ہم آج بھی وہی مؤقف رکھتے ہیں جو باچا خان، خان عبدالولی خان اور اسفندیار ولی خان نے پوری زندگی اختیار کیا۔ ہماری سیاست کسی فرد، کسی حکومت یا کسی ادارے کے گرد نہیں گھومتی، بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی، جمہوریت، آئین اور وفاق کی مضبوطی کے گرد گھومتی ہے۔
اگر واقعی انتظامی اصلاحات مقصود ہیں تو سب سے پہلے عوام کو اختیار دیا جائے، مضبوط بلدیاتی نظام قائم کیا جائے، صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے جائیں اور پارلیمنٹ کو فیصلوں کا مرکز بنایا جائے۔ نئے یونٹ بنانے یا نقشے تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، جب تک عوام کو اپنے وسائل اور اپنے فیصلوں پر اختیار حاصل نہ ہو۔
پختونوں کے حوالے سے ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم مزید تقسیم کے قائل نہیں ہیں، بلکہ اتحاد کے قائل ہیں۔ سابق فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام ہماری دہائیوں پر محیط جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اب ہماری خواہش ہے کہ بلوچستان کے وہ اضلاع جہاں اکثریت پختون آبادی پر مشتمل ہے، انہیں بھی ایک آئینی اور جمہوری عمل کے ذریعے پختونخوا کا حصہ بنایا جائے تاکہ تمام پختون ایک ہی انتظامی اکائی میں اپنے جمہوری حقوق استعمال کر سکیں۔
یہ کسی دوسرے کی زمین یا حق پر دعویٰ نہیں، بلکہ تاریخی، ثقافتی، لسانی اور جمہوری حقیقت کی بنیاد پر ایک آئینی مطالبہ ہے۔ ایسے تمام فیصلے عوام کی مرضی، پارلیمنٹ اور آئین کے مطابق ہونے چاہییں، نہ کہ کسی بند کمرے میں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی مضبوطی مزید تقسیم میں نہیں بلکہ ایک حقیقی وفاق، صوبائی خودمختاری، بااختیار بلدیاتی نظام، آزاد پارلیمنٹ، آزاد عدلیہ اور عوام کی حکمرانی میں ہے۔
باچا خان نے ہمیں نفرت نہیں، خدمت کا راستہ دکھایا۔ ولی خان نے ہمیں جمہوری جدوجہد سکھائی۔ اسفندیار ولی خان نے ہر مشکل وقت میں آئین اور پارلیمنٹ کا ساتھ دیا۔ آج بھی عوامی نیشنل پارٹی اسی نظریے پر قائم ہے: بندوق نہیں، بیلٹ؛ جبر نہیں، جمہوریت؛ تقسیم نہیں، اتحاد؛ اور طاقت کا ارتکاز نہیں، بلکہ اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی۔
ہمارا پیغام واضح ہے: ایک متحد پختونخوا، مضبوط مقامی حکومتیں، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، اور ایک ایسا پاکستان جہاں ہر قومیت کو برابری، عزت اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو۔
@HamidMirPAK I worked as subordinate with Abdul Hakeem kakar sb, he was really a great and loyel jduge and was following the law in each and every case.
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گلزادی بلوچ کو تین مقدمات میں ضمانت دینے والے جبکہ بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دینے والے بہادر جج کو قتل کرنے والے دراصل بلوچستان میں انصاف کے دشمن ہیں
صبح نئی پر خبر وہی کل رات تقریباً 1:30 بجے 26 سالہ عامر غنی کلمتی ولد شمس الدین کلمتی کو کراچی کے علاقے شرافی، حاجی شاہ علی گوٹھ سے رینجرز اہلکاروں نے ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
#EndEnforcedDisappearances#Balochistan
بلوچستان میں قتل و غارت گری بند کرنی ہو گی۔ صرف ایک جج کو اس لیے مار دینا کہ وہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کے کیسز میں آپ کی مرضی کے فیصلے نہیں دے رہا، ظلم کی انتہا ہے۔
دراصل مقصد ملک بھر کے ججز کو ایک پیغام پہنچانا تھا کہ فیصلے صرف ہماری مرضی سے ہوں گے۔
#ظلم_جب_حدسےبڑھتاہےتومٹ_جاتاہے
@lindberg_clara@hyrbyair_marri Now its proved that BLA is aslo a proxy weaponed group using the name of Baloch liberation movment. But in fact BLA seems to fight against the china for in favor of America. And BLA is sponsering by America and doing war against the china.
While Baloch nation is also distroying.
🚨Tension continue to rise in Balochistan as the security landscape grows increasingly volatile, marked by recent statements and threats from the BLA focusing on state structures and demographic dynamics.
@hyrbyair_marri
جیئند بلوچ کی اہلیہ کے مطابق، کل رات تقریباً 11 بجے سی ٹی ڈی کے اہلکار ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے اسلحے کے زور پر ہمیں ہراساں کیا، بچوں کے ساتھ مارپیٹ کی، اور میرے شوہر، جیئند بلوچ، کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
#ReleaseJiandBaloch #SaveJiandBaloch
موجودہ حکومت اور اس کے ڈائریکٹرپچھلی حکومت میں اقتصادی اور مالی بحران کا رونا روتے تھے لیکن ۴ سال بعد آج بھی ۱۰ ارب ڈالر کی خیرات امریکا سے مانگی جارہی ہے چینی اور سعودی خیرات الگ ہیں ، بس ججوں ، سول اور فوجی بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ کی ٹنخواہیں/مراعات آسمان تک پہنچ گئے ہیں
Balochistan has reached a point where people are forced to bury the dead almost every day. The violence no longer distinguishes between ordinary civilians and those entrusted with upholding the law. Even respected judges have now become targets.
The daylight killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar is not merely a cause for alarm. It is a devastating indictment of the lawlessness engulfing Balochistan and the profound insecurity faced by its people.
Meanwhile, the Balochistan government appears consumed by a single task: going on television to claim that the state’s writ has been restored and that “the situation is normal,” and busy in their crackdown against peaceful activism and dissents. But the government has failed to protect its people. Beyond this carefully constructed narrative, it has little to show.
As conditions in Balochistan continue to deteriorate, the provincial government’s response has been to double down on rhetoric rather than confront the crisis. Instead of restoring security, it seems more invested in concealing its own failures than addressing the reality unfolding on the ground.
Neha Bora exposes the real terrorists: Delhi Police! Their brutal scars on students will define ‘terrorist’ in every dictionary. Terror, fear, violence all point to them. We will NEVER forget! #cjp_पार्टी#संसद_मार्च