JUST IN: 🇺🇸🇮🇱 President Trump says Israeli Prime Minister Netanyahu will have "no choice" but to accept a deal with Iran.
"I call the shots. I call all the shots. He doesn't call the shots."
امریکی نواز شاہ ایران کی طرح
جزیرہ عرب کی تمام بادشاہتیں آج نہیں تو کل
اختتام پذیر ہونگی وقت زیادہ دور نہیں ۔۔۔۔
انتباہ خامنہ ای با زبانی سعودی پرنس ترک الفیصل
لبنان پے اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا اسرائیل پے حملے کا اعلان دراصل اسرائیل کی کامیابی ہے لبنان پے حملے کا مقعد ہی امن معائدے کو ختم کرنا مقصود ہے ایران کو کچھ دن اور صبر رکھنا چاہیے اور فلحال اسرائیل پر حملے کو ملتوی کرنا چاہیے کوئی بھی امن معائدہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیاں ہو گیا تو وہ اسرائیل کی نہ صرف ناکامی ہو گی بلکے اسرائیل کی تمام محاذوں پر شکست بھی ہو گی
قیدی کے قلم سے
—————اسرائیل گزشتہ سالوں کی جنگ کے مقابلہ میں موجودہ غزہ کی جاری
جنگ اور حالیہ ایران و لبنان کو جنگ میں اتنا آگے جا چکا ہے کے اب اسکی واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی اِسی لئے امریکہ ایران کے جنگ بندی کے معائدے کی کسی بھی خبر کے بعد اسکے غزہ اور لبنان پے حملے شروع ہو جاتے ہیں تاکہ جنگیں جاری رہے کیو نکے کسی بھی امن محاہدے کے بعد امریکہ جنگ سے نکل آئے گا اور امریکہ کی جنگ سے واپسی کے بعد امریکہ خطے میں تاریخی طور پر انتہائی کمزور پوزیشن میں ہو گا جو اسکو آئندہ مستقبل میں کسی بھی خطے کی جنگ کا حصہ بننے سے محروم رکھے گا جو اسرائیل کو کمزور اور اسکی خطے یعنی جزیرہ عرب میں جاری تمام محاذوں پر پسپائی کا باعث لازمی بنے گا سادہ الفاظ میں امریکہ ایران کا کوئی بھی امن مہائدہ اسرائیل کے خاتمہ کی بنیاد رکھے گا اسرائیل کا وجود امریکہ کی طاقت کا مرہون منت تھا ہے اور رہے گا امریکہ خود عراق و لیبیا اور افغانستان کی طویل جنگ کے بعد اپنی طاقتور معیشیت کو انتہائی کمزور کر چکا ہے 38 Trillions ڈالرز کی مقروض معیشت کو صرف پیٹرو ڈالر کے عوض مزید ڈالر چھاپ کر چلایا جا رہا تھا اب ایران جنگ کے بعد خطے کی تیل کی خریدو و فروخت ڈالر کے بجائے چینی کرنسی میں ہونے کے امکانات کے بعد پیٹرو ڈالر کے خاتمہ کا آغاز ہو گی جو امریکی معیشت کو ہلا کے رکھ دے گی دوسرا اب امریکہ کے جزیرہ عرب میں فوجی اڈوں کو رلھنا بھی ممکن نہیں ہو گا یاد رہے جزیرہ عرب میں امریکی اڈوں کے خاتمہ کے بعد امریکہ کی خطے میں جنگ کی اہلیت دفن ہو جائے گی ماسوائے زمینی بری فوج کہی اتاری جائے اور یہ چیپٹر بھی افغانستان میں جنگ کے بعد ختم ہو چکا ہے امریکہ کے پاس خطے سے نکلنے میں ہی عافیت ہے اور یہ عافیت ہی اسرائیل کے خاتمے کا سبب بنے گی امریکہ ایران کی جنگ نے اسرائیل کو کمزور اور ایران کو طاقتور بنایا ہے اور ساتھ ہی خلیجی ممالک کی امریکی بنیادوں کو ہلا دیا ہے اب ایران خطے کا نیا ہیڈ ماسٹر ہے امریکی آشیرباد پر کھڑی اسرائیلی ہیڈ ماسٹر ی امریکہ کی زوال پذیر فوجی و معاشی طاقت کے ساتھ ہی آخری سانسیں لے رہی ہے
قیدی کے قلم سے
———-
پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی کارگردگی کا اگر حقیقی موازنہ کرنا ہے تو اسے کراچی کو لاہور سے موازنہ کرنا چاہیے اسکے بعد پیپلز پارٹی کی آنکھوں سے پردہ ہٹ جائے گا یہ تو ایک حقیقت ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کے وفاق کو آج کراچی کا درد کیوں محسوس ہو رہا ہے آئیے تین نکات کا جائزہ لیتے ہیں
۱- کیا وفاق کو کراچی کی عوام سے ہمدردی ہے ۔۔۔؟
۲- وفاق اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کراچی کو استعمال کر رہا ہے ۔۔؟
۳- واقعی پیپلز پارٹی کی ناقص متصبانہ پالیسی اور کرپشن نے کراچی کو تباہ کیا ہے ۔۔؟
نکات -۱
وفاق کو کراچی سے کوئی ہمدردی نہیں وفاق اصل میں فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے اور یہی فوجی اشرافیہ نے پیپلز پارٹی کو کراچی پلیٹ میں رکھ کر سجا کر اسلئے دیا کے پیپلز پارٹی نے فوجی اشرافیہ کا ہر حکم سر آنکھوں پر رکھا اسلئے کراچی کی تباہی کی پیپلز پارٹی اکیلی زمہ دار نہیں اس جرم میں فوجی اشرافیہ برابر کی زمہ دار ہے
نکات -۲
وفاق کراچی کے حقیقُ مسئلے کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے اصل مسئلہ اٹھویں ترمیم سے وفاق کا خزانہ خالی ہے اور اس خزانہ کو بھرنے کیلئے اٹھویں ترمیم ختم کرنا ہے یا کرچی پے پیپلز پارٹی کو بلیک میل کر کے اٹھاسویں ترمیم میں صوبوں کے بجٹ میں میں کٹوتی کرنا ہے
۳- پیپلز پارٹی کو بہترین موقع ملا تھا کے وہ کراچی کو اسکا حق دے کر ایسے کامیاب منصوبے بناتی جو کراچی کے ووٹوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی لیکن پیپلز پارٹی کی کرپشن اور نااہلیت نے یہ موقع ضائع کر دیا
———————یاد رہے وفاق اور پیپلز پارٹی میں مک مکا ہو جائے گا کیونکہ فوجی اشرافیہ صرف کراچی کے مسئلے کو اٹھا کر بلیک میل کر رہی ہے اگر فوجی اشرافیہ واقعی کراچی سمیت پاکستان کی عوام سے مخلص ہے تو اسے یہ مقصد حاصل کرنےکیلیے عمران خان کو میدان میں لانا پڑے گا اسکے بفیر یہ فوجی اشرافیہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی محتاج رہے گی اور یہ دونوں جماعتیں پاکستان میں نئے صوبے نہیں بننے دے گے
ایک فرانسیسی پادری نے کہا:
اگر اسلام واقعی تشدد پر مبنی مذہب ہوتا، جیسا کہ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں، تو مسلم فتوحات کے بعد عیسائیوں اور یہودیوں کا وجود باقی نہ رہتا۔ ان کا آج تک قائم رہنا خود اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔
پاکستان کو اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ہوشیار رہنا ہے۔ٹرمپ کا قریب ترین دوست نیتن یاہو صرف ایران نہیں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے ایران اور امریکا معاہدے کے بعد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازشوں کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ https://t.co/TEx7UQkgVr
سندھ کے سیاسی توازن کو ختم کرنے والی فوج ہے سندھ میں پیپلز پارٹی کو یک جماعت طاقت بخشنے والی فوج ہے سندھ میں پیپلز پارٹی کے علاوہ دوسری سیاسی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے والی فوج ہے تو اب کیسے فوج اٹھارویں ترمیم کو آمینڈ یا ختم کر سکتی ہے طاقت سے فوج کر نہیں سکتی سندھ کے یکطرفہ سیاسی اسٹیج کو سجانے والی فوج کیلئے محدود راستے ہیں جو قابل عمل نہیں زرداری موصوف کا “ پاکستان کھپے “ کا نعرہ لگانا فوج کو واضح پیغام ہے کے اٹھارویں ترمیم کو انگلی دی گئی تو “ سندھ کھپے “ کا نعرہ لگتے دیر نہیں لگے گی فوج کے پاس پیپلز پارٹی کے ہاتھوں بلیک میل ہونا پڑے گا اور سندھ کے وو علاقے جہاں پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک نہیں ہے وہ فلحال یتیم ہی رہے گے اور شہری سندھ کے یہ علاقے بلدویاتی مسائل کا شکار اور اقتصادی مواقعوں سے بھی محروم رہے گے ان علاقوں کی طاقتور سیاسی بساط کے قیام کے بغیر ان شہری علاقوں کو یتیم رہنا پڑے گا تاوقتکہ سندھ کے شہری علاقے اپنے آئینی حقوق کیلئے کوئی طاقتور سیاسی بساط بچھا سکے جو انکے سیاسی اقتصادی اور انسانی حقوق کا تحفظ کر سکے یاد رہے ایم کیو ایم پاکستان جو ان علاقوں میں قیادت کے نام پر موجود ہیں وہ فوج کے مفادات کا سندھ میں ایک پپٹ کی طرح تحفظ کرتے ہیں اور کرتے رہے گے جو ultimately پیپلز پارٹی کے سندھ میں ہاتھ مضبوط کرتی ہے
ٹرمپ اور امریکی حکومت نے ایران پر حملہ کرنے اور اسرائیل کی جانب سے بچوں کو قتل کرنے کے لیے 50 ارب ڈالر ضائع کیے، اور اب ایران کی تعمیرِ نو پر 300 ارب ڈالر خرچ کریں گے (اور ایسا ہونا بھی چاہیے)۔ تمام امریکی جنگوں کی طرح، اس کا اصل مقصد ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کو اربوں ڈالر پہنچانا اور امیروں کو مزید امیر بنانا تھا
جیسا کہ جولین اسانج نے ایک دہائی سے بھی زیادہ پہلے بصیرت افروز انداز میں کہا تھا، امریکی فوجی و صنعتی نظام (Military-Industrial Complex) کا حتمی مقصد جنگ جیتنا نہیں، بلکہ جنگوں کو مسلسل جاری رکھنا ہے تاکہ پیسہ اشرافیہ کے ہاتھوں میں منتقل کیا جا سکے۔
تحریر منقول
قیدی کے قلم سے
———————-خدا کہ حکم سے سارے پتے ایران کے پاس ہے امریکہ دوسرا حملہ بھی کر لے پھر بھی مزید ہزیمت اور ذلت سے شکست اٹھانی پڑے گی یہ حقیقت ٹرمپ ایڈمنسٹریشن اچھی طرح جانتی ہے ایم او یو پے سائن نہ کر کے صرف دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کے کچھ رعایت ایران کو طرف سے مل سکے جسے ٹرمپ اپنی فتح دکھا سکے جس میں امریکہ کو آج بھی ناکامی کا سامنا ہے اور دوسری بیوقوفی اگر کی تو مزید ناکامی اور شرمندگی کا ٹرمپ کو سامنا ہو گا ٹرمپ کے پاس وقت کم ہے ایک یا دوہفتہ میں ایم او یو پر ٹرمپ کو سائن کرنے ہونگے شکست کا یہ کڑوا گھوٹ امریکہ کو پینا ہو گا جتنا دیر کرے گے یہ گھوٹ مزید کڑوا ہو تا جاے گا یاد رہے
ایم او یو ساٹھ دنوں کا ہو گا جسکی کوئی عملی حیثیت فلحال نہیں ہے اور ساٹھ دنوں بعد اگست سر پر کھڑا ہو گا اور نومبر کے امریکی مڈ ٹرم میں دو ماہ باقی ہونگے اور اس وقت ٹرمپ اور ریپبلیکن جماعت انتہائی کمزور پوزیشن میں ہونگے جو کسی جنگ کے ہر گز متحمل نہیں ہونگے ٹائم سینسیٹیو وہ وقت ایران کیلئے بہت بڑی جیت کا باعث ہو گا ایران کی ٹائم بائنگ ٹیکنیک زبردست حکمت عملی کا حصہ ہے
امریکی صدر کی دھمکیاں گیدڑ بھپکی کے سوا کچھ نہیں امریکی تاریخ کی چالیس دن میں ایسی عبرتناک شکست جس میں 30 بلین سے
زیادہ کے نقصانات اور جزیرہ عرب کی علاقائی اسٹریجک کے عظیم نقصان کے بعد اگر دوبارہ اسرائیلی لابی کے کہنے پر ٹرمپ نے حملہ کرنے کی دوبارہ غلطی کی تو نومبر کے امریکی انتخابات میں اسکی جماعت ریپبلیکن کی عظیم شکست کو کوئی نہیں روک سکے گا لیکن اگر ایران پے دوبارہ حملہ نہیں کیا تو جب بھی آنے والے مڈ ٹرم انتخابات میں شکست تو ہو گی لیکن وہ شکست سوفٹ ہو گی
Three months ago today, a war began that no one voted for — and the cost has been paid by people who had no say in it.
Thousands of civilians have lost their lives. Thirteen U.S. servicemembers will never come home to their families.
Americans across this country and our city have watched prices rise at the pump and the grocery store, their budgets strained by a conflict launched without a single vote of Congress.
Every life lost abroad and every dollar squeezed from a working family here is part of the same reckless bill, handed to the people who could least afford it by those who will never pay it themselves.
I opposed this war from the first day. I oppose it still. It must end.