"ہماری تکلیف سمجھ لیں ہمیں عمران خان کی آنکھ کی فکر ہے ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟ تحریک چلانے کا مطلب اس حکومت پر پریشر ڈالنا ہے تاکہ ان کا علاج ہو، عمران خان خود کبھی نہیں کہیں گے انہوں نے تو کہا تھا میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا"علیمہ خان کا خیبرپختونخوا میں کارکنان سے خطاب
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
#ImranKhan @Aleema_KhanPK
“بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، استحکام ممکن نہیں ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟
ملک میں اس وقت دہشتگردی اپنے قدم دوبارہ جما چکی ہے۔ ہمارے دور میں ملک دہشتگردی پر قابو پا کر سیاحت کے فروغ کی جانب گامزن ہو چکا تھا اور “گلوبل ٹیررازم انڈکس” میں پاکستان کی رینکنگ چار درجے بہتر ہوئی تھی۔ لیکن رجیم چینج نے اس سارے عمل کو بھی ریورس گئیر لگا دیا اور اب بدقسمتی سے ہم گلوبل ٹیررازم انڈکس میں دوبارہ دنیا کا دوسرا بدترین ملک بن گئے ہیں۔
فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے۔ بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔”
- عمران خان، مارچ 2025
#RetweetImranKhan
#بلوچستان_کو_جینے_دو
ایک انسان بے گناہ جیل میں ہو تو اسکا باپ،ماں ،بھائی ،بہن ،بیٹی یا بیوی باہر آکر اسکے حق کے لیے آواز اٹھائے تو یہ کونسی موروثی سیاست ہو گئی؟ آگے بڑھ کر ساتھ نہیں دے سکتے تو فضول بات بھی نہ کریں. کوئی وزارت کی کرسی پر نہیں آریا ،سڑک پر جدوجہد کررہا ہے
🚨علیمہ خان کا دیر تیمرگرہ میں دھواں دھار خطاب
عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ میرے لیے بھیک مانگو عمران خان نے ہمیشہ یہ ہی کہا ہے میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا عمران خان کے لیے دباؤ بڑھانا ہو گا تحریک کا مقصد دباؤ بڑھانا ہے
عمران خان کو اگلے مہینے اگست کی پانچ تاریخ کو عقوبت خانے میں پڑے تین سال مکمل ہو جائیں گے۔ ان تین سالوں میں ان کے نام پر ووٹ لینے والے ان کے نام پر اقتدار میں آنے والے اپنے لئے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے ”بلو پاسپورٹ“ لینے میں اتنے مگن ہو گئے کہ انہیں عمران خان بھول گیا
اور بالاآخر تین سال بعد علیمہ خان کو باہر نکلنا پڑا ۔ علیمہ خان صاحبہ کو بہت پہلے یہ کام کر لینا چاہئے تھا جو انہوں نے آج شروع کیا۔
موروثی سیاست کے طعنے کے ڈر سے کئی سال ضائع کئے۔ جو تکلیف انسان کی فیملی اسکے لئے محسوس کرتی ہے کوئی نہیں کر سکتا ۔ ان تین سالوں میں عمران خان کا نام لوگوں کے ذہنوں میں کسی نے زندہ رکھا تو اس کی بہنیں ہیں۔
آج علیمہ کو دیکھ کر بہت سارے انڈر کور بے نقاب ہونگے
عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل تھیں، مگر علیمہ خان کے سخت بیانات کے بعد فیصلہ تبدیل کر دیا گیا۔ اب عمران خان کو جیل ہی میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر
آخری اور واحد حل یہی ہے کہ علیمہ خان عمران خان کی رہائ کی تحریک کو لیڈ کریں ، سیاسی ٹھگوں عہدیداروں کو اسمبلیاں اور صوبہ چلانے سے فرست نہیں سسٹم کو کندھا دینے سے فرصت نہیں اس صورتحال میں علیمہ خان کو اختیار اپنے ہاتھ میں لینے چاہئیں اور ملک گیر تحریک چلانی چاہیے ۔۔
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان
ہم نے اب عمران خان کی قید تنہائی ختم کرنی ہے ،یہ یقینی بنائیں کہ احتجاج کی کال ایک روز کی نہیں ہو گی، اب ہم اتنا دباؤ بڑھائیں گے کہ یہ عمران خان کا علاج بھی کروائیں گے اور قید تنہائی بھی ختم کریں گے ۔ علیمہ خان نے 5 اگست کو احتجاج کی ایک روزہ کال مسترد کر دی
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
عمران خان کو اگلے مہینے اگست کی پانچ تاریخ کو عقوبت خانے میں پڑے تین سال مکمل ہو جائیں گے۔ ان تین سالوں میں ان کے نام پر ووٹ لینے والے ان کے نام پر اقتدار میں آنے والے اپنے لئے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے ”بلو پاسپورٹ“ لینے میں اتنے مگن ہو گئے کہ انہیں عمران خان بھول گیا
اور بالاآخر تین سال بعد علیمہ خان کو باہر نکلنا پڑا ۔ علیمہ خان صاحبہ کو بہت پہلے یہ کام کر لینا چاہئے تھا جو انہوں نے آج شروع کیا۔ : سحرش منیر مان
@SMunirMaan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
خان رہائی، کیسز پر علیمہ خان کو ہی ایسے ہی میدان میں نکلنا پڑے گا، پاکستانی ان کا ساتھ دیں گیں۔ اب یہ انہیں گرفتار ضرور کروادیں گیں تا کہ قیادت پر دباؤ نہ پڑے
لیڈرشپ کو دو ٹوک پیغام 🚨
عمران خان کبھی بھی نہیں کہے گا کہ میرے لئے نکلیں، اگر آپ نے عمران خان کا انتظار کرنا ہے تو پوری زندگی انتظار کریں لیکن وہ نہیں کہے گا۔
ہم ان ڈرپوک لوگوں پر اتنا پریشر ڈالنا ہے کہ یہ عمران خان کو رہا کریں، ہم سب کو اور پاکستان کو عمران خان کی ضرورت ہے
“ہم نے “سیو بلوچستان” کے نام سے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنی تھی، لیکن بلوچستان ایشو پر بات کرنے کی وجہ سے ہمیں اجازت نہیں دی گئی۔ پریس کلب انتظامیہ کو سختی سے ہدایت دی گئی تھی کہ چونکہ یہ لوگ بلوچستان کے ایشو پر بات کر رہے ہیں، اس لیے انہیں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔”
- @DawodShahkakar1
#بلوچستان_کو_جینے_دو
#FreeImranKhan
ہمارے لیے سب سے پہلے عمران خان کا علاج ہے۔۔۔۔
یہ کمینے لوگ ہیں
دشمن ہو لیکن کمینہ نا ہو۔۔۔
انہوں نے 8 مہینے سے عمران خان کو مکمل طور پہ قید میں رکھا ہوا ہے۔۔۔
جب ڈاکٹر عظمیٰ عمران خان سے ملنے گئی تھیں
تو عمران خان نے کہا تھا اپنی پارٹی کے لوگوں کے بارے میں ان کو شرم نہیں اتی
میں اتنی تکلیف میں ہوں
قید تنہائی میں ہوں
عمران خان نے کہا تھا
ان کے نام لے کر جا کر بتاؤ باہر لیکن میری بہن نے منع کر دیا کہ میں نہیں ہوں گی
عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ عاصم منیر مجھے جیل میں مار دے گا۔۔۔۔
علیمہ اپا کی گفتگو۔۔۔۔
اسٹیبلشمنٹ کو مشورہ
عمران خان کے حقوق بحال کر دیں
فیملی کو ملنے دیں
جتنا آپ پریشر بڑھا رہے اتنا فوکس پی ٹی آئی پر جا رہا ہے
علیمہ خان میدان میں تحریک کی کمانڈ لئیے پنجاب کی طرف آئیں تو عوام سنبھالنا مشکل ہو جائیگا کیونکہ وہ شہادت کا نعرہ لگا رہی ہیں
ابھی بھی وقت ہے سب نارمل کر دیں۔
اب ہم اڈیالہ کے باہر احتجاج نہیں کریں گے بلکہ سڑکوں پر نکلیں گے۔ ان کی جرات کیسے ہوئی کہ یہ عمران خان کے ساتھ ایسا سلوک کریں ؟ کیوں کہ ہم نے دباؤ ہی نہیں ڈالا، ہم نا عمران خان کا علاج مانگ رہے ہیں نا ہی ہم عمران خان کی قید تنہائی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ہم نے کچھ نہیں کیا، علیمہ خان کا خیبرپختونخوا میں کارکنان سے خطاب
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
”آپ سب کو دیکھ کر ہمیں حوصلہ ہوا ہے۔ آپ نے عمران خان کا ساتھ دیا ہے، لیکن آگے ہمیں عمران خان اور ہاکستان کیلئے جدوجہد مضبوط کرنی پڑیگی۔ عمران خان 8 ماہ سے قیدِ تنہائی میں ہیں ،کیونکہ یہ اُن سے خوف کھاتے ہیں اور خوف اسلیے کہ وہ آپ کی آواز ہیں۔ اب جب ہم نکلیں گے، تو واپس نہیں جائینگے۔ ہمیں عمران خان کی آنکھ کی فکر ہے، ہماری تکلیف سمجھیں۔“
علیمہ خان
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان