مٹی پر میگھا رقص کرے
پھولوں پہ تریرا ہو صاحب
سپنوں کا جہاں آباد رہے
رحمت کا اندھیرا صاحب
سو بار تمہارے آنگن میں
بلبل کا بسیرا ہو صاحب
سو بار محبت ہو تم کو
سو بار سویرا ہو صاحب
— قاسمِ مقسوم
~ سو بار محبت ہو تم کو
کیوں بات بکھیرا ہو صاحب
سب میرا تیرا ہو صاحب
جب ابر گھنیرا ہو صاحب
ساجن کا پھیرا ہو صاحب
دن روشن، شہر آباد رہے
مکھڑے پر عالم شا�� رہے
خوشیوں کا نگر آباد رہے
ہونٹوں پر میٹھا ناد رہے
+
بھئی، یہ قصۂ جزوی آزادی میری سمجھ سے باہر ہے۔ شیطان کل سعودی وغیرہ میں آزاد ہوا اور آج وہ پاکستان وغیرہ میں آزاد ہو گا۔ کیا فرشتے سرحدوں پر گرز لیے ای��تادہ اس کا داخلہ روکتے ہیں یا ایک شیطان دو دفعہ آزاد کیا جاتا ہے؟ آخر کہانی ہے کیا؟