معزز ٹیکس گزار! اپنے ٹیکس کی ادائیگی میں قانونی طریقے سے بچت کریں
قانون آپ کو کئی سہولتیں دیتا ہے جن سے آپ کا ٹیکس کم ہو سکتا ہے:
پنشن اسکیم میں بچت
رضاکارانہ پنشن اسکیم (VPS) میں رقم جمع کروائیں تو ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے۔ اپنی قابلِ ٹیکس آمدنی کے 20 فیصد تک کی رقم پر یہ فائدہ ملتا ہے۔ یعنی مستقبل کی بچت بھی اور آج ٹیکس میں کمی بھی۔
(سیکشن 63، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
بچوں کی ٹیوشن فیس
اگر آپ کی سالانہ قابلِ ٹیکس آمدنی 15 لاکھ روپے سے کم ہے تو بچوں کی ٹیوشن فیس کا 5 فیصد آپ کی آمدنی سے منہا ہو گا، ہر بچے کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 ہزار روپے تک۔ یہ سہولت والدین میں سے فیس ادا کرنے والے کسی ایک کو ملے گی۔
(سیکشن 60D، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
گھر کے لیے قرض
اگر آپ نے بینک یا کسی مالیاتی ادارے سے قرض لے کر اپنا گھر خریدا یا بنایا ہے تو اس قرض پر ادا کیے گئے منافع پر ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے۔ یہ سہولت ایک ذاتی گھر (2500 مربع فٹ رقبے تک) یا ایک فلیٹ (2000 مربع فٹ تک) کے لیے ہے، اور ایک بار حاصل کرنے کے بعد اگلے 15 سال تک کسی دوسرے گھر یا فلیٹ پر یہ سہولت نہیں ملے گی۔
(سیکشن 63A، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
خیرات اور عطیات
منظور شدہ فلاحی اداروں، سرکاری اسپتالوں، اسکولوں یا یونیورسٹیوں کو دیے گئے عطیات پر ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے، بشرطیکہ نقد عطیہ کراسڈ چیک کے ذریعے دیا گیا ہو۔
(سیکشن 61، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
زکوٰۃ
زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت ادا کی گئی زکوٰۃ آپ کی قابلِ ٹیکس آمدنی سے منہا ہو جاتی ہے۔
(سیکشن 60، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
میڈیکل الاؤنس
اگر آپ کا ادارہ مفت علاج یا علاج کے اخراجات کی واپسی کی سہولت نہیں دیتا تو بنیادی تنخواہ کے 10 فیصد تک میڈیکل الاؤنس ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔
(دوسرا شیڈول، حصہ اول، شق (139)(b)، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
سب سے اہم بات:
پنشن اسکیم اور عطیات کی رسیدیں اپنے ادارے کو دیں تاکہ ہر مہینے تنخواہ سے کم ٹیکس کٹے۔ باقی سہولیات کا دعویٰ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت کریں۔
(سیکشن 149، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
ان ٹیکس سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا انکم ٹیکس گوشوارہ جلد از جلد جمع کروائیں۔
نوٹ: مذکورہ بالا تمام سہولیات کا حصول متعلقہ سیکشنز میں درج شرائط اور حدود سے مشروط ہے۔ (شرائط لاگو ہیں)
اسلام آباد سرحد یونیورسٹی سے فائرنگ کے نتیجے میں گرفتار فوجی افسر کا ٹرائل بھی سول کورٹ میں ہونا چاہیئے کیونکہ اس نے یہ جرم سول حدود میں سویلینز کے ساتھ کیا ہے ۔
ذوالفقار علی بھٹو ڈیڑھ سال تک جیل میں رہے۔ آخری دس ماہ تک انہیں موت کی کوٹھڑی میں رکھا گیا، جس طرح اب عمران خان کو رکھا ہوا ہے۔
بھٹو کو ذہنی اور جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ قید تنہائی میں ڈالا گیا۔ آخر میں بھٹو وہاں تعینات افسر کو کہتے تھے ضیاء کو کہو just finish it now اب برداشت نہيں ہوتا۔
بھٹو ہی نہيں کوئی بھی انسان ایسا جسمانی اور ذہنی ٹارچر برداشت نہيں کرسکتا۔ سب یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ظالموں اب ختم کرو۔
عمران خان تین سالوں سے زیادہ عرصے سے اس طرح کی صورتحال میں قید ہے۔ 9 ماہ سے بدترین ذہنی اور جسمانی ٹارچر سہہ رہا ہے۔ بہنوں کو کہا کہ انہوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ چیزیں برداشت سے باہر ہو رہی ہیں۔
عمران خان کو اللہ نے ایمان دیا ہے۔ ایک مضبوط جسم اور ذہن دیا ہے۔ ان تینوں کی وجہ سے وہ بھٹو سے دوگنا عرصہ تک سروائو کر گیا۔ لیکن انسان کا جسم اور ذہن دونوں کا ایک breaking point ہوتا ہے یہاں پر پہنچ کر وہ ٹوٹنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم جواب دے جاتا ہے۔ ذہن ساتھ چھوڑنے لگتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ظالموں کا تو حساب ہوگیا ہی کہ انہوں نے ایک بےگناہ انسان پر فرعون بن کر یہ ظلم کیوں کیا؟ کیا پاکستان کے 25 کروڑ عوام سے سوال نہيں ہوگا کہ انہوں نے اس ظلم کو روکنے کے لئے کیا کیا؟
ذرا سوچیں آپ کے نامہ اعمال میں کیا ہے جو پیش کریں گے؟
اگر اسی خاموشی اور بےحسی پر پکڑے گئے تو کیا کریں گے؟
یا آپ کو آخرت اور روز جزا اور سزا پر یقین نہيں ہے؟
🚨 ایک انتہائی سنگین قانونی سوال!
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے خود تسلیم کیا ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے PIMS لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور چند گھنٹوں بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
یہاں اصل سوال عمران خان کے صرف ہسپتال جانے کا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کا ہے۔
18 اگست کو سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور 16 ستمبر تک طبی نگرانی/علاج میں رکھنے کا حکم دیا تھا، جبکہ اگلی سماعت پر عدالت کو صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔
حکومت نے اس حکم میں تبدیلی کے لیے نظرثانی درخواست دائر ضرور کی، لیکن اگر عدالت نے اس حکم میں کوئی تبدیلی یا معطلی نہیں کی تھی تو پھر انتہائی بنیادی سوال یہ ہے:
شفا انٹرنیشنل کے بجائے PIMS کیوں؟
16 ستمبر سے پہلے عمران خان کو ہسپتال سے واپس اڈیالہ کس اختیار کے تحت بھیجا گیا؟
اور اگر حکومت کو سکیورٹی یا کسی انتظامی مسئلے پر اعتراض تھا تو عدالت سے پیشگی اجازت کیوں نہیں لی گئی؟
عدالتی حکم انتظامیہ کی صوابدید نہیں ہوتا کہ حالات کے مطابق اس پر عمل کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اگر حکومت سمجھتی تھی کہ شفا انٹرنیشنل میں منتقلی ممکن نہیں تو اسے عدالت سے رجوع کرکے حکم میں ترمیم حاصل کرنی چاہیے تھی۔
یہ معاملہ کسی سیاسی جماعت کی پسند یا ناپسند سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ عدالتی اختیار، قانون کی حکمرانی اور ایک قیدی کی صحت و زندگی کا معاملہ ہے۔
اب سپریم کورٹ کو خود اس پورے معاملے کی وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ اس کے حکم پر کس حد تک عمل ہوا، PIMS منتقل کرنے کا فیصلہ کس نے کیا، 16 ستمبر سے پہلے واپس جیل بھیجنے کی قانونی بنیاد کیا تھی، اور اگر عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ذمہ دار کون ہے۔
قومی سطح کے اس حساس معاملے میں ہر سوال کا جواب ریکارڈ پر آنا چاہیے۔ عدالت کے حکم کی بالادستی ہر شخص اور ہر ادارے پر لازم ہے۔
ایک سرکاری ملازم نے سائیکل خریدی۔وہ ویسے
تو بہت خوبصورت تھی لیکن اس کے پیچھے کیرئیر نہیں تھا۔اس نے اپنے بیٹے کو ڈیلر کے پاس بھیجا کہ وہ اسے درست کرا لے۔جب سائیکل واپس آئی تو اس نے دیکھا کے اب کیرئیر تو ہے لیکن اسٹینڈ غائب ہے۔اس نے جا کرڈیلر سے دریافت کیا کے یہ کیا ماجرا ہے
اسٹینڈ کیوں نکالا ؟
ڈیلر نے جواب دیا کے صاحب جی! گورنمنٹ کی
نوکری میں ایک چیز مل سکتی ہے یا کیریئر
یا اسٹینڈ ، اگر اسٹینڈ لو گے تو کیرئیر ختم اور
اگر کیرئیر بنانا ہے تو کبھی اسٹینڈ مت لینا۔
نوٹ: تمام سرکاری ملازم کے نام۔ 😊
یہ آپ کی بیوی ہے۔
■ یہ کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اس کا ہاتھ تھام کر سڑک پر چلیں۔
■ اور یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اپنے "اہل" اور "اہلِ خانہ" کے سامنے اس سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔
■ یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اسے پیار سے پکاریں۔
■ اور یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اس کی غیر موجودگی میں اسے فون کریں اور اس کی خیریت معلوم کریں۔
■ یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اس کا نام لوگوں کے سامنے لیں۔
■ اور یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ گھر کے کاموں میں اس کی مدد کریں۔
■ یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اسے اکیلے گھمانے لے جائیں اور اسے خصوصی محسوس کرائیں۔
■ اور یہ بھی کوئی شرم کی بات نہیں کہ آپ اسے کچھ خاص چیزیں خرید کر دیں جو اسے پسند ہوں، تاکہ وہ جان سکے کہ آپ ابھی بھی اس کی پسند کو یاد رکھتے ہیں۔
● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ اس کے ساتھ چلتے ہوئے لوگوں کے سامنے اس طرح برتاؤ کریں کہ آپ "سیّد" بن جائیں اور آپ دونوں کے درمیان کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں۔
● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ اپنے اہل خانہ کے سامنے اس کی تعریف نہ کریں اور اسے اجنبی محسوس کرائیں۔
● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ اسے ایسے نام سے پکاریں جو اسے پسند نہ ہو، یا ہمیشہ اسے اس کے بچے کے نام سے پکاریں، یہاں تک کہ وہ اپنا نام بھول جائے، اور اس حدیث کو بھول جائیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ لوگوں کو ان کے پسندیدہ ناموں سے پکاریں۔
● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ سارا دن کام پر رہیں اور اسے گھر میں تنہا چھوڑ دیں اور اس کی خیریت معلوم نہ کریں۔
● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے یہ کہیں کہ "یہ میری بیوی ہے" یا "یہ فلاں کی ماں ہے" اور اس کا نام لینے سے کترائیں جیسے کہ وہ کوئی عار ہو، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھول جائیں جب وہ سب کے سامنے حضرت عائشہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتے تھے (اگر وہ اپنے بیٹے کے نام سے پکارنے کو پسند کرتی ہے تو پھر آپ صحیح ہیں)۔
● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ہوں اور وہ آپ کے سامنے کپڑے دھو رہی ہو اور جھاڑو دے رہی ہو اور آپ کو اس کی پرواہ نہ ہو، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھول جائیں جب وہ اپنے اہل خانہ کی مدد کرتے تھے۔
● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ اپنی چھٹی کے دن اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں اور اسے بھول جائیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو خوش رکھنے کے لیے دوڑتے تھے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے۔
● اصل شرم کی بات یہ ہے کہ آپ اسے ماہانہ خرچے دیں اور اس کے ساتھ بخیلی کریں، اور اسے کبھی کبھار تحفہ دینا بھول جائیں! وہ اپنا گھر چھوڑ کر آئی تھی جہاں وہ شہزادی کی طرح رہ سکتی تھی تاکہ آپ کے گھر میں ملکہ بن سکے، نہ کہ محض ایک مشین جو بچے پیدا کرے اور گھر کا کام کرے! وہ آپ کے پاس آئی ہے تاکہ آپ کی نصف بہتر بن سکے، یعنی وہ آپ کی "روح" ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔" (الروم 21)
اے مردوں کی جماعت، عورتوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو اور ان کے ساتھ نرمی برتو۔❤
میں نے کوئی نامناسب لباس نہیں پہنا تھا لیکن۔۔
میرے شوہر نے مجھے دیکھتے ہی کہا: "اس عمر میں یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟"
شادی کو بہت سال ہو چکے ہیں۔
اور ان سالوں میں عورت بہت کچھ سیکھ جاتی ہے۔
کب اپنی خواہش کو فضول خرچی کہنا ہے۔
کب نیا جوڑا دیکھ کر دل مار لینا ہے۔
کب شیشے کے سامنے رُک کر بھی خود کو جلدی سے نظر انداز کر دینا ہے۔
اور کب اپنے بالوں میں سفیدی کا پہلا تار دیکھ کر مسکرا دینا ہے، جیسے یہ بھی کوئی عام سی بات ہو۔
میں بھی یہی کرتی رہی تھی۔
گھر، بچے، کچن، مہمان، رشتے دار، سکول، فیسیں، بل…
زندگی آہستہ آہستہ میرے اندر سے وہ لڑکی نکالتی گئی جو کبھی عید سے ایک رات پہلے چوڑیاں ملا کر رکھتی تھی۔
پھر پچھلے ہفتے بازار میں ایک جوڑا دیکھا۔
سبز رنگ کا۔
بہت نفیس۔
نہ شوخ۔
نہ بےجا۔
بس ایسا کہ دل نے کہا:
"حرا، یہ تم پر اچھا لگے گا۔"
میں نے بہت دیر تک قیمت دیکھی۔
پھر خود کو دیکھا۔
پھر سوچا:
"کب تک ہر چیز بچوں، گھر اور دوسروں کیلئے خریدتی رہوں گی؟"
اور کئی سال بعد پہلی بار اپنے لیے وہ جوڑا خرید لیا۔
اُس شام ہماری ڈنر بکنگ تھی۔
میں نے سوچا ان کو اچھا لگے گا۔
بال بنائے۔
ہلکا سا کاجل لگایا۔
کلائیوں میں چوڑیاں پہنیں۔
اور وہی سبز جوڑا پہن کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
قسم سے، میں کوئی دلہن نہیں لگ رہی تھی۔
کوئی فلمی ہیروئن بھی نہیں۔
بس ایک عام سی عورت لگ رہی تھی…
جو کئی سال بعد خود کو اچھی لگی تھی۔
وہ گھر آیا۔
میں مسکراتی ہوئی اُس کے سامنے گئی۔
چند لمحے وہ مجھے دیکھتا رہا۔
پھر اُس کے چہرے پر ایک عجیب سی ناگواری اتر آئی۔
"یہ کیا پہن لیا ہے؟"
میں نے ہلکی سی ہنسی میں بات ٹالنی چاہی۔
"اچھا نہیں لگ رہا؟"
وہ بولا:
"یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟"
میں خاموش ہو گئی۔
"اتنا تیار ہونا ضروری تھا؟"
"ہم صرف کھانا کھانے جا رہے ہیں، کوئی شادی میں نہیں۔"
میں نے آہستہ سے کہا:
"مجھے اچھا لگ رہا تھا۔"
وہ ہنس دیا۔
وہ ہنسی مذاق والی نہیں تھی۔
وہ ہنسی کسی کو چھوٹا کرنے والی تھی۔
"اس عمر میں؟"
بس۔
یہ دو لفظ میرے اندر کہیں گہرے اتر گئے۔
اس عمر میں۔
جیسے شادی کے چند سال بعد عورت پر خوبصورت لگنے کی میعاد ختم ہو جاتی ہو۔
جیسے بچوں کی ماں بننے کے بعد اُس کا سجنا مذاق بن جاتا ہو۔
جیسے بیوی کا دل، آئینہ اور خواہشیں صرف جوانی کے پہلے چند برسوں تک جائز ہوں۔
میں نے کہا:
" میں نے کوئی غلط لباس نہیں پہنا۔"
وہ جھنجھلا گیا۔
"بات لباس کی نہیں ہے۔"
میں نے پہلی بار اُس کی طرف سیدھا دیکھا۔
"تو پھر بات کس کی ہے؟"
وہ کچھ لمحے خاموش رہا۔
پھر بولا:
"مجھے یہ سب ڈرامے پسند نہیں۔"
"تم جیسی ہو، ٹھیک ہو۔"
"یہ سجنا سنورنا، چوڑیاں، کاجل… اب ان سب کی کیا ضرورت ہے؟"
اُس لمحے مجھے سمجھ آ گیا۔
مسئلہ لباس نہیں تھا۔
مسئلہ یہ تھا کہ میں نے اپنے آپ کو دوبارہ دیکھ لیا تھا۔
اور شاید وہ عادی ہو چکا تھا مجھے صرف ایک کردار میں دیکھنے کا۔
بیوی۔
ماں۔
گھر سنبھالنے والی۔
مگر عورت؟
وہ شاید بھول چکا تھا کہ میں وہ بھی ہوں۔
میں نے آہستہ سے کہا:
"تو کیا شادی کے بعد عورت کو اچھا لگنے کا حق ختم ہو جاتا ہے؟"
وہ بولا:
"میں نے ایسا کب کہا؟"
میں نے جواب دیا:
"کہا نہیں، محسوس کروا دیا۔"
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
ہم ڈنر پر نہیں گئے۔
وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ گیا۔
اور میں کمرے میں آ کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
وہی جوڑا۔
وہی چوڑیاں۔
وہی کاجل۔
مگر اب آنکھوں میں پانی تھا۔
میں دیر تک خود کو دیکھتی رہی۔
اور پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ عورت کو سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب وہ اپنے لیے تیار ہو…
اور جس شخص کیلئے دل میں جگہ ہو، وہ اسے دیکھ کر شرمندہ کر دے۔
اگلی صبح میں نے وہ جوڑا اتار کر الماری کے سب سے سامنے لٹکا دیا۔
اس نے دیکھا تو بولا:
"اب بھی رکھو گی اسے؟"
میں نے سکون سے کہا:
ہاں
میں نے کہا:
"کیونکہ یہ صرف جوڑا نہیں ہے۔"
"یہ مجھے یاد دلائے گا کہ میں صرف ذمہ داریوں کا نام نہیں ہوں۔"
"میں ایک عورت بھی ہوں۔"
"اور مجھے اچھا لگنے کیلئے کسی کی اجازت نہیں چاہیے۔"
وہ خاموش رہا۔
میں نے پہلی بار بہت نرمی سے مگر واضح لہجے میں کہا:
"تمہیں میرا جوڑا پسند نہ آئے، یہ تمہارا حق ہے۔"
"مگر مجھے اپنی عمر، اپنے وجود اور اپنی خوشی پر شرمندہ کرنا تمہارا حق نہیں۔"
پھر میں نے چوڑیاں اُتاریں نہیں۔
انہیں کلائی میں رہنے دیا۔
کیونکہ کچھ چیزیں احتجاج نہیں ہوتیں…
صرف یاد دہانی ہوتی ہیں۔
اس بات کی یاد دہانی کہ عورت کی خوبصورتی صرف اُس کے نکاح، ولیمے یا جوانی کے دنوں تک محدود نہیں ہوتی۔
وہ چالیس میں بھی عورت ہے۔
پچاس میں بھی۔
بچوں کی ماں بن کر بھی۔
اور گھر کی ذمہ داریوں میں تھک کر بھی۔
اور جو مرد اپنی بیوی کو عمر کے ساتھ کم نہیں، مکمل ہوتے دیکھ سکے…
وہی اصل میں محبت کرنا جانتا ہے۔
منتخب تحریر
اللہ کے رسول ﷺ سے اپ کا کوئی واسطہ نہیں اپ چوری کی سیٹ پر اے ہوے صرف ظالم حکمران ہیں اور ظالم حکمرانوں کے بارے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے
اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔" (سورۃ آل عمران 3:57)
ایک اور مقام پر فرمایا:
"اور ظالموں کی طرف نہ جھکو، ورنہ تمہیں بھی آگ چھو لے گی۔" (سورۃ ہود 11:113)
ظالم حکمرانوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے۔" (سنن ابی داؤد، ترمذی)
اسلام حکمرانوں کو عدل، امانت اور رعایا کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ قیامت کے دن ہر حکمران سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوال ہوگا۔
حضرت عمر فاروق کا مشہور قول ہے:
"اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ مجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے گا۔"
#PAKWatch 🇵🇰: PTI workers erupted in celebration for what looks like a win in today's elections in Gilgit-Baltistan, Pakistan.
Even with Imran Khan behind bars, his movement still has fire in Pakistan’s north.
FREE CAPTAIN PAKISTAN.
ایک طرف نواز شریف اور بلاول زرداری گلگت میں جا کر الیکشن کمپئین کر رہے ہیں، دوسری طرف تحریک انصاف کا گلگت میں بھی انتخابی نشان چھیننے کے باوجود پارٹی رہنماؤں کو گلگت میں داخل ہونے نہیں دیا جارہا۔ وقت کے فرعونوں کو عمران خان کی جماعت کے رہنماؤں تک سے خوف ہے۔ تحریک انصاف سے نشان چھین لیا، کمپئین نہیں کرنے دے رہے تو پھر الیکشن کروا کر قوم کا پیسہ کیوں ضائع کیا جارہا ہے؟
@haniabatool9 "لیڈر وہ نہیں ہوتا جو صرف حکومت کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو قوم کو غیرت اور خودداری کا سبق دے۔ جو نہ کسی کے دباؤ میں آئے اور نہ کسی سے ڈرے، جس کا جینا مرنا اس ملک کے لیے ہو، وہی پاکستان کا سب سے بہترین قائد ہے
ایران میں تو اب رضا پہلوی کا کوئی کام رہ نہیں گیا۔میرا اسے مشورہ ہے کہ پاکستان آ کر جواد احمد کی برابری پارٹی جوائن کر لے۔یوں پارٹی میں دو بندے ہو جائیں گے۔جواد احمد اکیلے پارٹی سنبھال سنبھال کر تنگ آ گئے ہیں۔
فوج کے چوہدری,🤓
ہمارے ایک یونٹ افسر بال گرنے کی وجہ سے بہت پریشان رہا کرتے تھے۔ اس مرض سے چھٹکارا پانے کے لئے انہوں نے انواع و اقسام کے تیل استعمال کئے۔ دو ایک مرتبہ ٹنڈ بھی کروا دیکھی لیکن معاملہ جوں کا توں ہی رہا۔ آخر کسی دوست نے مشورہ دیا کہ راولپنڈی سی ایم ایچ میں ایک سکن سپیشلسٹ بریگیڈئیر ڈاکٹر تعینات ہیں ، اگر ان کو دکھایا جائے تو ضرور کچھ افاقہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے فوراً بریگیڈئیر صاحب سے ملاقات کا وقت طے کیا اور بس پکڑ کر لاہور سے راولپنڈی روانہ ہو گئے۔ وقت مقررہ پر سی ایم ایچ پہنچے اور ڈاکٹر صاحب کے حضور پیش ہو کر اپنی بیماری کی تفصیلات بیان کیں ۔
سب کچھ سن کر بریگیڈئیر صاحب نے سر پر ہاتھ پھیرا اور وگ اتار کر میز پر رکھ دی ۔ عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے۔ ہمارے یونٹ افسر نے سلیوٹ کیا اور واپس ہولئے۔ اس کے بعد انہوں نے کسی قسم کے علاج کا ترددنہیں کیا۔ بہت عرصے کے بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ ہمارے حساب سے تو اب تک انہیں الف گنجا ہوجانا چاہئے تھا لیکن ان کے سر پر کافی بال دکھائی دے رہے تھے۔ ہم نے حیران ہو کر اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ بال گرنے کی اصل وجہ ٹینشن لینا تھی۔ میں نے جس دن سے ٹینشن لینا چھوڑ ی ہے میرے بال گرنا رک گئے ہیں۔
ہم نے زیادہ تر لوگوں کے بال کمانڈ کے دوران گرتے اور سفید ہوتے دیکھے۔ اچھا بھلا سمارٹ میجر جیسے ہی لیفٹیننٹ کرنل پروموٹ ہو کرخوشی خوشی یونٹ کی کمانڈ سنبھالتا ہے اس پر پریشانیوں کا کوہ ہمالیہ ٹوٹ پڑتا ہے۔ دو سال کی کمانڈ کے اختتام پر یہ نوبت آ جاتی ہے کہ سر میں سیاہ بال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔
صبح کا آغاز بڑے شاندار انداز میں صوبیدار میجر صاحب کی رپورٹ سے ہوتا ہے۔ ’’سر سب خیر خیریت ہے !بس رات ایک سپاہی یونٹ سے بھاگ گیا تھا، ہم نے اس کی تلاش میں بندے روانہ کئے ہوئے ہیں۔ ایک گاڑی کا کینٹ کے مین چوک پر ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
گاڑی مرمت کے لئے ورکشاپ روانہ کر دی ہے۔ لنگر پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ بڑی مشکل سے بجھائی ہے ۔ دو کک زخمی ہوئے جن کو ہسپتال میں داخل کروا دیا ہے۔کبڈی کے مقابلوں میں ہماری ٹیم نے آٹھویں پوزیشن لی ہے,
(کل ٹیمیں بھی آٹھ ہی تھیں۔)آڈٹ ٹیم نے اٹھارہ آڈٹ
آبجیکشن نوٹ کر لئے ہیں۔ میری نانی فوت ہو گئی ہے اور میں دس دن کی چھٹی جانا چاہتا ہوں۔آپ پریشان نہ ہوں، باقی سب خیریت ہے۔‘‘ اب آپ ہی بتائیں اس قسم کی خبریں سننے کے بعد سو پچاس بال تو فوراً ہی سفید ہو جاتے ہیں اور باقی ان بلاؤں سے نمٹنے میں ۔
ڈاک میں موجود تند و تیز خطوط کا جواب تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے کہ کمانڈر کا بلاوا آ جاتا ہے۔ کمانڈر انہی چیزوں کو اپنے انداز میں دہراتے ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں۔ ’’آپ کی یونٹ سے مجھے بہت شکایات موصول ہو رہی ہیں۔
اگر معاملہ اسی طرح رہا تو مجھے سخت ایکشن لینا پڑے گا۔‘‘پسینہ پونچھتے ہوئے دوبارہ یونٹ میں آتے ہیں ۔ کام کا آغاز ہوتا ہے تو گھر سے بیگم کا فون آ جاتا ہے۔ ’’آپ گھر کو بالکل وقت نہیں دیتے۔ بیٹے کی طبیعت سخت خراب ہے اسے سی ایم ایچ لے کر جانا ہے اور ہاں آج ذرا جلدی گھر آ جائیے گا، شام کو آپ کے سسرال والے تشریف لا رہے ہیں۔‘‘ سی او صاحب جب سارے معاملات نمٹا کر گھر پہنچتے ہیں تو شام ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کے بعد گھر والوں کی تند و تیز باتیں سن کر بالوں کی سفیدی کا عمل مزید تیز ہو جاتا ہے۔
یہاں ہمیں وہ لطیفہ یاد آ گیا جس میں ایک چوہدری سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کہاں کے چوہدری ہیں ،تو وہ جواب دیتا ہے۔ ’’معلوم نہیں۔۔۔۔ گھر والے مجھے کہتے ہیں کہ تم چوہدری ہو گے تو باہر ہو گے اور باہر والے کہتے ہیں کہ تم چوہدری ہو گے تو اپنے گھر میں ہو گے۔
لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد