گزشتہ 36 سال سے پنجاب اپنی ضرورت سے زیادہ گندم پیدا کر رہا ہے۔
1990-91 سے 2026-27 تک کے اعدادوشمار کا جائزہ لینے سے پاکستان کے گندم بحران کی ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔
پنجاب کی گندم کی پیداوار 10.5 ملین ٹن سے بڑھ کر 21.9 ملین ٹن ہو چکی ہے۔
ریکارڈ پیداوار 2025-26 میں 24.24 ملین ٹن رہی۔
یہ اضافہ زیرِ کاشت رقبہ بڑھانے سے نہیں ہوا۔
گزشتہ 36 برس میں گندم کا رقبہ تقریباً 14 سے 17.4 ملین ایکڑ کے درمیان رہا۔ پیداوار میں اضافہ بہتر بیج، کھاد اور مشینی کاشت کی وجہ سے ہوا۔
اصل مسئلہ آبادی ہے۔
پنجاب کی آبادی تقریباً 6 کروڑ سے بڑھ کر 13.8 کروڑ ہو گئی، جس کے باعث فی کس دستیاب گندم 176 کلوگرام سے کم ہو کر 159 کلوگرام رہ گئی۔
اس کے باوجود پنجاب نے 36 سال میں ہر سال سرپلس گندم پیدا کی۔
سالانہ سرپلس کبھی 2.4 ملین ٹن سے کم نہیں ہوا اور اس وقت 3.89 ملین ٹن ہے۔
یہ ��ضافی گندم صرف پنجاب کے لیے نہیں۔
اسی سرپلس سے خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ کے بعض علاقوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، جبکہ کچھ گندم ��فغانستان بھی جاتی ہے۔
اس کے باوجود پاکستان نے گزشتہ 36 سال میں 22 مرتبہ گندم درآمد کی، جن میں 2020-21 سے 2023-24 تک مسلسل چار سال بھی شامل ہیں۔
جولائی 2024 سے درآمدات پر پابندی ہے۔
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کا مسئلہ پنجاب میں گندم کی کمی نہیں۔
اصل مسائل یہ ہیں:
• خسارے والے صوبوں کی ضروریات
• سرحد پار گندم کا اخراج
• ناکافی اسٹریٹجک ذخائر
• خریداری اور ریلیز کے نظام میں خامیاں
مسئلے کا حل پیداوار بڑھانے سے زیادہ، ان پالیسی مسائل کو درست کرنے میں ہے۔
ملک میں چھتیس سال میں بائیس دفعہ گندم درآمد کی گئی اور تب گندم سرکاری طور پر خریدی جاتی رہی بارشوں میں کیا بڑے شہر پنجاب کے چند گھنٹوں میں کلئیر نہیں ہوئے
As part of flood monitoring and preparedness efforts, aerial inspections of rivers and barrages through drones are being conducted to support proactive flood readiness and identify potential risks. These inspections enable timely assessment, allowing for early warnings and prompt action to help mitigate the impact of potential flooding.
پنجاب بھر میں شدید بارشوں کے بعد واسا اور ضلع انتظامیہ کا بہترین فیلڈ رسپانس، ایک ہزار سے زائد جدید مشینری کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے ریکارڈ مدت میں پانی کی نکاسی مکمل کی گئی جبکہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے، اور ان تمام تر انتظامی اقدامات کی خود وزیراعلیٰ مریم نواز شریف براہِ راست مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔
#پنجاب_ہر_لمحہ_تیار
Protective and preemptive works along Nullah Dek in Tehsil Kamoke are progressing steadily to strengthen vulnerable sections, enhance flood resilience, and ensure effective protection for surrounding communities and infrastructure against any potential flooding.