یہ ویڈیو اُن احسان فراموشوں اور ناشکروں کے لیے جو کہتے تھے پاکستان نے آزاد کشمیر والوں کو انگلینڈ نہیں بھیجا تھا
منگلا ڈیم کی تعمیر کرنے والی مرکزی کمپنی بنی اینڈ پارٹنرز ایک برطانوی فرم تھی جس نے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر میرپور کے ان بے گھر افراد کے لیے ایک اسکیم نکالی تھی جن کی زمینیں ڈیم کے پانی کے نیچے آ گئی تھیں
پاکستانی حکومت اور برطانوی حکومت نے مل کر میرپور کے بے گھر لوگوں کو ورک پرمٹ دیے تھے تاکہ وہ برطانیہ جا کر آباد ہو سکیں اور یہ ان کے معاوضے (کمپنسییشن) کا ایک حصہ تھا یہ ورک پرمٹ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے تھے جنہیں ڈیم کی تعمیر کے دوران روزگار نہیں مل سکا تھا
ہم اتنی دیر سے نعرے مارتے آ رہے ہیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان، اب وقت آ گیا ہے کہ اسے پاکستان کا حصہ بنا دیں کشمیریوں کی اکثریت بھی یہی چاہتی ہے گلگت بلتستان کو بھی پاکستان میں شامل کریں، متنازعہ علاقہ، متنازعہ علاقہ والے راگ الاپنا چھوڑیں، یہ تب کی باتیں تھیں جب بھارت نے آرٹیکل ۳۷۰ ختم نہیں کیا تھا
چونکہ بند بجلی گھروں کا خرچہ بھی حکومت نے دینا ہے اس لیے شہباز شریف حکومت کا اعلان ہے
بجلی استعمال کریں نا کریں بل آپ کو پورا دینا ہو گا اب بات استعمال شدہ یونٹ کی نہی رہ گئ ہے
آجکل امبانی خاندان کا بہت چرچا ہے لیکن ساتھ یہ بھی نوحہ گایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس امبانی ، برلا ،ٹاٹا جیسی کمپنیاں کیوں نہیں ہیں۔
لیکن کیا کیا جائے کہ نئی نسل کے لیئے جاننا ضروری ہے ۔۔۔۔۔کہ
1970 تک پاکستان میں تیس چالیس امبانی، ٹاٹا برلا سے بڑے جینیئس صنعتکار، بینکار، بزنس جینئس تھے۔ جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا۔
ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا، مڈل ایسٹ کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا۔
ان میں سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا، داوود گروپ ہیوی وہیکل اور زرعی مشنری کے بادشاہ تھے۔
داوود ہرکولیس کے پاس ٹریکٹر کی پروڈکٹ تھی، ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات، اصفہانی خاندان اور سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک تھے۔
ملک کی پہلی ائیرلائن قائم کی جو آج کی سب ائیر لائینوں سے بہتر تھی، حبیب گروپ بینکنگ کے کنگ تھے۔
ساٹھ کی دہائی ان کا حبیب پلازہ ایشیاء کی بلند ترین عمارت تھی۔
ایشیاء میں پہلا IBM بینکنگ سسٹم اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا۔
۔ فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس اور مختلف مصنوعات کے بانی تھے،
لاہور میں بیکو انڈسٹری یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل موٹرسائیکل اسمبل کرتے تھے۔
ان کی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلتی۔۔۔
میاں شریف کی اتفاق ٹیوب ویل اور تھریشر کے بانی تھے۔
سن چھیاسٹھ بیکو کے میاں لطیف اور اتفاق کے میاں شریف نے مغل پورہ ورکشاپ میں ٹینک سازی کی اجازت لی۔
لارنس پور وولن ملز کی سوٹنگ دنیا میں نمبر ون تھی جو کہ پوری صنعتی ریاست تھی۔
جن کے مالک مشینری بنگلہ دیش لے گئے۔
بھٹو صاحب نے ان 22 خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی کہ ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے ان کے پیٹ سے نکالوں گا۔
۔ہم عوام ان کے خون کے پیاسے ہوا کرتے تھے۔ ہم نے ان محسن خاندانوں کے خلاف خونی تحریک چلائی۔
بھٹو صاحب خود بھی فیوڈل تھے اور فیوڈلز یعنی بڑے زمین داروں نے پاور میں آکر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں۔ جس کو نیشنلائیزیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
سب جینئس خاندان تباہ و برباد ہوئے۔
بیکو کے میاں لطیف جرمنی چلے گئے، کسمپرسی کی حالت میں فوت ہوئے۔
اتفاق کے میاں شریف ملک چھوڑ کر گلف سٹیل ملز کے نام سے مڈل ایسٹ میں فیکٹری لگا کر بیٹھ گئے۔
اصفہانی کنگال ہوگئے ۔
ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے گیا۔
ائیرلائن پی آئی اے بن کر تباہ ہوئی،
حبیب گروپ سے حبیب بینک چھین لیا گیا،
سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائرز پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔
کوہ نور پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی تباہ ہوئی۔
رہے سہے جاگیرداروں کو اسمبلیوں میں لا کر بٹھا دیا ۔کاروبار بند کروا کر سیاست پہ لگا دیا
مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور کے میمن سنگھ اور نرائن گنج بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے،
کراچی سائیٹ انڈسٹریل ایسٹیٹ جہاں گندھارا والے ہینو ٹرک بناتے، شاہنواز لمیٹڈ، شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبلی کرتے تھے، سب کچھ قومیا (نیشنلائیز) کرکے تباہ کر دیا گیا۔
ان خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئی۔
عوام کو بے روزگار کیا فیوڈلز، وڈیرے چوہدری مخدوم لغاری جتوئی ٹوانے سب بڑے زمیندار اسمبلیوں میں پہنچ گئے اور ایلیکٹیبلز بن گئے۔
اور صنعتکاروں کو تباہ کرکے لوگوں کو ان وڈیروں کا اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیاگیا ۔
اہل شعور اور خواندہ لوگوں کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
🚨بجلی کے بل ایک سال میں 80 فیصد اضافہ
کسی غریب نے مجھے یہ بل بھیجا ہے ان کے ہمیشہ دو سو یونٹ سے کم استعمال ہوتے پچھلے سال 194یونٹ پر ان کا بل اٹھارہ سو تھا اس سال 117 یونٹ کا بل 28سو کے قریب ہو چکا اور ساتھ یہ نوٹس بھی آ گیا کہ یہ 117 یونٹ ساڑھے چھ ہزار کے ہیں ہم نے سبسڈی دی ہے اب اگر آپ بینظیر انکم سپورٹ سے منسلک نہی تو سو یونٹ بھی چھ ہزار کا ہو گا
اس ظلم پر اویس لغاری کو تمغہ بھی ملا ہے آپ اگر آواز نہی اٹھائیں گے تو یہ حکومت یہ کام کر گزرے گی
ویسے تو مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ NCCIA صرف سیاسی انتقام، ذاتی انتقام یا مختلف شخصیات کی ایما پر انتقامی مقدمات درج کرنے والا ادارہ ہے، اسکا عوام کے حقوق کیلئے کام کرنے سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن پھر بھی اپنے حصے کی اذان دینے کے پیش نظر عوام NCCIA اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گلوکارہ محترمہ حدیقہ کیانی صاحبہ سمیت عورتوں کے کردار بارے فیس بک پر یہ بیہودہ اور گھٹیا پوسٹ لکھنے والے ریات اللہ فاروقی نامی شخص اور اس پوسٹ کو شیئر کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے۔
@NCCIAOFFICIAL@MohsinnaqviC42
چھترول جاری رکھیں یہ پیٹرول قیمت واپس ہو جائے گی ان کے درباریوں ، وزیروں کسی کو کوئی اور مسلہ مت لکھنے دیں ان سے صرف مہنگے پیٹرول پر سوال کریں
آج کے دور کا موثر ترین احتجاج یہ ہے
باپ کو بیٹا چاہیے تھا اور میں پیدا ہو گئی! میرا DNA ٹیسٹ کروایا رپورٹ آئی پھر بھی باپ نے کہا یہ میری بیٹی نہیں ہے!باپ نے مجھے گھر سے نکالا، ماں سے کہااِسے رکھنا ہے تو میں تمہیں طلاق دے دونگا!والد کی محبت و شفقت سے محروم بیٹی کی باتیں سن کر اینکر کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے
#PublicNews #PublicUpdates
🇮🇳INDIAN Today:
What a savage, merciless barbarity!😨
A herd of the so-called 5,000-year-old “civilized” creatures ripping the throat of a living, innocent goat and drinking its warm blood.
Do these primitives still deserve any place in our society?😒
عوامی مطالبہ
بے نظیر بھٹو دور کے لگائے گئے تمام آئی پی پیز کے پاور پرچیز ایگریمنٹس ختم کرو۔ ان کو دی گئی توسیعات، کم قیمت ایندھن کی سہولتیں ختم کرو۔ حکومت جتنی بجلی خریدے، اتنی رقم ادا کرے۔ کیپیسٹی چارجز ختم کرو۔ مشکل وقت ہے، صرف قوم ہی کیوں قربانی دے، یہ بھی قربانی دیں۔ کئی گنا زیادہ منافع کما چکے ہیں۔
آواز اٹھائیں اگر آپ متفق ہیں تو
یہ لڑکا چوک چوراھوں پر مسلم لیگ نواز کے لئے یوتھیوں سے لڑتا رھا ،ھم میں سے سب نے اس کی ویڈیو کبھی نا کبھی لگائی ھے لیکن پنجاب میں پیرا فورس،ٹریفک وارڈنز کی بدمعاشی،تاجران اور کسانوں کی دشمن پالیسیز کے خلاف بول پڑا۔یوتھئے نا بنیں اس حکومت کے غلط اقدامات پر سچ بولیں سچ لکھیں۔