پاکستان کی سیاست میں ٹھہراؤ اور بڑی اصلاحات کیلئے عمران خان کی فوری رھائ سب سے اہم شرط ہے، عمران خان کے بغیر ملک میں کوئ وفاقی لیڈر نہیں اور اصلاحات کے عمل میں ان کی حمائیت انتہائ اہم ہے!!
اگر عمران خان مجھے کہتا کہ چھت سے چھلانگ مارو تو میں نے دوسری دفعہ پوچھنا نہیں تھا کہ کیوں چھلانگ ماروں۔ ٹانگ ٹوٹ سکتی ہے، یہ ہو سکتا ہے، وہ ہو سکتا ہے، کانسیکوئنسز ہم لوگوں نے نہیں لینے تھے۔ ہماری جو کامیابی تھی، اس لیے تھی کہ ہم نے ایک ایسے لیڈر کو فالو کیا جو ایماندار تھا اور جو ہم سے بہترین کارکردگی کی توقع رکھتا تھا۔
میرے لیے، میرے والد کے بعد میری زندگی پر سب سے بڑا اثر عمران خان کا ہے۔
وقار یونس @waqyounis99
#ناحق_قید_کے_3سال
#ReleaseImranKhan
اٹھا لیا گیا تو کئی ہفتوں یا مہینوں تک کوئی خیر خبر نہیں تھی۔ نا تو وکیل سے رابطہ کروایا گیا اور نا ہی اہلخانہ سے ۔ اس دوران سختیوں اور پابندیوں کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کافی وقت کے بعد پہلی مرتبہ گھر فون کرنے کی اجازت ملی۔ بتایا گیا کہ دو تین منٹ کی اس فون کال کے دوران کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کرنی۔ مہینوں بعد ہیلو کی آواز نے زار و قطار رلا دیا۔
“ جنید بول رہا ہوں آپ ٹھیک ہیں ؟ میں بھی ٹھیک ہوں “
تیسرا سوال آپ کی جان نکال دے گا۔
“ عمران خان رہا ہوگیا ہے ؟”
سیاسی گفتگو نہ کرنے کی پابندی تھی۔ خلاف ورزی پر آپریٹر نے کال منقطع کردی۔ جنید جہانگیر کی زبان میں لکنت ہے اللہ نے وہ کسر دماغ میں پوری کردی ۔ دو تین دفعہ اس سے ملاقات ہوئی تھی ۔قدیمی ٹوئٹر والے سبھی لوگ اسے جانتے ہیں۔ پرانے دور کا سلیبرٹی۔ سلمان رضا فرنٹ سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک نہیں رہا لیکن انتظامی امور میں ٹیم ورک میں سلمان رضا نے تحریک انصاف کے لیے بہت کام کیا۔
کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ بہت لوگوں سے پوچھا۔ ان کیساتھ مسئلہ کیا ہوا۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف آفیشلز نے اپنی گردن چھڑانے کے لیے ان کا نام دیا اور یہ امارات میں دھر لیے گئے۔ کچھ لوگوں نے یہ بتایا کہ انکی کچھ پوسٹس اماراتی حکومت کے راڈار میں آئیں جو ان کے لیے یہ مسئلہ بن گیا۔ جتنے منہ اتنی کہانیاں ۔ کچھ کا خیال ہے کہ تحریک انصاف انکے لیے کچھ نہیں کررہی۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف نے کافی سفارت کاروں ، سابق وفاقی وزراء اور بیک ڈور چینلز کی مدد سے انکی جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن ہر جگہ سے انکار ہوا۔
سلمان رضا بال بچے دار ہے۔ انکی اہلیہ کی پوسٹس دکھائی دیتی رہتی ہیں۔ جنید کے خاندان والے بھی روتے پیٹتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں معلوم ہوا کہ ان کو مختلف طرح کے طبی مسائل ہے۔ بغیر بے ہوش کیے سلمان رضا کی ایک سرجری بھی کی گئی۔ ان کی صحت بھی دن بدن گررہی ہے۔
اب شاید دو تین سال ہوچکے۔ کتنی ہی عیدیں ان دو خاندانوں کی سسکیوں میں گزری ہوں گی۔ بوڑھے ماں باپ دن میں کتنی ہی مرتبہ روتے ہوں گے۔ ان بوڑھے والدین کی بہنوں اور اہلیہ کی بچوں کی سسکیاں اور بددعائیں عرش ہلائیں گی ، ہم یہ سب بے غیرتیاں کرنے والوں کے لیے زمین ہلاتے رہیں گے۔ ایک دن جنید گھر فون کرے گا اور پوچھے گا “ اس کا کیا بنا” اسے بتائیں گے “ وہ آگیا ہے “ ہم سوشل میڈیا کی طاقت سے عمران خان سے جو پہلا کام لیں گے وہ جنید اور سلمان کی رہائی کا لیں گے۔
محسن نقوی کے بیان کو ignore کریں،let go کریں،خاموش رہیں،باہمی اعتماد قومی مفاد میں ہے،غیر ضروری عوامی تنازعات میں نہ پڑیں۔۔نوازشریف کی اپنی پارٹی سیاستدانوں کو ہداہیت۔۔
یہاں مجھے لیجنڈ منور ظریف کی مشہورِ زمانہ فلم “نوکر ووہٹی دا “ کا سپر ہٹ گانا یاد آ رہا،گانے کے بول ہیں
چُپ کر دَڑ وٹ جا
نہ عشق دا کھول خلاصہ
چمڑی لتھ جائے گی
سارے جگ دا بنے کا ہاسہ۔۔
آسان لفظوں میں جب بنیاد ہی فارم 47 ہوگا تو بہتر یہی ہے کہ اگنور کریں اور بنا لاٹری ٹکٹ خریدے جو لاٹری نکلی ہوئی ہے اِسے انجوائے کریں۔۔
چوہدری صاحب اس سوال کو وضاحت کی ضرورت ہے۔ یہ تو فوجی ریفرنڈم جیسا سوال لگ رہا ہے!🫣صوبوں کی ضرورت تو ہے لیکن اس جعلی اسمبلی سے نہیں۔ اتفاق راۓ کے ساتھ اور اخراجات پر پابندیوں کے ساتھ۔ ورنہ اٹھارہ صوبوں کےاٹھارہ وزیر اعلی اور لمبی کابینہ ،اربوں کے جہاز ۔ سوچ کے خوف آتا ہے۔😢
🚨🚨وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی کا بڑا دعوی🚨🚨
مسلسل ان لوگوں کو چھوڑا جا رہا ہے
جان بوجھ کر چھوڑا جا رہا ہے
سوات میں جو ہوا، بونیر میں کچھ ہونے جا رہا ہے
ہنگو میں واقعہ کسی کی غفلت کی وجہ سے ہوا
دیر واقعہ بھی کسی کی غفلت تھا
پولیس ان کو بلا رہی تھی وہ نہیں آئے
امن کیلئے کسی پالیسی سے بغاوت کرنی پڑی تو کروں گا
یہ نظام اتنا کھوکھلا ہے کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے نثار کھوڑو جیسا چھوٹا کردار محسن نقوی سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتا، نہ زرداری کرتا ہے اور نہ ہی بلاول کرتا ہےـ
اسی طرح سے ن لیگ کی طرف سے عاصمہ نواز جیسے مہرے کو آگے کیا جاتا ہے، نہ شہباز شریف کابینہ سے نکالتا، نہ نوازشریف کو ہمت ہوتی ہے اور نہ ہی مریم نواز کوئی احتجاج کر رہی ہےـ
پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری نورا کشتی کو سیریس لیا جائے؟؟
#ناحق_قید_کے_3سال
عمران خان کبھی وہ نہیں کریں گے جو پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے عمران خان اور ہمارے ساتھ کیا البتہ گرینڈ ڈائیلاگ جس کا حصہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتیں ہوں عمران خان اس پراسس کا حصہ ضرور ہوں گے اور ہونا چاھیے ، یہ پاکستان کی سالمیت اور مستقبل کا سوال ہے!!
علی امین گنڈاپور کا میدان میں اتر کر یکجہتی کا پیغام دینا انتہائی خوش آئند اور قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے بالکل سچ کہا:
"خدا کے لیے متحد ہو جاؤ! تم مضبوط ہو گے تو تمہارا دشمن کمزور ہو جائے گا، اور اگر آپس میں الجھتے رہے تو دشمن طاقتور ہوگا۔"
عمران خان کے نظریے اور اس جدوجہد کو کامیابی تک پہنچانے کے لیے تمام ساتھیوں کا ایک پیج پر ہونا لازمی ہے۔ آئیے آپسی تحفظات بھول کر ایک ہو جائیں! ✌️🚩
جھوٹ اور ظلم کی شکست یقینی ہے۔ ہم حق کی بات، غریب کی بات، انسانیت کی بات، عمران خان صاحب کے تاریخ ساز عزم اور رہائی کی بات کرتے رہیں گے۔ ۵ اگست کو عمران خان صاحب کی ناحق قید کے تین برس پورے ہو رہے ہیں۔ اب نکلو۔ وطن کی خاطر، سچ کی خاطر، اپنے اور اپنی نسلوں کی خاطر، عمران خان کی خاطر۔
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
وقت ہے حکومتی اتحاد توبہ کر لے، اپوزیشن خاص طور پر تحریک انصاف کے ساتھ بیٹھے، تمام سیاسی قیدیوں کو آزاد کرے اور ایک نئے میثاق جمہوریت پر اتفاق رائے پیدا کرے۔ اگر ابھی نا کیا تو سب ڈوبنے کے بعد اسی اپوزیش کے پاس جا کر کہنا پڑے گا کہ آئیں مل کر جمہوریت کے لئے تحریک چلاتے ہیں
چیف جسٹس تمہارا
آئینی عدالت کا سربراہ تمہارا
صدر تمہارا
وزیراعظم تمہارا
وزیر خزانہ تمہارا
وزیر داخلہ تمہارا
الیکٹرانک میڈیا تمہارا
منیب، غریدہ، منصور تمہارے
خود تم ٹرمپ کے فیورٹ فیلڈ مارشل
ہر ادارے میں ریٹائرڈ جرنیل بھی تمہارے
اور سسٹم پھر بھی بیٹھ گیا۔
اور پھر دشمنوں سے پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہورہی 🤣
سب کچھ تمہارا ہے اور خدا ہمارا ہے ۔۔۔۔۔
کسی کو کوئی شک نہ رہے۔ پی ٹی آئی نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی اور بربریت کیخلاف احتجاج کی وجہ سے آزاد کشمیر اسمبلی کے جاری الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے۔ آزادانہ رائے گولیوں کی بوچھاڑ میں نہیں دی جاتی۔ ۱۲ مہاجر نشستوں کا معاملہ انتہائی اہم ہے۔ پی ٹی آئی نے کسی بھی نشست پر کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ اس فسطائی ماحول میں منعقد ہر الیکشن مشکوک ہے۔ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی میں الیکشن لڑنے یا لڑانے والوں کیخلاف پارٹی تادیبی کاروائی کرے گی۔
سو ارب ڈالر کا انقلاب۔۔
کرپٹو کا انقلاب۔۔
اڑان پاکستان کا انقلاب۔۔
امریکہ کو قیمتی معدنیات بیچنے کا انقلاب۔۔
پاکستان اب قرضہ لے گا نہیں، دے گا۔۔ یہ والا انقلاب۔۔
بیرون ممالک سے کروڑوں کی سرمایہ کاری کا انقلاب۔۔
اور اب چار سال بعد
"آپ مانیں نہ مانیں، نظام گر چکا ہے"
👏👏👏
علیم خان! اتنی انقلابی اور جمہوری باتیں اُس وقت مناسب لگتی ہیں جب آدمی خود جعلی ایم این اے نہ بنا ہو۔ آپ کی سیاست کی شلوار میں فارم 47 کا لاسٹک لگا ہوا ہے۔
آپ این اے 117 میں میرے مقابلے میں واضح طور پر الیکشن ہارے، پھر عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر جعلی فارم 47 کے ذریعے خود کو فاتح قرار دلوایا۔ جس شخص کا اپنا اقتدار عوام کے ووٹ کے بجائے فارم 47 کا محتاج ہو، اُس کے منہ سے جمہوریت، انتظامی اصلاحات اور بادشاہت کے خاتمے کی باتیں محض مذاق لگتی ہیں۔
پہلے جعلی نشست سے استعفیٰ دیں، این اے 117 کے عوام سے اُن کا مینڈیٹ چرانے پر معافی مانگیں اور حقیقی فاتح کا حق تسلیم کریں۔ اس کے بعد جمہوریت اور انتظامی اصلاحات پر لیکچر دیجیے گا۔