کے سامنے نام لیکر پیش کر دیا-
یونیورسٹی کے سعودی صدر پر طنز کرتے رہے اور اس حد کہہ دیا کہ وہ یہ الزامات سعودی شھریوں پر نہیں بلکہ یونیورسٹی کے بدعنوان پاکستانی افسران پر لگا رہے ہیں۔ اسلامک یونیورسٹی کی انتظامیہ کیطرف س�� تین سال تک بورڈ کا اجلاس نہ بلانے پر ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ کی کھلے عام بے عزتی کی جس پر سعودی یونیورسٹیوں کے سربراہان نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔
آج سرکاری یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدوں پر عدم تعیناتی کا کیس خود ہی سنتے ہوئے جب اسلامک یونیورسٹی کے وکیل سینئیر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ روحان الدین نے مزکورہ بالا واقعات کی روشنی میں چیف جسٹس کی بنچ پر موجودگی پر تحریری اعتراض کر دیا تواعتراضات پر سماعت کرنے اور دلائل سننے کی بجائے چیف جسٹس آگ بگولہ ہو گئے اور توہین عدالت کی کاروائی اور لائسنس معطلی کی دھمکی دے ڈالی، ساتھ ہی پوچھا کے ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ کدھر اور کیوں نہیں آئی، جس پر وکیل کی طرف سے پیش کردہ میڈیکل سرٹیفیکیٹ پر ڈاکٹر ثمینہ ملک کی بجائے ثمینہ یاسمین لکھا ہونے کے باعث ایمبولنس اور ویل چئیر پر ڈاکٹر ثمینہ کو عدالت میں فوری پیشی کا حکم دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کر دیا۔
غصہ اس بات کا بھی ہے کہ یونیورسٹی بورڈ کے بین القوامی ممبران نے چیف جسٹس کے اِس شرمناک روئیے کے باعث اُس اجلاس کی تمام کاروائی اور اُس کے منٹس مسترد کر دئیے ہیں اور اب لگتا یہ ہے کہ موصوف جج کی ریٹائرمنٹ تک اجلاس بھی بلانے سے انکاری ہیں۔
متنازعہ ٗحکومتی آئینی ترمیم کیخلاف عاصمہ جہانگیر مرحومہ کی سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن نے آج شام ڈی ایچ اے کی بلڈوزروں کے ہمراہ وکلا کے رہائشی منصوبے کے مقام سے وکلا تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ججوں کی کمیٹی سے متعلق قانون میں ترمی��ی آرڈیننس کو خوشی خوشی گلے لگا لیا کہ
ھم وطنو ! کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے ایکسٹینشن کا چشمہ یہیں سے نکلے گا
کسی صدارتی آرڈیننس کے لئیے اتنی بیتابی و والہانہ محبت قاضی کے آرڈیننسوں سے متعلق ماضی کے ریمارکس سے مطابقت نہیں رکھتی