اگر آج ہم نے عمران خان کی رہائی کے لیے مضبوط آواز نہ اٹھائی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی
کیا پوری قوم کو اب سڑکوں پر نکل کر فیصلہ کن آواز بلند نہیں کرنی چاہیے؟
#خان_کی_رہائی_تک_ڈٹے_رہیں
شہزاد اکبر 💥
فیلڈ مارشل کا یہ آخری دورہ ہو گا ایران کا ۔ صدر ٹرمپ اور امریکن فیڈریشن یہ جان چکی ہے کہ فیلڈ مارشل ایران کے اوپر امریکہ کی رضامندی کے مطابق کچھ بھی ڈیلیور نہیں کر سکتے۔
اسی لیے عاصم منیر بیک اپ پلان کے طور پر مائز اینڈ منرلز کے پروگرام کے اوپر شدت سے کام کر رہے ہیں کہ اگر ٹرمپ کا غصہ دوسری جانب بڑھتا ہے تو اسکی کوئی نہ کوئی خدمت کر دی جائے کہ کہیں ہمارا پتہ ہی نہ کاٹ دے۔
اگر صدر ٹرمپ کے مڈٹرم الیکشن کا رزلٹ اچھا نہ آیا تو پھر کوئی خطا معاف نہیں کی جائے گی ۔ اسکا نزلہ فلیڈ مارشل پر گرے گا۔
گورنر کی اس پریس کانفرنس کے بعد اگر کوئی میڈیا میں آکر یہ بکواس کرے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج/ ایمرجینسی اس لئے لگائی کہ وہاں دہشت گردی ہے تو انکے منہ پر یہ ویڈیو مارے
عادل خان بازئی کو جمال احسن خان اور دیگر ایم این ایز کے ہمراہ لانگ مارچ سے قبل گرفتار کیا گیا تھا اس گرفتاری کے بعد ابھی تک عادل بازئی سے فیملی تک کی ملاقات نہیں کروائی گئی
اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے عادل بازئی کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے تو اب تک ان پروڈکشن آرڈرز پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا
پاکستان میں اسمبلیوں کی اہمیت اور وقعت کو فوجی بوٹوں تلے روند دیا گیا ہے، ان اسمبلیوں میں مزید رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا
ملتان:یہ ہیں وہ شہزادےجنھوں نےبچےکےقاتل کوپکڑ کرمقدمہ درج کرایااوراب مقدمہ کی پیروی بھی کررہےہیں انکوقوم کاسلام ہےاورانکےساتھ ساتھ ملتان پولیس اور وکلاء کوبھی عوام کاسلام۔
سوات میں مراد سعید کے گھر کا سامان باہر پھینکنے اور ان کی معذور والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔
مراد سعید کی والدہ پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مارٹر گولے کا نشانہ بن کر شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ طویل عرصے سے بیمار اور کوما کی حالت میں گھر پر موجود ہیں، جبکہ ان کے ایک بھائی بھی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایسے نازک اور تکلیف دہ حالات میں ایک پہلے سے متاثرہ اور بیماریوں سے نبردآزما خاندان کو مزید مشکلات میں ڈالنا، ان کے گھر کا سامان باہر پھینکنا اور بیمار والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی مبینہ کوشش کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی، اخلاقیات اور پختون روایات کے منافی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین پامالی کا معاملہ بھی ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی خاندان، بالخصوص بیمار خواتین اور بزرگوں کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور گھر کی حرمت کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت کسی بھی انتظامی اقدام کی آڑ میں سیاسی انتقام، قانون سے تجاوز اور شہریوں کی تذلیل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
متعلقہ حکام فوری طور پر ان اطلاعات کی وضاحت کریں، واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرہ خاندان کے قانونی و انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
ایک طرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے عمران خان کے ویژن کے مطابق پشاور ری وائیٹلائزیشن پلان کے تحت 200 ارب روپے منظور کرکے پشاور کو دنیا کے مشہور شہروں میں شامل کرنے کے لیے کام شروع کیا تھا، جس پر تیزی سے کام جاری تھا اور کچھ منصوبے مکمل بھی ہو چکے تھے، لیکن دوسری طرف نام نہاد گورنر نے غریب عوام کی سالوں کی جمع پونجی ایک ہی دن میں برباد کر دی۔وہ لوگ جو پی ٹی آئی حکومت کے خلاف غیر آئینی اور غیر قانونی گورنر راج کی حمایت میں مٹھائیاں تقسیم کرکے جشن منا رہے تھے، آج ذرا ان غریبوں کا دکھ درد بھی محسوس کریں، جن کی زندگی بھر کی کمائی ملبے کا ڈھیر بن گئی۔
وزیراغظم، معدنیات، جمعیت علمائے اسلام سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خطاب و ساتھ ساتھ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے پاس فیصلوں کے اختیار کے حوالے سے ایڈوکیٹ و ایم این اے شیر افضل مروت نے کیا کہا؟ سنیے
سنٹرل کرم کے حالات
ضلع کرم میں لواحقین نے شہید ہونے والے پانچ بچوں کی میتوں کو چھاؤنی گیٹ پہ رکھ کر احتجاج شروع کر دیا ہے
معدنیات کے اس جنگ کا تاوان عوام کیوں بھریں ؟؟
ذہنی مریض بالکل ہی پاگل ہو چکا ہے
ثمر کی فیملی میں loss ہوا اور ثمر میری فرسٹ کزن ہیں تو میری فیملی بھی لاس ہوا میری دوسری کزن کے شوہر سی سی پی او تھے وہ دہشتگردی کا شکار ہوئے تو میں کیسے دہشتگردی کو سپورٹ کر سکتا ہوں یا میرا کوئی نرم گوشہ ہو سکتا ہے؟ دہشتگردی کے خلاف ہر پاکستانی کی پوزیشن ایک ہے، تیمور جھگڑا
وہاں کئی سکول ہیں جہاں سکیورٹی فورسز بھی قیام کرتی رہی ہیں۔ آپکا یہ پراپیگنڈا غلط ہے۔ وہاں آپریشنز کے دوران کئی سکول تباہ ہوئے دوبارہ مرمت بھی کی گئی۔ اصل مجرم وہ ہیں ہیں جنہوں نے سیاسی حکومت کو نیچا دکھانے کے لیے قبائلی علاقوں کے واجب الادا اربوں روپے آجتک نہیں دیئے۔