یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک دردناک سبق ہے۔ ضرور پڑھیں۔
وہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر تھا۔ عزت، اختیار، دولت اور شہرت—سب کچھ اس کے پاس تھا۔ اس کے پانچ بیٹے تھے، جنہوں نے بچپن سے ہی آسائشوں میں آنکھ کھولی۔ باپ کے عہدے اور اثر و رسوخ کی بدولت ان کے ہر کام آسانی سے ہوتے رہے۔
وقت گزرتا گیا، اور ایک دن اس کے نام کے ساتھ "ریٹائرڈ" کا لفظ جڑ گیا۔ عہدہ ختم ہوا، طاقت ختم ہوئی، مگر زندگی باقی تھی۔
کچھ عرصے بعد وہ شدید بیمار ہو گیا۔ نہ ٹھیک سے چل سکتا تھا، نہ بول سکتا تھا۔ وہی باپ، جس کی وجہ سے بیٹے فخر کرتے تھے، اب ان پر بوجھ محسوس ہونے لگا۔
بیٹوں نے جائیداد تقسیم کر لی اور ایک ملازم رکھ دیا کہ وہ بوڑھے باپ کی دیکھ بھال کرے۔ خود اپنی مصروف زندگی اور بیرونِ ملک سیر و تفریح میں لگ گئے۔
ایک دن ملازم چند لمحوں کے لیے کمرہ بند کر کے باہر گیا، مگر راستے میں حادثے کا شکار ہو گیا اور واپس نہ آ سکا۔ بوڑھا باپ کمرے میں اکیلا بند رہا۔ نہ وہ مدد کے لیے پ��ار سکتا تھا، نہ باہر نکل سکتا تھا۔
تین ماہ بعد جب بیٹے واپس آئے اور دروازہ کھولا، تو اندر ایک انتہائی دل خراش منظر ان کا انتظار کر رہا تھا۔ باپ اس دنیا سے جا چکا تھا۔
یہ واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی اولاد کے لیے دولت، جائیداد اور آسائشیں جمع کرنے میں گزار دیتے ہیں، مگر اگر انہیں والدین کی عزت، خدمت اور دینی و اخلاقی تربیت نہ دی جائے تو مال و دولت کسی کام نہیں آتی۔
اولاد کو صرف کامیاب بنانا کافی نہیں، بلکہ اچھا انسان بنانا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی قدر کرنے، ان کی خدمت کرنے ��ور اپنی اولاد کی بہترین اخلاقی و دینی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔