ہمارے گھر کے سامنے نامعلوم لوگوں بیٹھے رہتے ہیں یہی دیکھتے کہ کون آرہا ہے کون نہیں،باقی بہنوں کو ترٹس دیے جاتے ہی،ایک بہن یونیورسٹی فریز کر گئ دوسری ��اکٹر بہن کو ہسپتال سے نکال دیا۔صرف ماہرنگ نہیں بلکہ ہمارے پورا گھر جیل خانے میں ہیں۔
نادیہ, ماہرنگ کی بہن
@NadiaBaloch99
@a_siab
FOR IMMEDIATE RELEASE
International Human Rights Foundation (IHRF) Condemns Shameful Life Sentence for Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah by Pakistani Authorities
The Hague, The Netherlands – June 23, 2026 – The International Human Rights Foundation (IHRF) expresses its strongest condemnation regarding the reprehensible life sentence handed down by a Pakistani Anti-Terrorism Court to prominent human rights defender Dr. Mahrang Baloch and her colleague, Sibghatullah Shah .
This verdict is a blatant miscarriage of justice and a devastating blow to the rule of law in Pakistan. Dr. Baloch, a leader of the Baloch Yakjehti Committee (BYC), has been a fearless and peaceful voice for the Baloch people, courageously campaigning against enforced disappearances, extrajudicial killings, and state repression in Balochistan . Her only crime is her dedication to exposing grave human rights violations .
The IHRF is deeply alarmed by the egregious procedural irregularities and denial of due process that characterized this “secret trial” . A proceeding that denies the accused the right to effectively cross-examine witnesses or present a proper defense, held in a “faceless court” on jail premises, cannot be considered a legitimate judicial process . This is not justice; it is a politically motivated weaponization of the judicial system to silence dissent and intimidate human rights defenders .
We echo the calls of Amnesty International and other international bodies, who have condemned this verdict as an affront to the right to a fair trial . The state’s cynical misuse of anti-terrorism laws to prosecute peaceful activism represents a dangerous escalation in the crackdown on fundamental freedoms in Pakistan .
The IHRF urges the Government of Pakistan to immediately and unconditionally release Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah, and to ensure their safety and well-being.
We call upon the international community, including the United Nations Human Rights Council, to:
1. Denounce this injustice and place Pakistan under close scrutiny for its escalating human rights violations.
2. Demand transparency in all legal proceedings against human rights defenders and a full investigation into the circumstances of this case.
3. Pressure Pakistani authorities to cease the persecution of peaceful activists and uphold their international obligations regarding due process and fundamental rights.
The IHRF stands in solidarity with Dr. Mahrang Baloch, Sibghatullah Shah, and all peaceful activists in Pakistan who risk their lives for justice and human dignity.
Over the last few days, government officials and their supporters have repeatedly claimed that Dr. Mahrang Baloch chose to boycott her trial and refused to defend herself.
This deliberately obscures what actually happened.
On 12 June, the authorities introduced a so-called faceless court system for these proceedings. Under that arrangement, Mahrang and the other accused were expected to face charges carrying life imprisonment without being able to properly communicate with their lawyers, without being able to see the witnesses testifying against them, and without any meaningful public scrutiny of the process.
The public was excluded. Journalists were excluded. Families were excluded.
The accused themselves were denied the ability to effectively confront the case being presented against them.
In response, Mahrang, Sabghatullah Shah Ji, their lawyers, and members of the Baloch Yakjehti Committee publicly objected. For days, they demanded an open trial. They did not ask for special treatment. They did not ask for immunity. They asked to see the evidence. They asked to see the witnesses. They asked for the proceedings to be conducted in a manner consistent with the most basic principles of justice.
They said repeatedly that they were prepared to face every allegation brought against them, but they would not accept a process in which a person could be sentenced to life imprisonment without being afforded the fundamental safeguards of a fair trial.
That position is now being dishonestly recast as a refusal to defend themselves.
It was the opposite.
Mahrang did not refuse a defence. She demanded the right to mount one.
The question is not why she objected to a process in which the accused could not properly communicate with counsel or confront witnesses. The question is why those conditions were imposed in the first place.
A state confident in its evidence does not need to hide its proceedings from public view. It does not need a system in which the accused, their lawyers, journalists, and the public are prevented from seeing what is happening inside the courtroom.
Mahrang’s objection was never to being tried.
Her objection was to being denied a fair trial while being told to call it justice.
#ReleaseBYCLeaders
#ReleaseMahrangBaloch
جس ایک قتل کی پاداش میں ڈاکٹر مارنگ ، شاہ جی اور دیگر لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں کیا بلوچستان میں ہونے والا یہ واحد واقعہ ہے جو قابل جرم اور قابلِ سزا ہے ۱۹۴۷ سے آج دن تک ماروائے آئین قتل جبری گم��دگیاں، مسخ شدہ لاشیں، گھروں کو نذرِآتش کرنا کیا یہ سب جرائم کے ذمرے میں نہیں آتے کیا یہ لوگ اس ملک کے شہری تصور نہیں ہوتے اِن جرائم میں ملوث کتنے لوگوں کو عدالتی کٹہرے میں لایا گیا ہے۔
ایک متنازعہ قتل کے مقدمے کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی لیکن کیا اسی راجی مچی کے دوران ایف سی کے اہلکاروں کی براہِ راست فائرنگ سے قتل ہونے والے چار نہتے بلوچوں کے قاتلوں کو بھی کبھی عمر قید کی سزا ملی؟ کبھی ان نہتے سیویلینز کے قتل پر کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، کبھی انکے قاتلوں کوکٹھرے میں کسی عدالت نے کھڑا کیا؟ نہیں، کیونکہ ان کے لیے قانون کا معیار مختلف ہے، کیونکہ وردی پہن لینے سے قتل جرم نہیں رہتا، اور قانون صرف مظلوم کے خلاف طاقتور ہو سکتا ہے۔
جولائی 2024 میں ایک پرامن عوامی اجتماع کو روکنے کے لیے پورے بلوچستان کو عملاً محاصرے میں بدل دیا گیا۔ سڑکیں کھودی گئیں، راستے بند کیے گئے، بسوں پر فائرنگ کی گئی، اور پھر نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا ک�� چار افراد اپنی جانوں سے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین افراد مستقل معذوری کا شکار ہوئے، اور ایک شخص کے سر میں گولی مار کر اسے عمر بھر کی اذیت کے حوالے کر دیا گیا۔
مگر ان قتلوں پر کوئی مقدمہ نہیں۔ ان زخمیوں کے لیے کوئی انصاف نہیں۔ ان معذوروں کے لیے کوئی احتساب نہیں۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے گھروں پر دھاوے بولے، جنہوں نے طاقت کے زور پر ایک عوامی اجتماع کو کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی ایک کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، وہ اس لیے کہ اس نظام میں قانون جرم کو نہیں، مجرم کی حیثیت اور طاقت کو دیکھتا ہے۔ اگر آپ کمزور ہیں تو الزام ہی سزا بن جاتا ہے، لیکن اگر آپ طاقتور ہیں تو لاشیں بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
یہاں انصاف کا ترازو برابر نہیں، بلکہ طاقت کے وزن سے جھکا ہوا ہے۔
اور یہی نظام ہیکہ قاتل آزاد ہیں اور مظلوم قید۔
گولیاں چلانے والے محفوظ ہیں اور گولیاں کھانے والے مجرم۔
بندوق والوں کے لیے استثنا ہے اور خالی ہاتھ لوگوں کے لیے عمر قید۔
یہی اس سامراجی اور ہائبرڈ نظام کا اصل چہرہ ہے
اور یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور رہنما صبغت اللہ شاہ کے خلاف جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا پر مشتمل نام نہاد عدالتی فیصلہ ریاست اور عدلیہ کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ پی ٹی ایم اس جھوٹے مقدمے اور خلافِ قانون سزا کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
پی ٹی ایم ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی 24 جون بروز بدھ کے شٹرڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کرتی ہیں
یہ حقیقت اپنی پوری سنگینی کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑی ہوئی ہے کہ پاکستان کا نظامِ انصاف نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کا وہ اہم ترین پہلو ہے جسے تاریخی طور پر محکوم اقوام کی سیاسی مزاحمت کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
بلوچستان میں جاری قومی مزاحمت اور ریاستی دہشت گردی کے پورے پس منظر کو نظر انداز کرتے ہوئے جھوٹے، حقائق کے برعکس مقدمات بنا کر سیاسی کارکنوں کو عمر قید کی سزائیں سنائی جانا طاقت اور قانون کے اس باہمی رشتے کی عکاسی کرتا ہے جس میں قانون کو بالادست اقوام اور ریاستی اداروں کے مفادات کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ اسے محکوم اقوام کو کنٹرول کرنے اور استعماری استحصالی منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنے کا آلہ بنا لیا جاتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف نام نہاد جھوٹے مقدمات قائم کرنے اور پھر انہیں جس ماحول میں چلایا گیا، وہاں منصفانہ ٹرائل، آزادانہ قانونی دفاع، غیر جانبدار عدالتی عمل، فیس لیس ٹرائل اور انصاف کے تقاضوں کے برعکس نامناسب عدالتی کارروائی پاکستان کے عدالتی نظام کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔
ایک طرف راج مچی ریلی کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف جھوٹے مقدمات میں عمر قید کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں، جبکہ اسی ریلی میں ریاستی اہلکاروں کے ہاتھوں شہید کیے گئے تین بلوچ نوجوانوں کے خلاف مقدمہ تک درج نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف ان ہزاروں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتلوں اور فوجی آپریشنوں کا حساب کون دے گا جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے پشتون اور بلوچ سرزمین کو جنگ اور عسکریت کے میدان میں تبدیل کر رکھا ہے؟ وہ کون سی عدالت ہے جہاں ریاستی تشدد اور ظلم کے مقدمات زیرِ سماعت آتے ہیں؟
پاکستانی ریاست کی نوآبادیاتی ساخت میں عدلیہ، انتظامیہ ا��ر سکیورٹی ادارے عموماً ایک ہی سیاسی منطق کے تحت کام کرتے ہیں۔ اس منطق کا بنیادی مقصد محکوم علاقوں میں قومی مزاحمت کو ایک "سکیورٹی مسئلہ" بنا کر پیش کرنا ہے۔ بلوچ اور پشتون علاقوں میں جاری جبر، عسکریت اور سیاسی کارکنوں کی مجرمانہ تصویر کشی اسی وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔
لہٰذا راج مچی کے خلاف درج جھوٹے کیس کا یہ فیصلہ محض چند افراد کے خلاف نہیں بلکہ محکوم اقوام کی سیاسی آوازوں، قومی حقوق کے جائز مطالبات اور ریاستی جبر کے خلاف ابھرنے والی مزاحمت کے خلاف ایک واضح پیغام ہے۔
تاہم تاریخ گواہ ہے کہ جیلیں، سزائیں اور ریاستی جبر قومی مزاحمت اور آزادی کی خواہش کو کبھی ختم نہیں کر سکے۔ پستون تحفظ موومنٹ ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی عدالتی ناانصافیوں کے خلاف 24 جون بروز بدھ کی شٹرڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کرتی ہیں
ہم اس ناانصافانہ فیصلے کو پوری طرح مسترد کرتے ہیں اور بلوچ عوام کے ساتھ ساتھ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام سیاسی قیدیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات
پشتون تحفظ موومنٹ
حیات اللہ ولد سخی زمان، تحصیل ککی ضلع بنوں 15 سال سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ ان کی والدہ نے ہر ممکن دفتر، عدالت اور اعلیٰ حکام تک اپنی فریاد پہنچائی ہے۔ میٹنگز اور کمیشنوں میں بار بار درخواست کی، مگر آج تک انصاف نہیں ملا۔
دلالوں (ٹاؤٹوں) نے بیٹے کی بازیابی کے نام پر ان سے کئی بار لاکھوں روپے وصول کیے، مگر ان کے بیٹے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ وہ اب تک لاپتہ ہیں۔
جبری گمشدگی میں مبتلا حیات اللہ کی والدہ کی زار و قطار فریاد
#ReleasePashtunMissingPersons
کب تک قید کروں گی کب تک لاپتہ کردیگا کب تک اپ کی یہ پالسی چلتے رہے گا
لیکن ایک ضرور اپ کی یہ غرور ختم ہوگا مظلوم کی بھی ایک دن ایگا
کس بنیاد پر قید کیاہے کس بنیاد پر اتنے ظلم کرتے ہے
#EndEnforcedDisappearances#ReleaseAllPTMActivist
پشتونوں کا قتل عام اتنا نارملائز Normalize ہوچکا ہے کہ اوسط دس سے پندرہ 10-15 پشتون روزانہ ڈرون ، ٹارگٹ کلنگ ، بمباری ، یا مقابلوں میں مارے جا رہے ہیں، بریکنگ نیوز تو چھوڑیں سرے سے میڈیا پر خبر تک نہیں بنتے ہیں،