Pti کو سیاست چمکانے کے لئے گٹڑ کی گہرائ میں بھی جانا پڑے تو دریغ نہیں کریں گے۔ پمز ھسپتال کی ٹریجڈی کو KP کے وزیر اعلی اپنے لیڈر کے وہاں چیک اپ سے جوڑ ھیں ۔ سیاست وطن عزیز میں کبھی اتنی پستی اور ذلت کا شکار نہیں ھوئی تھی۔
بانی pti کی صحت پہ تماتر سوال انکی پہنوں کی پریس کانفرنس میں الحمدوللہ انکی فٹنس کے بارے بیانُکے بعد ختم ھو جانے چاہئیں مگر رنگ بازی جاری ھے۔ یہ لوگ چاہتے ھیں IK کے معاملات گھمبیر اور مخدوش رہیں تا کہ انکا میٹر چلتا رہے
کرنل اسفند یار نے بالکل درست عمل کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کو بچایا اگر میں بھی انکی جگہ ہوتا تو یہی کرتا
لیکن آپکی جماعت کے کُتے کرنل پر بھونک رہے ہیں
جی کتوں کا کام بھونکنا ہے
اور ناظرین بیرسٹر گوہر نے شہباز لل سمیت تمام یوتھیوں کی مما کی یہہ کر تہہ لگا دی ہے
میں ان کو لوگوں ( یوٹیوبرز/جرنسلٹوں ) روکوں گا جو باہر سے ڈالر لیتے اور فوج کو گالی دیتے ہیں۔
فوج کا دفاع کروں گا کیوں کے وہ میرا میرے بچوں کا میرے ملک کا دفاع کرتی ہے۔
عمران ریاض #خان_دور مین بتاتے ہوئے کہ آرمی پر تنقید کرنے والے دشمنوں سے ڈالر لیتے
صحافی بھی کسی طور پر بری الذمہ نہیں۔
ان کا پورا زور اسٹیبلیشمینٹ، عمران خان اور حکومت کی رپورٹنگ پر رہتا ہے۔
کسی صحافی نے ناقص انتظامات پر کبھی کوئی ریپورٹنگ نہیں کی۔
اب اپنے تجزیوں سے ہمیں چوتیا بنا رہے ہیں۔
اور یہ اعتراض وہ کررہے ہیں جن کے لیڈر نے ایک ہی جہاز میں اپنی اہلیہ اور انکے پشلے خاوند اور انکے بچوں کو سعودی عرب کا چوٹا دوایا اور پھر وہیں پر اس لڑکی کا ویاہ کروایا جو مانیکا کے تخم میں سے تھی اور تمام خرچ ریاست پاکستان نے ادا کیا اور پھر اس مانیکا کے جوائی کو تحائف بھی دئیے
جو لوگ فوج کے خلاف بولتے ہیں یا اداروں کے خلاف، ان کا ایک ہی علاج ہے، تلوار سے ان کا سر قلم کردیا جائے، ان کا صفایا کردیا جائے۔ چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر #خان_دور
عظمیٰ خانم بار بار اس جھوٹ کی تردید کررہی ہے لیکن اسد اللہ خان جیسا یوٹیومر گٹے جوڑ کر جھوٹ بول رہا ہے اور وقار خان جیسا کلٹ اسی جھوٹ کو پھیلا رہا ہے اور یہ دونوں ڈالروں کی بوریاں بھر رہے ہیں اور یوتھیے وہ چوتیے ہیں جنہیں مزید چوتیا بنانا سب سے آسان ہے
یاد تو ہوگا جب نواز شریف نے آرمی کی سیاست مین اور #جنرل_فیض کی عدلیہ میں مداخلت پر اعتراض کیا تو ناصرف پیمرا نے ان پر پابندی لگائ بلکہ خان نے فوج سیاست مداخلت پر اعتراض کو ملک دشمنی سے ملایا
9 دسمبر 2023 کو بتا دیا تھا کہ پی ٹی آئی کی خودکش سیاست کا انجام Greek Tragedy کے سوا کچھ نہیں۔ Greek tragedy (یونانی المیہ) سے مراد قدیم یونان کا وہ بلند پایہ سنجیدہ ڈراما ہے جس کا انجام انتہائی المناک، دردناک اور تباہ کن ہوتا ہے۔
وہ ایک غیرت مند خاوند تھا جس نے اپنی اہلیہ کی حرمت کیلئے نوکری داؤ پر لگا دی لیکن عزت پر آنچ نہیں انے دی اور ہجوم میں موجود کتوں کو سبق سکھایا جبکہ ایک بیغیرت ایسا بھی تھا جس نے مزاق رات ذریعے اہلیہ کو آگے پیش کیا اور آج اسی دگڑ دلے کے پیروکار ایک غیور باوردی شخص پر بھونک رہے ہیں
یہ ہے وہ جنسی درندہ جدون خان جس نے آج سرحد یونیورسٹی میں سارا کھیل رچا۔ اس پر خواتین کو ہراساں کرنے کے درجنوں الزامات تھے۔ ڈاکٹر آئینہ نے اس کے خلاف بچیوں کی طرف سے کمپلین کی جس پر اس نے ان کے دفتر میں ان پر حملہ کیا۔
ڈاکٹر آئینہ نے اس پر پولیس میں شکایت بھی کس پر اس نے تحریری معافی نامہ مانگا۔
جب اس کی حرکات پر اسے فارغ کیا گیا تو اس نے چند سٹوڈنٹس کو ساتھ ملا کر پھر سے ہلڑ بازی کی۔تصویر کے دونوں رخ کو دیکھا جائے اور ان کرداروں کو بھی کیفر کردار تک پہچایا جائے
اس ایک ٹوئٹ میں صرف تین لائنوں میں یونیورسٹی وقوعہ کی مکمل تصویر کشی کردی گئی ہے اور یہاں مورخ بھی لکھ چھوڑے گا کہ علی بھائی کی راتی کوئی نہیں جمیا
بس ایک چھوٹی جئی عرضی ہے کہ مانیکا کے پیچھے لطیف بھی کھڑا کردیتے جس کے سامنے خان جی کھڑا کرتے تھے تو آٹھ چاند لگ جاتے
اگر آپ سالم رکشہ کروا کر صرف پانچ سال ریورس گئیر لگائیں تو آپکو معلوم پڑ جائے گا کہ عمرانی یوٹیومر کرنل کی بیوی حمایت میں مرے جارہے تھے کیونکہ اس وقت عمران اقتدار میں تھا اور فوج اپنی تھی لیکن آج وقت بدل گیا ہے کیونکہ عمران اقتدار میں نہیں ہے
محترم وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب
اس شخص کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے جو کہ پاکستان میں رہ کر افواج پاکستان پر بھونک رہا ہے اور اپنا بغض نکال رہا ہے اور اس وردی کی تضحیک کررہا ہے جسے پہن کر میجر عدنان شہید نے بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے سینہ پر گولی کھائی تھی
ایک اور 9 مئی کی تیاری جاری ہے اور جسطرح حسان نیازی نے کورکمانڈر لاھور کی وردی ہوا میں لہرائی تھی اور اس وقت صدیق جان ملیحہ ہاشمی نے اپنی ٹوئٹس ذریعے عوام کی رگوں میں زہر بھرا وہی طریقہ واردات اج اپنایا گیا ہے
پتہ نہیں حکومت نے پیکا ایکٹ پٹواریوں کی بنڈ سیکنے کیلئے رکھا ہے