At 2:00 PM, we will gather at the first roadblock on the road leading to Adiala. We will hold a Khatam of Ayat-e-Kareema along with Qur’an recitation, InshaAllah. We humbly request everyone, whether at home, on the road, or anywhere across the world to join us in reciting Ayat-e-Kareema:
لَا إِلَٰ��َ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
“There is no deity except You; exalted are You. Indeed, I have been among the wrongdoers.”
A special dua will be offered after the Asr prayer. We request prayers for the safety of Imran Khan, for all prisoners, for the Shuhada, and for those who are currently under trial.
Two former members of Imran Khan’s digital media team, Junaid Jahangir and Salman Raza have been under illegal detention by the UAE authorities for 443 and 440 days respectively. The unlawful incarceration is at the behest of Asim Munir’s authoritarian military regime, which is notorious for violently strangling free speech and engaging in transnational repression.
Both Junaid and Salman have been denied their basic rights. No lawyer has been allowed to defend them. No family has been permitted to see them. They have been kept in complete isolation.
The question remains: Why is UAE aiding and abetting arbitrary detentions and transnational repression?
@DropSiteNews reported on this:
https://t.co/V4Fu0qhd2S
@UNHumanRights@amnesty@AJEnglish@hrw@MarioNawfal@BBCWorld@cnni@UAEmediaoffice@mofauae@MohamedBinZayed@HHShkMohd@HamdanMohammed@mariammalmheiri@HHShkDrSultan @HHmansour @LadyVelvet_HFQ
#JusticeForJunaidAndSalman
#TransnationalRepression
My father, Imran Khan, is in prison because he stood up for democracy. He is held in solitary confinement, denied access to his doctors, and restricted from meeting his lawyers and family. At the same time, members of his family and thousands of his supporters have been abducted or dragged before military courts. This is not justice - it is political revenge. Pakistan’s democracy is at stake, and I call on all who believe in human rights and democracy to stand with us so that the people’s voice is heard and the rule of law is restored.
گجرات میں تباہ کُن پانی نے شہر کا حلیہ ہی بگاڑ دیا
اربن فلڈنگ کی صورتحال خطرناک، سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں،،بچے بڑے بوڑھے سبھی پانی کے آگے بے بس
ڈپٹی کمشنر صاحبہ کی ناقص حکمت عملی پر کئی کئی فٹ پانی میں ڈوبے شہری پھٹ پڑے
Last night, several plainclothes armed men stormed my residence in Lahore. They brutally assaulted our staff, harassed my daughter-in-law, and forcibly took away my son, Shahrez Khan, in front of his two young daughters.
For over three years, this fascist regime in Pakistan has unleashed a reign of terror, raiding thousands of homes, abducting and harassing countless innocent civilians. Yet, despite their brutality, they have failed to break Imran Khan.
Our children understand that the struggle Imran Khan is leading is far greater than any one of us. He has set a remarkable standard of resilience against tyranny. These cowardly actions only expose the fear and desperation of the oppressors.
We place our trust in Allah alone, seeking His protection and justice.
#گھبرانا_نہیں_ہے
جعل ساز کے دل میں ہمیشہ ایک خوف رہتا ہے کیونکہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ اسکے جھوٹ کی عمارت فارم 47 کی جعل سازی پر کھڑی ہے۔
ہر روز جعلی حکومت اور ہینڈلرز عمران خان کو "ختم شدہ " کہتے ہیں لیکن انکے اندر کا خوف پھر بھی انہیں سونے نہیں دیتا کیونکہ ڈرتے ہیں قبولیت والے خان کی مقبولیت سے
پاکستان تحریک انصاف گجرات کے بزرگ رہنما، سابق رکن قومی اسمبلی سید فیض الحسن شاہ صاحب کو پہلے 13 دن اغواء رکھا گیا اور پھر دہشتگردی کے جھوٹے مقدمے میں ڈال کر مسلسل فسطائیت اور بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا، فیض الحسن شاہ صاحب کا جرم صرف عمران خان کے نظریہ پر ڈٹے رہنا ہے۔
گجرات حلقہ پی پی 31 کا قافلہ چوہدری تکاثر رضا مچھیانہ کی قیادت میں صوابی جلسہ گاہ کے قریب پہنچ چکا ہے، گجرات ضلعی کے دیگر قافلے بھی جلسہ گاہ کی جانب گامزن ہیں۔ انشاءاللہ تاریخی شرکت ہو گی۔
3نومبر وہ لمحہ جب ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے قائد پر قاتلانہ حملہ ہوا ، پوری دنیا نے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا لیکن اس حملے کی ایف آئی آر درج نہ کرائی جا سکی۔
ذرا سوچئیے ملک کا سب سے مقبول لیڈر قومی ہیرو جہاں اپنے اوپر ہوئے حملے کی ایف آئی آر درج نہ کروا سکے وہاں عام پاکستانی کے حقوق کی پامالی کا کیا حال ہوگا۔
#ReleaseImranKhan
Look closely at these images Mohsin Naqvi & Faiz Issa.
Did you not enable this and many other such atrocities?
Are these not greater crimes than heckling on the street?
Do you really consider yourself invincible from Justice in both this world & the Hereafter?
رجیم چینج آپریشن کی رات کچھ معتبر چہروں پر خوف کے گھمبیر سائے تھے۔ کچھ دیر قبل کی میٹنگ میں ہوئے فیصلے پر آنے والی کال کا حکم حاوی ہوچکا تھا۔ وزیر اعظم کو سرینڈر پر آ��ادہ کیا جارہا تھا۔ آئین، قانون کی پاسداری کے گذشتہ دعوی اتنے ہی حقیقت تھے جتنا کے ۷۷ سال سے اعلی جاہ کا غیر سیاسی ہونے کا بیان۔ اگلی شام عوام سڑکوں پر آگئی، عقابی روح پھر بیدار ہوگئی۔ ۲۵ مئی تک چہروں کے رنگ کھلتے بکھرتے ہی رہے۔ عمران خان کا حکم آتا شہر کے شہر سڑکوں پر ہوتے۔ پھر یوں ہوا کے ۲۵ مئی کا مارچ ۲۶ مئی کی صبح ختم ہوگیا، سیاہ سائے پھر منڈلانے لگے۔ آگے سر پر ضمنی انتخابات بھی تھے۔ آقاؤں نے پورا زور لگایا، ان کی کوششوں پر یقین محکم رکھنے والوں کے تجزیے بھی ان کی فتح کا اعلان کر رہے تھے۔ عوامی طاقت اور بہتر حکمتِ عملی سے ہم نے اپنا مینڈیٹ محفوظ کرلیا تو بجھے چہروں پر پھر چراغ روشن ہوگئے مگر اگست میں ڈاکٹر شہباز گل کی گرفتاری کے حالات اور ان پر ہونے والے بہیمانہ تشدد کی خبروں نے پھر یہ شمعیں معدوم کردیں۔ پارٹی کے کچھ خیرخواہوں نے ہمیں بھی گِل سے دور رہنے کی تنبیہہ کی تو دوسری جانب اپنے اور غیروں نے مل کر اُس کے ڈبل ایجنٹ ہونے کا بیانیہ بنانا شروع کردیا۔ باوجود ان سب بیانیوں کے ناصرف خان صاحب شہباز گِل کی تیمارداری کے لیے ہسپتال آئے بلکہ ان کے لیے ریلی بھی منعقد کی۔ خیر کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں، یہ اتار چڑھاؤ چلتا رہا۔ کبھی ہمارا پلڑا بھاری تو کبھی مدمقابل کا داؤ چل جاتا، ایسے ہی بنی گالہ کیمپ سے نکلتے ہوئے کچھ ”سرگرم“ رہنماؤں نے گھیر لیا، پوچھا کیا لگ رہا ہے؟ موسم کچھ بدلا بدلا سا نہیں ہے؟ میں نے کہا اپنی میٹنگز ��ا احوال بتانا چاہ رہے ہیں یا مستقبل کا حال جاننا مقصود ہے؟ کہا تمہارا اندازہ کیا ہے؟ میں نے کہا ٹرک کی بتی کے پیچھے مت لگو۔ نا ��ن کی گیدڑ بھبکیوں سے ناامید ہو، نا ان کی چکنی چپڑی باتوں سے کوئی امید باندھو۔ ان کی کیلکولیشن کے مطابق مستقبل کے منظرنامے میں عمران خان نہیں ہے۔ چہرے پھر لٹک گئے۔ کہا مگر عمران خان ان کی کیلکولیشنز کا محتاج نہیں ہے۔
پوچھنا تو بہت کچھ چاہتے تھے کہ ان کی خدائی پر ایمان کچھ اپنوں کو بھی کم نہ تھا مگر پوچھا فقط اتنا کہ کیسے؟
(اور اس کیسے کا جواب وہ جواب ہے جو میں آج بھی خود کو دیتا ہوں جب مجھے اپنا آپ بے بس محسوس ہونے لگتا ہے۔)
”جس شخص نے دنیاوی طاقتوں کو للکار کر اللہ کے پیغمبر (ص) سے محبت کا اقرار کیا۔ جس نے نبیوں کی سرزمین بیت المقدس کا مقدمہ لڑا۔ جو کشمیر سے لے کر افغا��ستان تک ہر مظلوم مسلمان کی آواز بنا۔ جس نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کے بیانیے کو نیست و نابود کیا۔ جو اپنی قوم کی اس وقت ڈھال بنا جب بیرونی ہر طاقت ان کے خون کی پیاسی اور اندرونی ہر طاقت ان کی قیمت لگانے کو تیار تھی۔ جس نے اللہ کے بندوں کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ان کی فلاح کو مقدم رکھا۔ ان کے وقار کی حفاظت کی۔اللہ ہی اس کی مدد کرے گا۔ اللہ اس کی مدد اس لیے کرے گا کہ اس نے ہر قدم پر صرف اللہ سے مدد مانگی ہے۔ اللہ اس کی مدد اس لیے کرے گا کہ اس نے یہ لڑائی صرف اور صرف اس کی خدائی کے بھروسے مول لی ہے اور اللہ اپنی کبریائی میں کوئی شراکت نہیں قبول کرتا۔ ہاں یہ لڑائی آسان نہیں ہونی، گِل آخری نہیں جس نے یہ سب سہا اوروں کو بھی سہنا ہوگا۔ جسم پہ جبر بھی اور روح پر زخم بھی!
میں آخری نہیں جس کے سر کی قیمت لگی اوروں کی بھی لگے گی۔ سب کا سب داؤ پہ لگے گا۔مگر سب سے کھٹن یہ سفر عمران خان کے لیے ہوگا کیونکہ ہم، ہم سفر سہی مگر اصل میں تو صراط مستقیم کا متلاشی وہ ہے اور صراط مستقیم پہ چلنا سہل کب رہا ہے؟
اب اس کو تو اپنی خواہش کی قیمت معلوم ہے، جس جس کو ساتھ چلنے کی خواہش ہے جگرا بڑا رکھے“۔
آپ سمجھ رہے ہوں گے یہ کہہ کر میں خود کو اور آپ کو ذمہ داری سے مبرا کررہا ہوں۔ میں ایسا نہیں کررہا۔ میں اپنے جواب میں سوال چھوڑ رہا ہوں اور جان کر چھوڑ رہا ہوں کیونکہ کچھ دن سے اندازہ ہورہا ہے کہ کم لکھے کو زیادہ پڑھنے کا ہنر سیکھنا آپ کے لیے بھی اب ضروری ہے۔
سیاست مسلسل کوشش، جدوجہد اور حکمت کا نام ہے
اور عمران خان / تحریک انصاف اس کی مثال ہیں
کئی بار عمران خان صاحب/ تحریک انصاف نے ایسے فیصلے لیے جو وقتی طور پر عوام الناس کو پسند نہیں آئے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہ فیصلے ٹھیک تھے
پچھلی بار اسلام آباد جلسہ اس لیے ملتوی ہوا تھا کیونکہ کوئی تیاری نہیں تھی رکاوٹیں ہٹا کر جلسہ گاہ تک پہنچنے کی
اس بار علی امین گنڈاپور نے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے کی بھی تمام تیاری کی ہوئی تھی- تنظیموں نے بھی-
اعظم سواتی صاحب ہمارے سینئیر ترین لیڈر ہیں اور ان کی قربانیاں سب کے سامنے ہیں- ان کے مطابق عمران خان صاحب نے جلسہ ملتوی کرنے کے احکامات اس لیے دئیے کیونکہ مبارک ثانی کے حساس کیس کی وجہ سے سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج کی وجہ سے کوئی بھی حادثہ پیش آ سکتا تھا-
کسی ایک سائیڈ کا بھی کوئی نقصان ہوتا تو ہمارے سر ڈال دینا تھا- اس لیے 8 ستمبر کی تاریخ رکھی گئی-
سوال یہ ہونا چاہیے کہ جس ریڈ زون میں چڑیا پر نہیں مار سکتی ، کسی طرح کا سیاسی احتجاج کی اجازت نہیں وہاں بلا روک ٹوک مخصوص لوگ کیسے پہنچ جاتے ہیں؟ کس چیز کی تیاری ہو رہی ہے؟
کیس تو سپریم کورٹ کے اندر لگنا تھا-
الحمدللہ پچھلے ڈھائی سال میں تحریک انصاف نے ہر چیلنج کا مقابلہ ڈٹ کر کیا ہے- اب لڑائی کے اخری مراحل میں ہمیں بےصبری کی بجائے مزید ہمت و حوصلے کا مظاہرہ کرنا ہے- کیونکہ آخری مرحلہ ہی سب سے مشکل ہوتا ہے-
ہم نے عمران خان کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اگلی لڑائی کی تیاری کرنی ہے-
ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف گجرات سلیم سرور جوڑا کو پنجاب پولیس نے منگل کی رات کو 1 بجے اغواء کیا تھا اور آج ایم پی او کے کالے قانون کے تحت نظر بند کر کہ گجرات جیل منتقل کر دیا ہے۔ گجرات سے متعدد مقامی رہنماوں اور کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے
Javed Hashmi, Mehmood Khan Achakzai, Molana Fazl ur Rehman, Aitizaz Ahsan, Muhammad Zubair, Mushahid Hussain, Farhatullah Baber and many more who do not belong to PTI but are raising their voice publicly against the blundering Establishment. Privately, it’s almost everyone!
جرم تمہارے ، معافی نامے ہمارے؟
کس بات کی معافی!
ایک کے بعد ایک ناکام قاتلانہ حملے کی
قتل کی سازش کے ساتھ ہی پوسٹ مارٹم کی پریس کانفرنس کی
ظل شاہ کے قتل کو حادثہ ��رار دینے کی
عمران خان خود اپنے اغوا کی
اپنے مینڈیٹ چوری ہونے کی
ججوں کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اپنے خلاف سنائے گئے فیصلوں کی
پارٹی کے لوگوں کو ہراساں کر کے استیفیٰ لینے کی
ایک طرف پوری قوم کے سامنے درجنوں شہری قتل کرنے کے باوجود 9 مئی کے جھوٹے ٹسوئے بہا جا رہے تھے تو دوسری طرف SIFC جیسا ڈرامہ وجود میں لایا جا رہا تھا جسکے زریعے
1) پنجاب اور سندھ میں لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کی الاٹمنٹ کروائی گئی،
2) سیاحتی مقامات پر منافع بخش ریاستی ہوٹلز کو سستے داموں لیز پر لیا گیا
3) گندم کے کاشتکار کا معاشی قتل کر جیبیں بھری گئیں۔
یہ ہے 9 مئی کی کُل حقیقت
گجرات PP32 کے ضمنی انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کے حمایتیوں کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، آج بھی پورے حلقہ میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جس گھر چھاپہ مارا جاتا ہے اس گھر کے باہر نفری بیٹھا دی جاتی ہے، کئی گھروں کے باہر اسوقت سول ڈیفنس کی وردی میں اہلکاروں کو بیٹھا دیا گیا ہے۔
“Six senior Pakistani judges have accused the country’s powerful spy agency of interfering in judicial matters and using “intimidatory” tactics such as secret surveillance and even abduction and torture of their family members.
The cases of alleged intimidation and coercion by the judges in “politically consequential” cases relate to those against the main opposition leader and jailed former Prime Minister Imran Khan.
The letter says a judge’s brother-in-law was abducted by “individuals who claimed to be operatives of the ISI” and “tortured into making false allegations”. Another judge said he found secret cameras in his living room and bedroom.
Pakistan’s military has directly ruled over the country for nearly three decades and has historically wielded enormous influence even when civilian governments have been in power.
…the onus now lies on Qazi Faez Isa, the chief justice of Pakistan, to act on the letter by the judges.“
Link: https://t.co/EA2RMgAG4G
- @AJEnglish writes about the letter written by 6 prominent federal court judges to Pakistan’s Supreme Judicial Council citing brazen & brutal interference by the intelligence agencies in the workings of the judiciary.
#JusticeForJudiciary