I appealed to the Secretary General of the Commonwealth to make representations to the government of Pakistan on behalf of @ImranKhanPTI .
I said “The Commonwealth Charter commits its members to democracy, human rights, the rule of law, good
governance and the separation of powers. Those principles have meaning only if the Commonwealth is prepared to defend them when they come under serious pressure within a member state.”
My original letter is in the next post. Here is the response I received.
As a former Minister for the Commonwealth, I recognise this for what it is- code for saying “we are doing absolutely nothing”.
It is, frankly, a disgrace.
غلاظت چیک کریں۔ آج عاصمہ شیرازی عورت کے خلاف کھڑی ہو گئی۔ پھر یہ افسوس کرتی ہیں کہ لوگ انکے لفافہ کیوں سمجھتے ہے۔ آج عورت کارڈ بند۔ آج عورت کے خلاف عاصمہ شیرازی کا بڑا معرکہ۔
آج کمرہ عدالت میں عظمی بخاری نے دوران سماعت اپنا موبائل جج نعیم وٹو کو دیا اور کہا سر یہ دیکھیں یہ یوٹیوبر ہے اس نے فلاں ٹویٹ کیا ہوا ہے،اس پر پابندی لگائیں،، جج صاحب نے موبائل دیکھا اور پتہ چلا کہ زعییم لغاری کا کوئی ٹویٹ عظمی بخاری دیکھا رہی تھیں،، جج صاحب نے فرمایا کہ آپ ان کو انفالو کر دیں آپ دیکھتی ہی کیوں ہیں، عظمی بخاری کے چہرے کا رنگ تبدیل ہونے لگا اور اسی وقت فلک جاوید بول پڑیں کہ یہ بکنے والا صحافی نہیں ہے اس لیے پابندی لگوانا چاہتی پیں،،
شفقت بھائی کو عدالت پیش کیا گیا
لیکن افسوس کہ 2 دن کا ریمانڈ دے دیا گیا
شفقت بھائی الحمداللہ حوصلے میں تھے باقی ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونا فرض ہے
ایڈووکیٹ یوسف وائیں اور ملک پرویز پیش ہوئے
انشاءاللہ مشکل وقت ہے گزر جائے گا
Dear General sb. Today is a working day, we hope you have been able to see the original document by now. We would really appreciate if you can now acknowledge that the document was not fake as you alleged.
تشدد کے واقعے کا میڈیا فیلڈ سے کوئی تعلق نہیں، حملہ آور پراپرٹی ڈیلر ہے جس کا ریکارڈ بھی سب جانتے ہیں، ملزم اس وقت گرفتار ہوچکا ہے باقی لڑائی عدالت میں لڑیں گے ، احتشام کا بیان
سننے والے سن لیں، ورکرز بھی اطمینان رکھیں اس دفعہ گولی نہیں چلے گی، اگر کسی نے گولی چلوائی تو سوراخوں سے کاکروچ نکلیں گے اور پھر صرف استعفی پر بات نہیں بنےگی۔ سیاسی تحریکوں میں گرفتاریاں ہوتی ہیں، اب یا تو خان صاحب ہمارے ساتھ باہر ہونگے یا پھر ہم سب خان کے ساتھ اندر ہونگے۔ بیرسٹر گوہر
بغیر نمبر پلیٹ ڈالوں میں سوار بندوق بردار غنڈوں نے حاجی امتیاز MNA کو اغوا کر لیا ۔ دہشت اتنی پھیلائی کہ ضعیف العمر 100 سالہ والدہ کی دوائیں اور میڈیکل رپورٹ بھی ڈرائیور کو دینے نہ دیں۔