Western media finally reports that US-backed military regime of Asim Munir "opened fire" on pro-democracy protesters seeking freedom for political prisoner Imran Khan
Khan's party easily won the last election before brazen fraud imposed unpopular longtime pro-military puppets
Sources claim ISI External Wing, in its past reports, had declared that Mohsin Naqvi was working for CIA. He was not cleared for several sensitive events, even during Bajwa's tenure. How come he suddenly got security clearance alongside Hussain Haqqani!? Have we sold ourselves?!
For what? Usurping power from democratically elected leaders, violating the constitution, and committing the biggest crime under the Pakistani constitution as defined by Article 6?
If there was law, she would get a death sentence.
اس نے 1 سال میں عمران خان کی رہائی کے لیے کیا کیا؟
جب جب اڈیالہ جیل کے باہر مومینٹم بناتا رہا وہ دھرنا ختم کر کے ورکرز کو چھوڑ کر بھاگ گیا
خان صاحب کی آنکھ خراب ہونے کا معلوم ہوا تو کے پی کے ہاؤس میں چھپ گیا
جب احتجاج پیک پر جانے لگا تو عمران رہائی تحریک کا چورن بیچا گیا
جب سے وہ آیا اس نے عمران خان سے ملاقات کے لیے کوئی مزاحمت نہیں دکھائی، کبھی 26 نمبر روک دیا گیا تو کبھی ہر چوک ڈی چوک کا نعرہ لگا کر چلا گیا
اس کی وجہ سے خان صاحب کو کوئی ریلیف نہیں ملا بلکہ خان صاحب کو نقصان ہی ہوا
کیوں کہ وہ خان صاحب کے دشمن سے خفیہ ملاقاتیں کرتا رہا
جب وہ آیا تو سب سے پہلے اس نے سوشل میڈیا کو خریدا اور اپنی سوشل میڈیا ٹیم بنائی
بڑے بڑے اکاؤنٹس کو خریدا اور خان صاحب سے زیادہ اپنی تشہیر کرواتا رہا
خان صاحب نے جیل سے پیغام پہنچایا کہ مجھے مرسی کی طرح مارنے لگے ہیں اور یہ 27 ستمبر سے پہلے احتجاج کی کال دینے بجائے 4 اکتوبر تک چلا گیا اور 4 کے بعد بھی کے پی کے میں ہی گھومتا رہا
خان صاحب نے اس کو بولا کہ موومنٹ تیز کرو اور یہ ٹیسٹ میچ اور ٹک ٹاک پہ لگا رہا اور خان صاحب کو مزید انتظار پر انتظار کرواتا رہا
خان صاحب کے قید میں 3 سال مکمل ہوئے
تو 53 دنوں بعد کی کال دی گئی اور اس کو مزید تاخیر کیا گیا
اس نے صرف بڑکیں ماری لیکن حقیقت میں خان صاحب کی رہائی کے لیے کچھ نہ کیا
اس کی کابینہ میں اور کابینہ کے باہر اس کے دوست کروڑوں اربوں کی کرپشن کرتے رہے لیکن اس نے کچھ نہ کیا
اس نے تو یہ بھی بولا تھا کہ خان صاحب سے ملاقات کے بغیر بجٹ منظور نہیں ہو گ
لیکن اس نے منظور کیا
وہ چاہتا تو پورے سال کے بجائے آرٹیکل 125 کے تحت Vote on Account منظور کر کے مکمل بجٹ کے بجائے
3 مہینوں کا بجٹ بھی منظور کر کے پریشر ڈال کر خان صاحب سے ملاقات کر سکتا تھا
جیسا کہ علیمہ آپا نے بھی بولا تھا
کہ بجٹ کے بدلہ ملاقات کے لیے پریشر ڈالا جائے
لیکن پورا بجٹ بھی اسی لیے منظور ہوا
کہ زیادہ سے زیادہ مال بنایا جا سکے
جب لانگ مارچ قریب تھی اور حکومت جانے کے بھی امکانات واضع تھے تو 150-200 ارب کے پروجیکٹ ایک دم سے شروع کیے
اور اپنے ہی من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دیئے گئے
زیادہ bid والوں کو پروجیکٹ دیے گئے اور کم bid والوں کو ڈس کوالیفائی کیا گیا
اور ایک دم سے 15 سے 20 فیصد ایڈوانس پیمنٹ بھی کر دی گئی
اربوں روپے حکومت کے خزانے سے 15-20 دنوں میں نکالے گئے وہ بھی لانگ مارچ کے قریب
پولیس ایکٹ منظور کروا سکتا تھا لیکن نہیں کیا
دفعہ 144 اور NOC جاری کرنے کے اختیارات حکومت کے پاس رکھوانے کے لیے بل منظور کروا سکتا تھا
لیکن نہیں کروایا گیا اور ہمیشہ باتوں پر توجہ دی گئی
یہ چاہتا تو رات کو ٹویٹ کر کے عوام کو سی ایم ہاؤس کی کال دے کر وہاں سے محفوظ طریقے سے نکل سکتا تھا لیکن اس نے سب کچھ ہونے دیا اور صبح ترکی کی مثال دے کر خاموش ہو گیا
اس نے بولا کہ میرے گرفتار ہوتے میری ویڈیو منظر عام پر آئے گی اور اس پلان کے مطابق لانگ مارچ چلے گا لیکن ویڈیو بیان والی بات بھی پُرانی باتوں کی طرح صرف اور صرف ٹرک کی بتی نکلی
اس کے صوبے سے ورکرز اور پارلیمنٹرین کو اغوا کیا گیا لیکن وہ چپ رہا
خان صاحب بہنوں کو گرفتار کیا گیا لیکن اس نے موٹروے پر سفر کر کے ویڈیو بیان والا ڈراما کیا اور حقیت میں کچھ نہ کیا
لانگ مارچ کے بجائے اسٹریٹ مومنٹ کرتا رہا اور خان صاحب کی رہائی پر مختصر سی بات کرتا رہا باقی صرف بڑکیں مارتا رہا
خان صاحب کی بہنوں کے لیے موثر آواز نہ اٹھا پایا
کوئی ایک بات بتاؤ جو اس نے سچ بولی ہو اور اس نے حقیقت میں خان صاحب کی رہائی کے لیے کچھ کیا ہو؟
مثال تو ٹیپو سلطان کی دی تھی لیکن ٹیپو سلطان گرفتار نہیں ہوا تھا بلکہ میدان میں رہ کر مقابلہ کرتا رہا، لیکن یہ تو 3-4 بجے کنٹینر پر آتے اور تھوڑی دیر کے لئے سامنے رہتے باقی وقت AC والے کمرے میں رہتے اور رات ہوتے ہوئی چلے جاتے تھے
گرفتار تو بہادر شاہ ظفر ہوا تھا اور اس نے بھی بار بار بولا کہ ہنوز دہلی دور است اور اسی وجہ سے سلطنت بھی گئی اور گرفتار بھی ہوا، آپ نے بھی بار بار ہنوز صوابی دور است بولا اور آپ کی حکومت بھی گئی اور گرفتار ہوئے۔۔۔۔۔۔
مجھے آپ بس یہ بتا دیں کہ اس نے خان صاحب کی رہائی کے لیے ایک سال میں کیا کیا؟
(حیدر سعید)
ممبر صوبائی اسمبلی و چیئرمین ڈیڈک ضلع خیبر عبدالغنی آفریدی کی رہائش گاہ پر پولیس اور بعض نامعلوم نقاب پوشوں کا چھاپہ انتہائی افسوسناک، قابلِ مذمت اور تشویشناک عمل ہے۔ ایک منتخب عوامی نمائندے کے گھر پر اس انداز میں چھاپہ مارنا نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ عوامی مینڈیٹ اور بنیادی شہری حقوق کے حوالے سے بھی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اختلافِ رائے کا جواب چھاپوں اور خوف و ہراس سے دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ متعلقہ حکام اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، چھاپے کی وجوہات اور قانونی جواز عوام کے سامنے واضح کریں اور اس واقعے کی شفاف تحقیقات یقینی بنائیں۔
عوامی نمائندوں کو دباؤ میں لانے کے بجائے آئین، قانون اور جمہوری روایات کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ایسے اقدامات جمہوریت پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں، جس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
A COMMENT
WHAT A MESS BY SCOUNDRELS: It appears that a horde of scoundrels and officially-Certified Mafia Dons have taken over the 40 million people of KPK and they are mad looking at the loot.
Huge sums of money are being distributed, old welfare projects are being scrapped, bomb proof vehicles costing billions, ordered and paid for by PTI Government to fight terrorists, were not shipped, but with the change, all equipment has arrived in 24 hours and is being used against the people.
Billions of surplus funds left are being shifted to GHQ, a scramble to grab the war booty, spoils of plunder is on and in three days the top Governor is being replaced by known and experienced money launderers and sycophants amid infighting between army and PPP.
The thing to note is that the whole operation was launched to go after terrorists but the only target is PTI and its workers.
These goons think they will erase Imran Khan from politics. Four years have already gone trying the same, and he is on top, dictating from his death cell, making them run amok.
تلخ حقیقت۔۔۔۔
لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے نہیں کیا جا رہا تھا، اگر خان صاحب کی رہائی کے لیے لانگ مارچ ہوتا تو کے پی کے کے اندر گھومنے پھرنے کے بجائے سیدھا پنجاب کے پی کے بارڈرز جاتے اور کراچی اور پنجاب کو بھی نہ بلایا جاتا، بلکہ اُن کو اپنے علاقے میں احتجاج کا بولا جاتا۔۔۔۔۔