عمران خان کو فیملی ' ڈاکٹرز اور دنیا سے کاٹنے کا واحد مطلب یہ ہے کہ انکی قید صرف سیاسی خوف کے باعث ہے
رجیم اپنے گھٹیا مقاصد خصوصا اسرائیل کے معاملے میں انہیں رکاوٹ سمجھتی ہے
جبکہ رجیم اور انکے ہینڈلرز نے ثابت کیا ہے کہ وہ اسرائیلی ایجنڈے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں
یہ کہہ رہی ہے میں ایک مسلمان عورت ہوں۔
میرے گھر کو آگ لگا دی گئی،
میرے شوہر اور بیٹے میری آنکھوں کے سامنے مار دیے گئے۔
مرنے والوں کو بغیر کفن کے دفن کرنا پڑا۔
اے عالمِ اسلام
تم ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو
ہرگز چپ نہ بیٹھو۔💔
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے ��ہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو ��اتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہ��۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دی��ا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
سوڈانی عورت فریاد کررہی ہے اے امتِ محمد ﷺ! ہم بھوک سے مر رہے ہیں، ہمارے بچے بغیر دوا کے اور بغیر کھانے کے مررہے ہیں ۔ ہمیں پوری دنیا کے سامنے قتل کیا جارہا ہے، ہم بھی تمہاری مائیں ہیں۔
عمران خان نے اکیلے رہا نہیں ہونا, اس کے ساتھ پوری قوم نے رہا ہونا ہے۔ وہ ہم سب کی جنگ لڑ رہا ہے۔
خوف کے بت کو توڑنا ہوگا۔ حسینیت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
بریکنگ نیوز🚨: برطانوی صحافی یلدا حکیم نے عمران خان پر قیدِ تنہائی میں ہونے والے مظالم پر پورے دنیا کے سامنے آواز اٹھا دی۔خان پر ہونے والے مظالم پاکستانی اسٹبلیشمنٹ کروا رہی ہے۔یہ اب انٹرنیشنل مسئلہ بن چکا ہے 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
بریکنگ نیوز 🚨: برطانوی اخبار The Sunday Times میں قاسم اور سلیمان کا آرٹیکل، وہ ہمارے والد کے ساتھ وحشیانہ سلوک کر رہے ہیں 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
اڑھائی سال پہلے کچھ خان صاحب کے کچھ پرجوش سپورٹرز کہتے تھے کہ جان دیں گے خان نہيں دیں گے۔
وہ خان کو لے گئے لیکن کسی نے جان نہ دی۔
آج خان جیل میں ہے اور اس پر بدترین تشدد کیا جا رہا ہے۔ سزائے موت دین�� تک کی باتیں کھلے عام ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ تک اس ظلم پر بلک اٹھی ہے۔
وہ نوجوان کہاں ہیں جو کہتے تھے جان دیں گے خان نہیں دیں گے؟
نہ جان دینے کی باتیں کرنی چاہیے نہ جان دینی چاہیے۔ لیکن ظلم کے خلاف آواز تو اٹھانی چاہیے۔ بےگناہ کی رہائی کی تحریک تو چلانی چاہیے۔ تحریک کیوں نہيں چلائی جا رہی؟ کس بات کا انتظار ہے؟
🚨🚨🚨🚨 رب محمد کی قسم
95 فیصد عوامی طاقت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو ایک دن بھی جیل میں نہیں رکھ سکتے تھے لیکن اپنے صفوں میں اندرونی غداروں کی وجہ سے عمران خان جیل میں ہے