نظم
اُس ایک سادہ سی عام لڑکی کو کیا پتہ تھا محبتوں میں
درندگی ہی درندگی ہے ہوس ہوس کی کہانیاں ہیں
اُس ایک ٹیوشن پڑھانے والی کو کیا پتہ تھا یہ کاروں والے
امیر باپوں کے بگڑے بیٹے جو سر کو چادر سے ڈھانپتے ہیں
یہ سر سے چادر اُتار دیں گے
ہماری روحوں کو مار دیں گے
اُس ایک گاؤں سے آئی لڑکی کو کیا پتہ یہ شہروں والے
درندگی و ہوس کے مارے
محبتوں میں اُسے پھنسا کر
یہ اُس سے روحوں کی قسمیں کھا کر
کہیں اکیلے اُسے بلا کر
بدن کو دانتوں سے نوچ لیں گے
اُس ایک پیاری سی بنتِ حوا کو کیا پتہ تھا
یہ ابنِ آدم ہیں ابنِ آدم
انہیں بس اپنے ہی گھر کی عورت کا پاس ہے بس
یہ دوسروں کے گھروں کی عورت کو مال کہہ کر پکارتے ہیں
اور اُن کی چادر اُچھالتے ہیں
اُس ایک سادہ سی عام لڑکی کو کیا پتہ تھا محبتوں میں.....
راشد خان عاشر
نظم
محبتوں کے یہ ڈھونگ سارے
یہ ساری چالیں رفاقتوں کی
میں جانتا ہوں یہ مجھ سے پہلے
ہزاروں لوگوں سے چل چکے ہو
تم ایک انساں ضرور ہو پر
تمہاری خصلت ہے سانپوں والی
محبتوں میں ہر اک کو ڈسنا تو تم نے پیشہ بنا لیا ہے
اور آج مجھ سے یہ کہہ رہے ہو
مجھے محبت سی ہو گئی ہے
تو تم نے سوچا مجھے بھی چالوں میں آ کے گھیرو گے؟ داد تم کو
یہ تم نے سوچا بھی کیسے آخر
تمہاری چالیں چلیں گی مجھ پر
یہ ڈھونگ سارے میں مان لوں گا
کہ میری خاطر محبتوں میں
تمہارے جیسوں کو منہ لگانا بھی ایک ذلت سے کم نہیں ہے
سو ڈھونگ سارے محبتوں کے
یہ ساری چالیں رفاقتوں کی
تُو میرے آگے نہ چل سکے گا
تُو میرے آگے نہ چل سکے گا
راشد خان عاشر
کُچھ نَقش تیری یاد کے ، باقی ہیں اَبھی تک
دِل بے سَر و ساماں سہی ، ویراں تو نہیں ہے
ہم دَرد کے مارے ہی ، گراں جاں ہیں وگرنہ
جینا تیری فُرقت میں ، کُچھ آساں تو نہیں ہے
#قومی_زبان