دعاؤں کی درخواست
اللہ تعالیٰ میرےوالد
اورتمام مسلمان مرحومین کی بھی مغفرت فرماۓاللہ پاک
اپنےپیارےنبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اصحاب کرام
اولیاءکرام بزرگان دین کےصدقے
مغفرت فرمائے
اور
جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطافرمائے
آمین یارب العالمین 🙏🙏🙏
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻
دعاوں کاطلبگار
🤲
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”بندہ کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی تھی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی۔“
(صحیح بخاری، ۶۳۴۰)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مجھ پر درود بھیجا کرو، کیونکہ یہ تمہارے لیے باعث ِ طہارت ہے، اور اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کا سوال کیا کرو، یہ جنت کا سب سے بلند درجہ ہے، صرف ایک آدمی اس تک پہنچ سکے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں۔
(مسنداحمد،۵۷۰۷)
مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن — جانیں اور بچیں!
غلط خبر انجانے میں پھیل جائے تو مس انفارمیشن اور جان بوجھ کر گمراہ کرنے کے لیے پھیلائی جائے تو ڈس انفارمیشن کہلاتی ہے۔
یہ جھوٹی خبریں افواہیں پھیلاتی ہیں، معاشرے میں خوف اور بےاعتمادی پیدا کرتی ہیں اور بعض اوقات نقصان کا باعث بھی بنتی ہیں۔
یاد رکھیں: ایک غلط خبر کسی کی ساکھ، شہرت اور ذاتی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
خبر شیئر کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق کریں
سنسنی خیز اور وائرل پوسٹس پر فوراً یقین نہ کریں
گمراہ کن مواد کو آگے بڑھانے کے بجائے رپورٹ کریں
دوستوں اور خاندان کو بھی آگاہ کریں
آئیں مل کر ذمہ دار ڈیجیٹل شہری بنیں اور عہد کریں:
پہلے سوچیں، پھر شیئر کریں!
کیونکہ ایک محفوظ کل کا آغاز آج کے باشعور فیصلے سے ہوتا ہے
#PTAApproved #PTAAlert #Digitalsafety #digitalsafetyawareness #minsinformation #disinformation
پاکستان نے خود کو منوانے کا ایک ناقابل یقین کام کیا ہے، یہ اس کا نقطہ عروج ہے۔ چاہے معاہدہ ہو یا معاہدہ نہ ہو، تب بھی امریکہ اور ایران کو اسلام آباد میں اکٹھا کرنا پاکستان کی جیت اور ایک بہت بڑی فتح ہے۔ امریکی پروفیسر اور سکیورٹی امور کی ماہر کرسٹین فیئر کا تبصرہ
امریکا اور ایران کا کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے یہ پوری دنیا کے لیے اچھی خبر نہیں دنیا میں مٹھی بھر جنگی جنونیوں کے علاوہ دنیا کا ہر فرد اسلام آباد سے مثبت خبر کا منتظر تھا اچھی خبر نہ آنے پر سب کو مایوسی ہوئی ہے اس مایوسی میں امید کی یہ کرن باقی ہے دونوں فریقین نے مذاکرات کو ناکام اور جنگ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان نہیں کیا یعنی اب بھی امید باقی ہے کہ کوئی راستہ نکل سکتا ہے
ان مذاکرات میں پاکستان کی حیثیت ایک ثالث اور سہولت کار کی تھی پاکستان ڈنڈے کی بنیاد پر دونوں فریقین کو کسی معاہدے پر نہیں لاسکتا تھا پاکستان نے عارضی جنگ بندی کرائی بدترین دشمنوں کو آمنے سامنے بیٹھادیا فریقین اختلاف رائے کے تمام نہ سہی کئی نکات پر اتفاق رائے کرگئے کئی نکات پر لچک دکھانے لگے یہ بھی چھوٹی بات نہیں مگر حتمی نتیجہ نہیں برآمد نہ ہوسکا جس کا افسوس ہے پاکستان کی کاوشیں ختم نہیں ہوئی ہیں جاری ہیں
اگر خداناخواستہ جنگ دوبارہ شروع ہوجاتی ہے جس کے امکانات کم ہی ہیں ہم سب متاثر ہونگے پاکستان ایک غریب اور معاشی طور پر کمزور ملک ہے لہذا اس خطے میں ہونے والی جنگ میں وہ متاثر بھی زیادہ ہوتا ہے عارضی جنگ بندی سے دنیا نے ایک کروٹ لی تھی مذاکرات کے حتمی نتائج نہ آنے سے دنیا ایک اور کروٹ لے گی دیکھتے ہیں یہ کروٹ ہمیں کیا مناظر دکھاتی ہے
مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلا اس پر فوکس کرنے کے بجائے امید کی کرن پر نظر رکھیں
#IranWar
نو ڈیل - مگر کہانی ابھی باقی ہے!
21 گھنٹے۔ ایران، امریکہ مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں۔ مگر کہانی ختم نہیں ہوئی۔
12 اپریل 2026۔ صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد کا وقت۔ جے ڈی وینس سرینا ہوٹل سے باہر آیا۔ صحافیوں کے سامنے کھڑا ہوا۔ بہت مختصر بات کی۔ ایکسیوز نے فوری خبر چلائی: "امریکہ ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم۔"
وینس نے کہا: "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔ انھوں نے شاندار کام کیا اور واقعی ہماری اور ایرانیوں کی فاصلے پاٹنے کی کوشش کی۔" پھر کہا: "ہم اکیس گھنٹے سے یہاں ہیں اور ایرانیوں کے ساتھ کئی ٹھوس بات چیت ہوئی۔ یہ اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہوا اور یہ ایران کے لیے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔"
سوال پوچھا گیا: ایرانیوں نے کیا مسترد کیا؟ وینس نے تفصیل میں جانے سے انکار کیا مگر ایک بات واضح کی: "سادہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایران سے اس بات کا واضح عہد چاہیے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور ایسے آلات حاصل نہیں کرے گا جو فوری طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے میں مدد دیں۔ نہ صرف ابھی، نہ صرف دو سال بعد، بلکہ طویل مدت کے لیے۔ ہم نے ابھی تک یہ عہد نہیں دیکھا۔ امید ہے کہ دیکھیں گے۔"
پھر وینس نے ایک اور جملہ کہا: "ہم کافی لچکدار تھے، کافی معاون تھے۔ صدر نے ہمیں کہا تھا کہ نیک نیتی سے جاؤ اور معاہدے کے لیے پوری کوشش کرو۔ ہم نے کیا۔ مگر ہم آگے نہیں بڑھ سکے۔"
اب اس بیان کو پڑھیں۔ الفاظ تولے ہوئے ہیں۔ وینس نے کئی پیغام دیے ہیں بیک وقت:
پہلا: پاکستان کو مکمل عزت دی۔ "شاندار میزبان" کہا۔ "ناکامی ان کی وجہ سے نہیں" کہا۔ یہ سفارتی زبان میں اعلان ہے کہ امریکہ پاکستان کے ثالثی کردار سے مطمئن ہے اور مستقبل میں بھی اسی راستے سے آئے گا۔
دوسرا: ایران پر الزام رکھا۔ "انھوں نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں" کہا۔ مگر دروازہ بند نہیں کیا۔ "امید ہے دیکھیں گے" کہا۔ "ابھی تک" کے الفاظ استعمال کیے۔ "ابھی تک" کا مطلب ہے "ابھی نہیں مگر شاید بعد میں۔"
تیسرا: ایٹمی نکتے کو مرکزی بنایا۔ آبنائے ہرمز نہیں، لبنان نہیں، منجمد اثاثے نہیں۔ ایٹمی ہتھیار۔ یہ ٹرمپ کا بھی تازہ ترین موقف ہے جو اس نے جمعے کو واضح کیا تھا: "ایٹمی ہتھیار نہیں۔ یہی بنیادی مقصد ہے۔" وینس نے ٹرمپ کے بیانیے سے ہٹ کر کچھ نہیں کہا۔ وفادار رہا۔
مگر ایرانی طرف سے کہانی مختلف ہے۔
ایران کی حکومت نے ایکس پر لکھا: "14 گھنٹے کی بات چیت کے بعد مذاکرات فی الحال ختم ہو گئے ہیں۔ کچھ اختلافات باقی ہیں مگر مذاکرات جاری رہیں گے۔" ایرانی ریاستی ٹی وی کے نامہ نگار نے بتایا کہ مذاکرات اتوار کو جاری رہیں گے۔ سی این بی سی نے تصدیق کی۔ یعنی ایران نہیں مانتا کہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ ایران کہتا ہے مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، ایک وقفہ ہے۔
فرق سمجھیں: وینس کہتا ہے "ہم واپس جا رہے ہیں، معاہدہ نہیں ہوا۔" ایران کہتا ہے "مذاکرات جاری رہیں گے۔" یہ دو مختلف بیانیے ہیں اور دونوں بیک وقت سچ ہو سکتے ہیں۔ وینس واپس جا رہا ہے مگر تکنیکی ٹیمیں رہ سکتی ہیں۔ سیاسی سطح کا دور ختم ہوا مگر ماہرین کی سطح کا دور جاری رہ سکتا ہے۔
یہاں ایک بات اور سمجھنی ضروری ہے۔ وینس نے "quite flexible" اور "quite accommodating" کے الفاظ استعمال کیے۔ یہ الفاظ سفارتکاری میں اپنی پوزیشن ظاہر کرنے کے لیے بہت کم استعمال ہوتے ہیں۔ عام طور پر فریق کہتا ہے "ہماری پوزیشن واضح ہے۔" وینس نے کہا "ہم لچکدار تھے۔" اس کا مطلب ہے کہ وینس اندرونی طور پر جانتا ہے کہ امریکی پوزیشن میں کمزوری تھی اور وہ عوام کو پیغام دے رہا ہے: ہم نے پوری کوشش کی، ناکامی ہماری وجہ سے نہیں۔
ایم ایس ناؤ نے اپنے تجزیاتی مضمون میں لکھا تھا کہ وینس کے لیے یہ مذاکرات "زہر میں بجھا ہوا پیالہ" ہیں۔ اگر کامیابی ہو تو سہرا ٹرمپ کا ہو گا۔ اگر ناکامی ہو تو الزام وینس پر آئے گا۔ اور اگر جنگ بندی ٹوٹے تو "ٹرمپ اپنے نائب صدر کو بس کے نیچے پھینک دے گا۔" کرسچین سائنس مانیٹر نے سابق امریکی خصوصی ایلچی مچل ریس کا حوالہ دیا: "آپ مہاتما گاندھی بن کر بھی امریکہ کی نمائندگی میں آئیں تو ایرانیوں پر اس وقت اثر نہیں ہو گا۔" سٹمسن سنٹر کی بربارا سلاوین نے کہا کہ دونوں فریقوں کے مطالبات اتنے دور ہیں کہ پیش رفت کے امکانات کم ہیں۔
اب سب سے اہم سوال: جنگ بندی کا کیا ہو گا؟