پاکستان کی معاشی حالت اس نہج پر پہنچ گئ ہے عمران خان کا سخت ترین ناقد آج عمران خان کے حق میں گواہی دے رہا ہے عمران خان نے پاکستان کو کیسے بہترین طریقے سے سنبھالا ہوا تھا 🔥
آج ہمارے سامنے وہ بات کھل کر آگئی جس کا ہم تین سال سے اعادہ کررہے ہیں کہ اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کو سازش کے تحت گرایا گیا، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ سے مل کر عمران خان کو ہٹایا۔
پاکستان کی پارلیمنٹ میں ہمیشہ وہ لوگ بٹھائے جاتے جو اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر چلتے ہیں۔ ان کی مرضی پر ووٹ دیتے جمہوریت کو پابند سلاسل کرنے کے لیے برسوں سے ایک نظام قائم کیا جا چکا ہے۔
ڈراپ سائٹ نے سائفر پوسٹ کرکے ثابت کردیا کہ عمران خان سچا تھا اس میں بتایا گیا کہ سائفر آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کو ہٹا دو یہی تمہارے لیے اچھا ہوگا ۔ حکومت اگر انکار کرسکتی تو کرے کہ ڈراپ سائٹ پر جو شائع ہوا وہ جھوٹ ہے لیکن ان کی اتنی جرات نہیں کہ اس کو جھٹلا سکیں۔ سلمان اکرم راجہ
The Biden administration of the US was behind the undemocratic removal of Imran Khan as the Prime Minister of Pakistan: The original cable I-0678 released by Drop Site.
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
امریکی ادارہ “Dropsite News” سائفر کی اوریجنل کاپی سامنے لے آیا
ڈونلڈ لوُ نے پاکستانی سفیر کو کہا کہ “اگر تحریک عدم اعتماد سے وزیراعظم (عمران خان) کو ہٹا دیا گیا تو “سب معاف کر دیا جائے گا” کیونکہ روس کا دورہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کا تھا-
ورنہ امریکہ اور یورپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو مزید سختی سے isolate/اکیلا کر دیا جائے گا”
ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ #سائفر_ایک_حقیقت تھا اور عمران خان سچا تھا اور سچا ہے!!
Zulkarnain is one of the pioneers bringing motorcycle tours from Malaysia to Afghanistan. Even though the conditions were not always suitable, he remained committed and put in all his effort to make it happen. He has truly opened the route for Malaysian riders to follow his path and has become a trendsetter in the Malaysian motorcycle touring market.
Bravo Zulkarnain.
I was busy in Afghanistan, and my colleagues were here in Pakistan leading a motorcycle tour. Now they are back, and we finally met again after almost two months.
#Tourism#Motoriders
اگرچہ قومی مقاصد اور “معرکۂ حق” جیسے واقعات یقیناً جشن منانے کے قابل ہوتے ہیں، لیکن ایسے مواقع کے عام شہریوں پر ممکنہ اثرات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ قومی ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے اجتماعات معمول کی بات ہیں، مگر یہ عوام کی روزمرہ زندگی اور فلاح و بہبود کی قیمت پر نہیں ہونے چاہئیں۔
پاکستان شاید ایک منفرد مثال بن چکا ہے جہاں اتوار کی شام (10 مئی) پاکستان مونومنٹ پر منعقدہ معرکۂ حق کی اختتامی تقریب نے بڑے پیمانے پر شہری زندگی کو متاثر کیا۔ فیض آباد بس اسٹینڈ بند رہا، فیض آباد سے زیرو پوائنٹ جانے والی ٹریفک کو نویں ایونیو کی طرف موڑ دیا گیا، جبکہ سامان بردار بھاری گاڑیوں کو پورے دن اسلام آباد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ مزید برآں، ریڈ زون سے متصل ایف-6، ایف-7 اور جی-6 کے علاقوں کو بھی جزوی طور پر عوامی آمدورفت کے لیے بند رکھا گیا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ پنجاب میں عام غریب شہری پولیس اور ریونیو حکام کی مسلسل ہراسانی سے تنگ آکر خودکشیاں کر رہے ہیں، جبکہ لاہور میں پنجاب حکومت نے معرکۂ حق کی تقریبات کے لیے اربوں روپے کے اشتہاری اور میڈیا مہمات کا اعلان کر کے وفاقی حکومت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اطلاعات کے مطابق اس مہم پر وفاقی حکومت سے دوگنا رقم خرچ کی گئی۔
معاشی مشکلات کے اس دور میں یہ اخراجات حیران کن حد تک غیر حقیقت پسندانہ محسوس ہوتے ہیں، خاص طور پر جب کم آمدنی اور تنخواہ دار طبقے کی قوتِ خرید گزشتہ چار برسوں میں پچاس فیصد سے زائد کم ہو چکی ہے۔
اسی نوعیت کی مشکلات عوام اور کاروباری طبقے نے اپریل میں ایران-امریکہ مذاکرات کے پہلے دور سے قبل اور اس دوران بھی برداشت کیں، جب تقریباً دو ہفتے تک معمولاتِ زندگی متاثر رہے۔ نہ وفاقی حکومت اور نہ ہی پنجاب حکومت نے متاثرہ شہریوں اور کاروباروں کے لیے کسی قسم کے ازالے یا معاوضے کا خیال کیا۔
عام حالات میں شاید ان اقدامات کو سکیورٹی کے تقاضے قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن جب انہیں عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اقدامات بے حسی کی مثال دکھائی دیتے ہیں۔ کاروبار پہلے ہی محدود اوقاتِ کار کا شکار ہیں، اور بازاروں کی بندش نے دیہاڑی دار مزدوروں، دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کو شدید مالی نقصان پہنچایا ہے۔ اتوار کی بندش نے بھی کاروباری اوقات، اجرتوں اور سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا۔
اسلام آباد میں وی آئی پی نقل و حرکت کے دوران ٹریفک جام اور سڑکوں کی بندش عوام کے لیے ایک اضافی اذیت بن چکی ہے۔ مزید یہ کہ ایک ہفتے تک جاری جشن اور خصوصاً میڈیا مہم پر اربوں روپے خرچ کرنا، ایسے وقت میں جب عام پاکستانی شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا حکومت کے نزدیک تقریبات عوامی فلاح پر فوقیت رکھتی ہیں؟
یہ صورتحال اس وقت اور زیادہ سنگین محسوس ہوتی ہے جب دارالحکومت کے بعض علاقے وی وی آئی پی نقل و حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً محاصرے کی کیفیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قومی جشن واقعی پاکستان کو درپیش سنگین مسائل—جیسے مہنگائی، بجلی، گیس اور پیٹرول کی بلند قیمتوں—کا کوئی حل پیش کرتے ہیں؟
ڈپلومیٹک انکلیو میں مقیم سفارت کار بھی اپنے دارالحکومتوں کو اس جزوی محاصرے کی صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں۔ وہ اس مسئلے سے بخوبی واقف ہیں کیونکہ ان کے مہمان اکثر غیر متوقع سڑک بندشوں اور متبادل راستوں کے باعث ملاقاتوں میں تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ تمام صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا عام پاکستانی شہریوں کی زندگی اور مفادات کی کوئی اہمیت ہے؟ اور کیا حکمران اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر “امن ساز” کے طور پر اپنی شناخت بنانے اور ایران-امریکہ تنازع کو کم کرنے کی کوششوں نے ہزاروں خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ہزاروں گاڑیاں، مسافر، مزدور، دکاندار اور کاروباری افراد نہ صرف گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہے بلکہ غیر معمولی مالی نقصانات بھی برداشت کرتے رہے۔
ایسی انتظامی حکمتِ عملی بین الاقوامی پذیرائی کو عوامی فائدے میں تبدیل کرنے میں شاید ہی مددگار ثابت ہو سکے۔ پاکستان کی اکثریت روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کر کے زندگی گزارتی ہے، جبکہ بیوروکریسی اور اس کے اعلیٰ افسران ہمیشہ اپنی آسائشوں اور مراعات کے حصار میں محفوظ رہتے ہیں، حتیٰ کہ جنگی حالات میں بھی۔ جب یہی حکام پورے شہر یا مخصوص علاقوں کو محاصرے میں بدل دیتے ہیں تو یہ نہ صرف نااہلی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں اور روزگار سے مکمل بے اعتنائی بھی ظاہر کرتا ہے۔
ریاست ایسے شہریوں سے وفاداری کی توقع کیسے کر سکتی ہے جن کی روزی روٹی اور روزمرہ زندگی انہی تقریبات کے
@ImtiazGul60@shafqatmm1 Using a creator's video as one's own post without credit is a direct violation of intellectual property rights. A formal apology would serve as an admission that the content was misappropriated, which is essential to clear Gul Sahab's rightful ownership.