ہمارےمکمل طور پر نہتے،جانثار اور پرجوش کارکن علی بلال کو پنجاب پولیس نےشہیدکردیا۔انتخابی ریلی میں شرکت کیلئےآنے والےنہتےکارکنان کیساتھ ایسا وحشیانہ سلوک نہایت شرمناک ہے۔پاکستان اس وقت خون کے پیاسےمجرموں کےچنگل میں ہے۔ہم IG، CCPO اور دیگر کیخلاف قتل کے مقدمات درج کروائیں گے۔
اس بیان کو سنیے اور حقیقت کو پہچانیے۔
عمران خان یا دیگر سے مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ فوج کی مداخلت کے خلاف ہو گئے۔ اگر بیانات سے مسئلہ ہوتا تو جو آج حکمران ہیں وہ بھی جیلوں میں ہوتے۔
عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے پیٹ پر لات ماری ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے دھندے کو چھیڑا ہے اور انکے لیے کاروباری نقصان ناقابل برداشت ہے۔
ان تمام پاکستانی بہنوں اور بھائیوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ، جو ان مشکل حالات میں کشمیری عوام کی آواز بنے، ہمارے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھا اور حق و انصاف کی جدوجہد میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوۓ یہ یکجہتی اور محبت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ 💞
عوام احتجاج کرتی ہے تو اُس میں عورتوں کی شرکت کا مطلب ایک مخصوص صحافی نما مخلوق کو بتانا ہوتا ہے کہ یہ کسی گروہ کا نہیں عوام کا احتجاج ہے۔ ایسے جاہل قانون داند (daand) تجزیہ کار یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ادارے چاہیں تو ایسی کوئی کاروائی نہ کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں جن میں عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔ کچھ اینکر حضرات یہ تصویریں اپنے پراپیگنڈے کے لئیے تو استعمال کر لیتے ہیں مگر اپنے ٹی وی پروگراموں یا خبروں میں دکھانے کی ہمت بھی نہیں کرتے۔ یہ قانون داند اپنی پاکستان کی خواتین کو تو اظہارِ رائے کا پورا حق دینے کی بات کرتے ہیں مگر کشمیر کی خواتین کے احتجاج کو محض ہیومن شیلڈ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
یہ کوئی وڈیرہ، سرمایہ دار نہیں بلکہ اپنی ہی قوم کا ایک عام سا دوکاندار ہے، شوکت نواز میر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ جب اُس کے لوگوں پر گولی چلی تو وہ کشمیر کے پہاڑ چڑھ کر واپس نہیں بھاگا گنڈا پور کی طرح، بلکہ اپنی عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے۔
یہ راولاکوٹ کا ایک منظر ہے۔
اسلام آباد پولیس کی وردیوں کو آپ بخوبی پہچانتے ہوں گے۔ ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مظاہرین پولیس اہلکاروں کو پانی پیش کر رہے ہیں۔ مگر اس منظر کو صرف دیکھنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کیجیے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے بانی رکن عمر نذیر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ ان کے ایک ساتھی شہید ہو گئے جبکہ عمر نذیر خود گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ ان کے چاہنے والے انہیں حفاظت کے پیشِ نظر ایک خفیہ مقام پر منتقل کر دیتے ہیں جبکہ شہید کی میت ہسپتال کے گیٹ پر موجود ہوتی ہے اور احتجاج جاری رہتا ہے۔
ادھر ایف سی، پی سی، رینجرز اور دیگر فورسز تعینات کی جاتی ہیں۔ اسلام آباد پولیس شیلنگ کرتی ہوئی دھرنے کے مقام تک پہنچتی ہے۔ دوسری طرف لوگ مسلسل یہی مؤقف اختیار کیے بیٹھے ہیں کہ ہم پُرامن ہیں۔
طویل شیلنگ، دوڑ دھوپ اور کشیدہ حالات کے باعث پولیس اہلکار تھکن کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس پانی بھی موجود نہیں ہوتا۔ اور پھر وہ منظر سامنے آتا ہے جو اس ویڈیو میں محفوظ ہے؛ دھرنا دینے والے لوگ انہی پولیس اہلکاروں کو پانی پیش کر رہے ہیں جو ان کے سامنے کھڑے ہیں۔
یہ وہی لمحے ہیں جن کے بعد گولیاں چلتی ہیں۔ لاشیں گرتی ہیں۔ درجنوں خاندان سوگوار ہوتے ہیں۔ سینکڑوں لوگ زخمی ہوتے ہیں۔ یہ وہی حالات ہیں جن میں شہداء کی لاشیں بھی عوام کے حوالے نہیں کی جاتیں۔
مگر اس سب کے باوجود، اس سب کے درمیان بھی، لوگ اسی پولیس کو پانی پیش کر رہے ہیں۔
پانی دینا شاید کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں، مگر یہ منظر انسانیت کے وقار کی ایک بڑی مثال ضرور ہے۔ یہ اس تہذیب، اس تربیت اور اس شعور کا عکس ہے جس میں دشمنی سے پہلے انسان کو دیکھا جاتا ہے۔
سوچئے، سامنے اسلحے سے لیس وہ لوگ کھڑے ہیں جن پر گولیاں چلانے، شیلنگ کرنے اور لاشوں کو روکنے کے الزامات ہیں، مگر اگر وہ پیاسے ہیں تو انہیں پانی پیش کیا جا رہا ہے۔
پرامن ہونے کی اس سے بڑی دلیل شاید کوئی اور نہیں ہو سکتی۔
یہ صرف پانی نہیں، یہ انسانیت کا احترام ہے۔
یہ صرف ایک منظر نہیں، یہ ایک قوم کے ظرف کا تعارف ہے۔
”اسٹیبلشمنٹ اپنے 12 ٹائوٹس کو اٹھا کر آزاد کشمیر اسمبلی میں بٹھا دیتی ہے، ان 12 کے ساتھ ملا کر اپنی کٹھ پتلی حکومت بناتی ہے، ان 12 کو اہم ترین وزارتیں بانٹتی ہے اور پھر پورے آزاد جموں کشمیر کو کنٹرول کرتی ہے۔ اب آزاد کشمیر کے لوگوں کو سمجھ آئی ہے کہ جن 12 افراد کے ذریعے کٹھ پتلی حکومت بٹھائی گئی ہے انہوں نے ہی دراصل ان کے حقوق دبا رکھے ہیں۔ پیپلزپارٹی اس صورتحال میں دوغلے پن کا مظاہرہ کر رہی ہے اور کشمیریوں کے ساتھ زیادتی کا براہ راست حصہ ہیں۔“ عمران ریاض خان
محترمہ۔آئینے میں جب چہرے اچھا نہ آ رہا ہو۔چہرہ بدلنے کی کوشش کریں۔
کائنڈلی۔آئینہ مت توڑیں
جب سچ سے گبھراہٹ محسوس ہو اور دلیل ختم ہو جائے۔پھر اِن آوازوں کو دبانے اور بند کرنے کی کوشش لوگوں کو حقیقت سے دور رکھنے کا باعث بنتی ہے۔
رینجرز اور ایف سی نے جہاں رات بھر راولاکوٹ شہر کی بیکریاں اور سٹور لوٹے، وہیں متعدد موٹرسائیکلوں کو بھی آگ لگا دی۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں بعض حلقے "اللہ کی فوج" قرار دیتے ہیں؟ عوام خود فیصلہ کرے کہ کیا اللہ کی فوج ایسی ھوتی ھے؟؟ 😡
#AJKRightsMovement
اڑھائی منٹ کی اس ویڈیو میں عمر نزیر کشمیری نے ایجنسیوں کے کالے چینل کا نفرت انگیز پراپیگنڈا تباہ کر دیا۔ غور سے سنیے ہمارے کشمیری بھائی کیا کہہ رہے ہیں۔ باقی ظلم کے شکار ناراض لوگ پاکستان میں بھی سخت شکوے کرتے رہتے ہیں۔