اسد طور کا سوال :: عدم اعتماد میں عمران خان کے خلاف ووٹ کس کے کہنے پر دیا
علی وزیر کا جواب :: عدم اعتماد میں جنرل باجوہ کے کہنے پر عمران خان کے خلاف ووٹ دیا تھا
یہ آہستہ آہستہ سب مانیں گے رجیم چینج باجوہ نے امریکہ کے کہنے پر کیا تھا
Admin
”میرے اور میری اہلیہ بشریٰ بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ہمیں عام قیدی کی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے،“- سابق وزیر اعظم عمران خان
#LetTheWorldSeeImranKhan
پی ٹی آئ قیادت نی حسبِ معمول عوام کو لولی پاپ دے دیا اور 5 اگست کو پشاور میں جلسے کا اعلان کر دیا جس کی عاصم منیر کی طرف سے مکمل حمایت ہے ،
سسٹم یہی چاہتا ہے کہ صوبے کے اندر جلسہ جلسہ کھیل کر مذید وقت گزارو ��یسے تین سال گزار دیے ۔
عوامی راۓ : جلسہ کرنا ہی ہے تو پنجاب میں کرو، پنڈی اسلام آباد میں کر لو ۔۔
اگر وہاں گرفتاریوں کا ڈر ہے تو عمران خان کے آخری پیغام پر امن کر لو ”ڈٹ جاؤ یا ہٹ جاؤ بیغرتو“
اپ کیوں عمران خان کے فلسفے کو تباہ کرنے پر تُل گئے ہو سہیل آفریدی صاحب؟
آپ کیوں عمران خان کی آئیڈیالوجی کا بیڑا غرق کرنا چاہ رہے ہیں؟
آپ نے جو وعدے کیے جو عشقِ عمران کے دعوے کیے وہ سب تو جھوٹے ثابت ہو گئے، ایثار رانا
بھائی اور بیٹا جیل میں ڈال کر 7 لاکھ کا ایک دھشتگرد جتھا اکیلی عورت پر حملہ آور ہوکر مطالعہ پاکستان کا ایک نیا باب لکھ رہا
اور پھر بولے گ�� اپنی نسلوں کو یہ والی کہانی سنانی ہیں
یہ سب کچھ ذاتی مفاد میں بنی گھٹیا پالیسی کا نتیجہ ہے۔ جرنیل آج بھی ضد چھوڑیں اور معاملات عوامی نمائندگان کے سپرد کر دیں تو آئستہ آئستہ چیزیں بہتر ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے اسکے علاوہ کوئی جادو کا چراغ موجود نہیں۔۔۔
"عمران خان نے دسمبر میں کہا تھا کہ سٹریٹ موومنٹ شروع کریں اس دن سے وہ آج تک مکمل قید تنہائی میں ہیں۔عمران خان آپ لوگوں کے لیے کھڑے ہیں، قید تنہائی جیسی سخت جیل کاٹ رہے ہیں۔ ��مران خان کا مقابلہ وقت کے یزید کے ساتھ ہے۔آج اگر آپ لوگ اپنی آزادی کے لیے کھڑے نہیں ہونگے تو آپ بھی اور آپ کی آنے والی نسلیں بھی ان کی غلامی کریں گی"۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#FreeIK804
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
عمران خان مرد کا بچہ ہے۔ وہ بہت بڑا لیڈر ہے۔ وہ مرد کا بچہ ہے جو تین سال سے 22 اور 25 کور کے کمانڈرز کی طاقت کے سامنے اب بھی چٹان کی طرح کھڑا ہے۔
۔علی احمد کرد
🔥 دوہرا معیار اور منافقت عوام کو ہرگز قبول نہیں!
نورین نیازی کو تو فوراً نوٹس بھیج دیا گیا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی قانون اور معیار نواز شریف پر بھی لاگو ہوگا؟ کیا نواز شریف کے بیانات اور اقدامات پر غداری کا مقدمہ بنے گا؟
حقائق کیا ہیں؟
نورین نیازی: ان کا انٹرویو 3 ماہ پرانا ہے، اور انہوں نے اسے شائع یا پبلش کرنے سے واضح طور پر منع کیا تھا، اس کے باوجود اس معاملے پر نوٹس جاری کر دیا گیا۔
نواز شریف: دوسری طرف نواز شریف کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں، لیکن وہاں قانون کی زبان بدل جاتی ہے۔
ایک ہی ملک میں دو الگ قوانین نہیں چل سکتے۔ انصاف کا یکطرفہ استعمال اور یہ کھلا دوہرا معیار عوام کی طرف سے مکمل طور پر ریجیکٹڈ (Rejected) ہے!
یہ مارا جائے گا اور میں اسے بچانا چاہتا ہوں
مارچ 2023 میں ایک بار پھر عمران خان کی زندگی کے گرد شدید خطرات منڈلانے لگے تھے۔ شہر اقتدار میں قتل گاہ سجنے کی اطلاع تھی ۔ ہر دیوار کے پیچھے کوئی سازش دُبکی بیٹھی تھی۔ ہر سائے کے نیچے ایک خنجر چھپا تھا۔
عمران خان 18 مارچ 2023 کو جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے لیے نکلا تو آگے موت کا جال بچھایا جا چکا تھا۔ ہر سمت سے خبر یہی آ رہی تھی کہ اب کی بار نشانہ خطا نہیں جائے گا، بندوقوں کے پیچھے انگلیاں تیار تھیں اور خوابوں کے دشمن اپنی آخری چال کھیلنے کو بیتاب تھے ۔ کپتان کو راستے میں خبردار کیا گیا مگر جسے اللہ پہ یقین ہو وہ کہاں پلٹتا ہے؟
کپتان گاڑی میں پُرسکون تھا مگر باہر عقیدت مندوں کا ہجوم تھا جو اپنے رہنما کے لیے تڑپ رہا تھا۔ کپتان کی حفاظت کے لیے ان کی گاڑی کی چھت پر ان کا سب سے جان نثار ساتھی مراد سعید کھڑا تھا۔وہ چھت پر کھڑا تھا مگر اصل میں👇