میں حیران ہوں کہ اتنے پڑھے لکھے سینیئر اینکرز نے کہا کہ مائیکل اتھرٹن پیسوں کے بغیر کمنٹری نہیں کرتا تو وہ عمران خان کے حق میں بات پیسے لیے بغیر کیسے کر سکتا ہے میرا ان سے سوال ہے کہ آپ جو عمران خان کے خلاف اتنے بڑے بڑے قصیدے پڑھتے ہیں وہ بھی آپ پیسے لے کر کرتے ہوں گے ؟ ایک وقت تھا حسن نواز حسین نواز نے انٹرویوز دیے تھے انہوں نے بھی پیسے لیے ہوں گے ! شازیہ زیشان ۔
آصف زرداری صاحب لندن میں بیٹھ کر اب یہاں اپنا اسلحہ چلا رہے ہیں ، مراد علی شاہ تک کو فرنٹ لائن پر لے آئے ہیں جبکہ ن لیگ میں اکلوتے نواز شریف انتظار کر رہے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی جیتتی نظر آئی تو ان کیساتھ کھڑے ہو کر سیاسی شہید بنیں گے وگرنہ جہاں ہیں وہیں سر جھکا کر رہیں گے
پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا “اسپیشل سیکیورٹی کیس” قانون عدلیہ کی آزادی اور شفاف انصاف کے لیے ایک خطرناک قدم ہے۔
اس قانون کے تحت ایک گریڈ 20 یا اس سے اوپر کا افسر، جسے وزیرِ اعلیٰ نامزد کرے گا، تن تنہا یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھے گا کہ کون سا دہشت گردی کا مقدمہ “خصوصی تحفظ” کا مستحق ہے۔ جیسے ہی وہ یہ نامزدگی کرے، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے، نہ انکار کی گنجائش، نہ نظرثانی کا حق۔ ایک غیر منتخب، غیر شناخت شدہ افسر کو عدلیہ پر یہ بالادستی دینا انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ ایسے اختیارات پہلے ہی موجود قوانین میں شامل ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 (دفعہ 21) ججز کو اپنی صوابدید پر بند کمرہ کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور 2018 کا گواہ تحفظ قانون جیل میں ٹرائل کی سہولت دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزاد ججز سے یہ اختیار چھین کر ایک ایسے سرکاری افسر کو کیوں دیا جا رہا ہے جو خود ایگزیکٹو کا تابع ہے؟
وزیرِ اعلیٰ کا نامزد کردہ افسر کسی بھی حکم سے انکار کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ نہ آزادانہ نگرانی، نہ عوامی ریکارڈ، نہ کوئی ضمانت کہ یہ “دہشت گردی مخالف” قانون سیاسی مخالفین، صحافیوں یا اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر بننے والے قوانین اکثر سیاسی انتقام کا ہتھیار بن جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ آئین کا آرٹیکل 10-A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ گمنام جج، گمنام گواہ اور سربمہر ریکارڈ اس بنیادی حق کو کمزور کرتے ہیں۔ وکلا برادری اور سول سوسائٹی کے لیے بھی یہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ دفاعی وکیل تک محدود رسائی رکھیں گے۔
ایسے وقت میں جب ملک میں عدلیہ کی آزادی پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی گورننس اور رول آف لا پر نظر رکھی جا رہی ہے (بشمول FATF جیسے فورمز)، ایسی قانون سازی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور عوام کے تحفظ کے احساس دونوں کو نقصان پہنچائے گی۔
سیکیورٹی کے نام پر اداروں کی چیک اینڈ بیلنس کو قربان کرنا نہ انصاف ہے، نہ تحفظ۔
I appealed to the Secretary General of the Commonwealth to make representations to the government of Pakistan on behalf of @ImranKhanPTI .
I said “The Commonwealth Charter commits its members to democracy, human rights, the rule of law, good
governance and the separation of powers. Those principles have meaning only if the Commonwealth is prepared to defend them when they come under serious pressure within a member state.”
My original letter is in the next post. Here is the response I received.
As a former Minister for the Commonwealth, I recognise this for what it is- code for saying “we are doing absolutely nothing”.
It is, frankly, a disgrace.
غلاظت چیک کریں۔ آج عاصمہ شیرازی عورت کے خلاف کھڑی ہو گئی۔ پھر یہ افسوس کرتی ہیں کہ لوگ انکے لفافہ کیوں سمجھتے ہے۔ آج عورت کارڈ بند۔ آج عورت کے خلاف عاصمہ شیرازی کا بڑا معرکہ۔
آج کمرہ عدالت میں عظمی بخاری نے دوران سماعت اپنا موبائل جج نعیم وٹو کو دیا اور کہا سر یہ دیکھیں یہ یوٹیوبر ہے اس نے فلاں ٹویٹ کیا ہوا ہے،اس پر پابندی لگائیں،، جج صاحب نے موبائل دیکھا اور پتہ چلا کہ زعییم لغاری کا کوئی ٹویٹ عظمی بخاری دیکھا رہی تھیں،، جج صاحب نے فرمایا کہ آپ ان کو انفالو کر دیں آپ دیکھتی ہی کیوں ہیں، عظمی بخاری کے چہرے کا رنگ تبدیل ہونے لگا اور اسی وقت فلک جاوید بول پڑیں کہ یہ بکنے والا صحافی نہیں ہے اس لیے پابندی لگوانا چاہتی پیں،،
شفقت بھائی کو عدالت پیش کیا گیا
لیکن افسوس کہ 2 دن کا ریمانڈ دے دیا گیا
شفقت بھائی الحمداللہ حوصلے میں تھے باقی ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونا فرض ہے
ایڈووکیٹ یوسف وائیں اور ملک پرویز پیش ہوئے
انشاءاللہ مشکل وقت ہے گزر جائے گا
Dear General sb. Today is a working day, we hope you have been able to see the original document by now. We would really appreciate if you can now acknowledge that the document was not fake as you alleged.
تشدد کے واقعے کا میڈیا فیلڈ سے کوئی تعلق نہیں، حملہ آور پراپرٹی ڈیلر ہے جس کا ریکارڈ بھی سب جانتے ہیں، ملزم اس وقت گرفتار ہوچکا ہے باقی لڑائی عدالت میں لڑیں گے ، احتشام کا بیان