ہو جائیں کِسی کے جو کبھی یار مُنافق
سمجھو کہ ہوئے ہیں دَر و دیوار مُنافق
اِن کو کِسی بازار سے لانا نہیں پَڑتا
یاروں میں ہی مِل جاتے ہیں تَیّار مُنافق
مُمکن تھا کبھی اُن کو میں خاطر میں نہ لاتا
ہوتے جو مقابل مِرے دو چار مُنافق
ناپید ہوا جاتا ہے اِخلاص یہاں پَر
سَر دار مُنافق ہے سرِ دار مُنافق
جو شَخص مُنافق ہے , مُنافق ہی رہے گا
اِک بار مُنافق ہو یا سَو بار منافق
سَچّائی زباں کاٹ کے چُپ چاپ کھڑی ہے
شُہرت کی بُلندی پہ ہیں اَخبار مُنافق
لِکھا ہے مُنافق نے مُنافق کا فَسانہ
اِس واسطے رکھے ہیں یہ کِردار مُنافق
مخلص ہیں جو کھل کر مِری تائید کریں گے
بھڑ کیں گے یہ سن کر مِرے اشعار ، منافق
دانِش یہ حقیقت ہے بَھلے مانو نہ مانو
اِخلاص کا طے کرتے ہیں مِعیار مُنافق
دانش عزیز.....
وہ زمانہ نظر نہیں آتا
کچھ ٹھکانا نظر نہیں آتا
جان جاتی دکھائی دیتی ہے
ان کا آنا نظر نہیں آتا
عشق در پردہ پھونکتا ہے آگ
یہ جلانا نظر نہیں آتا
اک زمانہ مری نظر میں رہا
اک زمانہ نظر نہیں آتا
دل نے اس بزم میں بٹھا تو دیا
اٹھ کے جانا نظر نہیں آتا
لے چلو مجھ کو راہروان عدم
یاں ٹھکانا نظر نہیں آتا
رہیے مشتاق جلوۂ دیدار
ہم نے مانا نظر نہیں آتا
دل پہ بیٹھا کہاں سے تیر نگاہ
یہ نشانہ نظر نہیں آتا
تم ملاؤ گے خاک میں ہم کو
دل ملانا نظر نہیں آتا
آپ ہی دیکھتے ہیں ہم کو تو
دل کا آنا نظر نہیں آتا
دل پر آرزو لٹا اے داغؔ
وہ خزانہ نظر نہیں آتا
داغ دہلوی