انتخابی میدان میں بھاری بھرکم ووٹوں کی لیڈ سے ہارنے والے اور انتخابی زرداری کے کیس میں ٹیکنیکل بنیادوں کے پیچھے چھپنے والے فارم 47 کے ایک رہنما دانیال چوہدری کی آہ بھی آج ان کے بڑوں کی جانب سے ڈیوٹی لگی کہ وہ آج کے دن پریس کانفرنسز کریں گے، اور اس نے وہ ڈیوٹی پوری طریقے سے نبھائی۔
اصولی بنیادوں پر تو ایک مینڈیٹ چور کو جواب دینا بھی نہیں بنتا، لیکن ہم بھی کیا کریں، یہاں تو پوری کی پوری کابینہ اور پرائم منسٹر تک اب کس کس کا جواب دیں اور کس کا نہ دیں۔
بہرحال دانیال چودھری صاحب آج جو آپ نے بدزبانی کی اور حقائق سے ہٹ کر جھوٹ کا جو بازار گرم کیا اس پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا انتہائی ضروری تھا۔ میں اپنے دیگر پیغامات کے بعد آج کے اس جواب میں ایک بار پھر واضح کر دوں کہ شہداء کے پاکیزہ خون پر سیاست کرنا بند کریں۔
خیبر پختونخوا کے بہادر شہداء وہ سب سے پہلے اس صوبے اور صوبائی حکومت کا فخر ہیں، وہ ہمارے اپنے بچے ہیں، وہ ہمارے ووٹر سپورٹرز اور اس مٹی کے بیٹے ہیں۔ ان کی قربانیوں کا درد اسلام آباد کے میں دوبارہ کہوں ائیر کنڈیشنڈ بند کمروں میں بیٹھ کر پریس کانفرنسیں کرنے والے نااہل اور غیر نمائندہ حکمرانوں سے کہیں زیادہ خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت اور عوام کو ہے۔
آپ نے فرمایا کہ خیبر پختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ پی ٹی آئی نے انہیں یرغمال بنایا ہوا ہے۔ واہ بھائی واہ۔ بیرسٹر صاحب تو یہ جو آئے روز کے پی پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے اداروں کے بہادر جوان دہشت گردوں سے لڑتے اور دھماکوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں، کیا وہ ڈائریکٹ اسلام آباد سے کے پی میں آ کے لڑ رہے ہیں؟ یا آپ نے اپنے حلقے کے کسی تھانے سے کسی چوکی سے نفری بھجوائی ہے یہاں پہ؟ یہ سب خیبر پختونخوا پولیس کے ہی اپنے بیٹے ہیں اور جوان ہیں جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دہشت گردی کے اس عفریت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں اور اپنے سینے کر کے اس عفریت کو ملک کے باقی حصوں میں پھیلنے سے روک رہے ہیں۔
جہاں تک ہماری جانب سے دہشت گردی اور طالبان کی مذمت کا تعلق ہے تو آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دہشت گردی اور دراندازی کسی بھی سطح پر ہو تحریک انصاف نے نہ صرف ہمیشہ اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے بلکہ اس کے خلاف موثر ایکشن کی بات بھی کی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارا مطالبہ کسی بھی ایکشن سے پہلے مشاورت کا، پارلیمان اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا ہے لیکن افسوس کہ یہی نقطہ آپ کو اور آپ کی جعلی حکومت کو ہضم نہیں ہوتا۔ آپ کی انا کو یہ بات گوارا نہیں کرتی کہ وہ منتخب نمائندوں سے مشاورت کریں یا متفقہ فیصلوں کے ذریعے پالیسیز کا نفاذ کریں۔ آپ اور آپ جیسے حکومتی عناصر صرف اسلام آباد میں، دوبارہ کہوں گا بند کمروں کے پیچھے فیصلے کرنے اور دہشت گردی سے متاثرہ صوبوں سے کوسوں دور بیٹھ کر صرف احکامات صادر کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں عوام کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی کاموں پر آپ کی تنقید سرے سے بدنیتی پر مبنی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے میں دشواری ہے کہ آخر آپ جیسے جعلی مینڈیٹ چوروں کو عوامی فلاح کے اقدامات سے تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ آپ کے دیگر جعلی رہنماؤں کی طرح چیف منسٹر کے پی بھی قوم کے اربوں روپے سے ذاتی جہاز خریدیں، عوامی پیسوں پر ملکوں ملکوں طیاروں کے جھولے لے؟ پولیس کو فنڈز نہ دینے کے گھٹیا طعنے پر میں دوبارہ حقیقت سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ پہلے اپنے وفاقی بجٹ اور مالیاتی عدم تعاون کے گریبان میں جھانکیں۔ سچائی یہ ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ نے خیبر پختونخوا کے حصے کے جائز فنڈز اور این ایف سی کے تمام وسائل مسلسل روک رکھے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت نے اپنے محدود ترین وسائل کے باوجود سیکیورٹی اور پولیس کے لیے ریکارڈ فنڈز جاری کیے ہیں۔
اور جو الزامات آپ نے لگائے ہیں کہ پی ٹی آئی طالبان کے حملوں کی مذمت نہیں کرتی، یہ کابینہ اور چیف منسٹر کی ترجیحات درست نہیں، وہ خیر سے ہے، سن لیں بھائی خیبر پختونخوا کی پالیسیز نہ افغانستان سے آتی ہیں اور نہ ہی بند کمروں سے، خیبر پختونخوا کی پالیسی اسی صوبے کے غیور اور منتخب عوام کی مرضی سے بنتی ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام کو بخوبی معلوم ہے کہ ان کے حقوق کا محافظ کون ہے اور کون اسلام آباد میں بیٹھ کر ان کے حق کا پیسہ روک کر تماشا لگا رہا ہے۔ پی ٹی آئی مذمت نہیں کرتی یار خیر تو ہے؟ وفاق کے ظلم اور وسائل کی بندش کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت اپنے شہداء، ان کے لواحقین، اپنی پولیس اور اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی ائی سلمان اکرم راجہ کی لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو
صرف کسی اندیشے کی بنیاد پر کسی کے بنیادی حقوق چھین لینا کہاں کا انصاف ہے
سفاکیت کی تمام حدیں عبور کردی گئیں ہیں
علیمہ خان کی نظر بندی کو 9 دن گزر چکے ہیں
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں نا؟"
"انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر اس کے اپنے بچے اور بزرگ اس سے شرمندہ ہوں... یاد رکھیں، ظالم اور ظلم اسی دنیا میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔"
ضمیر کی عدالت اور بچوں کی معصومیت سے جڑا ایک ہلا دینے والا پیغام۔ ہر صاحبِ اقتدار اور اختیار کے لیے لمحہ فکریہ!
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری سینٹرل پنجاب رائے جاوید الحسن کو حافظ اباد سے گرفتار کر لیا گیا ہم رائے جاوید الحسن کی غیر قانونی گرفتاری کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں