#مهم_او_جدي
له بیګا راهیسې ډېر ملګري دې موضوع ته هوا ورکوي چې ګواکې ایران احمد شاه مسعود خپلو مراسمو ته وربللی او د مقاومت جبهې د مشر په توګه یې معرفي کړی دی. زما په اند، موضوع دومره جدي نه ده.
هغه نه د کوم رسمي استازي په حیث وربلل شوی او نه ورته کوم ځانګړی رسمي پروتوکول ورکړل شوی. په نړیوال عرف کې د غم او ماتم په مراسمو کې آن د سیاسي مخالفینو ګډون هم یو عادي اصل دی او دا د رسمي ملاتړ یا مشروعیت معنا نه لري.
بل مهم ټکی دا دی چې دولتونه د خپلو ملي ګټو له مخې تعامل کوي. ایران هم همدا اصل تعقیبوي.
له نورو باید دا تمه ونه لرو چې زموږ د خوښې مطابق دې سیاست وکړي؛ موږ باید خپل قوت، ثبات او دریځ پیاوړی کړو. په نړۍ کې لسګونه مثالونه شته چې هېوادونه د یو بل سیاسي مخالفین ساتي او ورسره اړیکې لري، خو دا په دې معنا نه ده چې هغوی یې رسمي استازیتوب منلی وي.
پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی آپریشنز، شہید ارمان لوڼی کی چھٹی برسی اور مجموعی طور پر موجودہ حالات کے تناظر میں قومی رہنما منظور پشتین کا ایک نہایت اہم اور بروقت پیغام۔
یہ پیغام ہر باشعور انسان کے لیے سننا اور سمجھنا ضروری ہے
#OnlyPTM
امارت اسلامی نے پابندیوں کے باوجود کیسے معاشی بقا سے استحکام کا سفر طے کیا؟
تحریر: محمد افغان
جب سال 2021 میں امارتِ اسلامی افغانستان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا تو عالمی مبصرین کا متفقہ تجزیہ یہ تھا کہ زمین بند افغانستان کی معیشت چند ماہ میں ڈھیر ہو جائے گی۔ امریکا نے افغان مرکزی بینک کے لگ بھگ ‘9 ارب ڈالر منجمد’ کر دیے۔ بین الاقوامی امداد بند ہوئی اور عالمی مالیاتی ادارے IMF اور World Bank نے تعاون معطل کر دیا۔
یہ مشکلات اُس افغانستان کو پیش آئیں، جس کی معیشت کا 70 فیصد حصہ پہلے ہی بیرونی امداد پر منحصر تھا۔ اسی لیے دنیا بھر کے معاشی ماہرین کو عقیدے جیسا یقین تھا کہ “طالبان حکومت معاشی طور پر زندہ نہیں رہ پائے گی۔”
لیکن حیرت انگیز طور پر ایسا نہیں ہوا… پابندیوں کے باوجود افغان معیشت نے نہ صرف خود کو سہارا دیا، بلکہ خودی کو بلند کرتے ہوئے ‘کرنسی، محصولات اور تجارت’ کے میدان میں غیر متوقع استحکام کی جانب قدم بڑھائے تو خدا کی تقدیر نے طالبان کی تدبیر کو تھام لیا۔
یہی وہ لمحہ تھا، جہاں سے افغانستان کے “بقا ماڈل” کی کہانی شروع ہوتی ہے…
قرآن و حدیث سے معیشت کے اسباق پڑھے ہوئے طالبان نے ایک ایسا ماڈل پیش کیا، جو قرضوں سے آزاد، داخلی وسائل پر مبنی اور علاقائی روابط پر استوار ہے۔
قرضوں سے آزاد معیشت اسلامی اصولوں کا عملی مظہر ہے:
امارتِ اسلامی کی اقتصادی پالیسی کا پہلا نمایاں پہلو ‘قرض سے اجتناب’ ہے۔
طالبان حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کے بجائے ‘اندرونی آمدن کے ذرائع’ کو مضبوط کرنے پر توجہ دی۔
محصولات کے نظام کو منظم کیا گیا، کسٹم ڈیوٹیوں میں شفافیت لائی گئی اور اسمگلنگ ختم تَر کرنے کے لیے راستوں کی بندش اور محدودیت کو یقینی تَر بنایا گیا۔
چناں چہ امارت اسلامی افغانستان نے سال 2022 میں دو ارب ڈالر سے زائد محصولات جمع کیے، جو امریکی سرپرستی والے سابقہ نظام کے مقابلے میں کہیں بہتر تھے۔
یہ طرزِِ عمل دراصل اسلامی معاشی اصولوں کی عملی تعبیر ہے۔ سودی قرض سے پرہیز، مالیاتی خودانحصاری اور بیت المال کے مدنی تصور کی بحالی…
یہ سب وہ عناصر ہیں، جن پر اسلامی معیشت کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ طالبان حکومت نے اس تصور کو نظریاتی نعروں سے آگے بڑھا کر ‘ریاستی پالیسی’ کا حصہ بنایا۔
گویا 21ویں صدی، جہاں سوشلزم اور کمیونزم جیسے جدید سے جدید تَر ناہموار معاشی ماڈل آزمائے جا رہے ہیں، وہاں طالبان نے Old is Gold کی حقیقی مثال کے طور پر تقریباً ‘1500 سال قدیم مدنی معاشی ماڈل’ کو اپلائی کر کے خصوصاً مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اپنے تو اپنے ہوتے ہیں، جب کہ سپنے تو سپنے ہوتے ہیں!
اور یہ ‘اپنا اسلامی معاشی ماڈل’ ہی ہے، جس نے امارت اسلامی کو تھام ہی نہیں رکھا، بلکہ آگے سے آگے بڑھنے میں مدد دے رہا ہے۔
اسی لیے افغانستان آج ‘IMF یا ورلڈ بینک کا مقروض نہیں’، بلکہ اپنے محدود وسائل میں رہ کر چلنے والا ملک ہے۔
اگرچہ اس کی معیشت چھوٹی ہے، مگر ‘خودمختاری’ کے اعتبار سے بڑی طاقتوں کو چیلنج کر رہی ہے۔
افغان کرنسی کا غیر متوقع استحکام:
پابندیوں اور بین الاقوامی لین دین کی معطلی کے باوجود ‘افغان کرنسی’ خطے کی نسبتاً مستحکم کرنسیوں میں شمار ہو رہی ہے۔
جب سال 2021 میں شکست خوردہ امریکی افواج کا انخلا ہوا تو بہت سے مبصرین نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ افغان کرنسی تیزی سے گرے گی، لیکن طالبان نے غیر معمولی اقدامات کے ذریعے کرنسی کو مستحکم رکھا۔
امارتِ اسلامی نے ‘ڈالر کی غیر قانونی تجارت’ پر سخت کارروائیاں کیں، منی ایکسچینج مارکیٹ کو ریگولیٹ کیا اور غیر ضروری درآمدات پر پابندیاں لگائیں۔ اس کے نتیجے میں ‘کرنسی کی طلب و رسد کا توازن’ برقرار رہنا شروع ہو گیا۔
مرکزی بینک (Da Afghanistan Bank) نے محدود وسائل کے باوجود ‘نقدی کے بہاؤ’ کو منظم کیا اور مقامی مارکیٹ کو افغان کرنسی کے استعمال کی ترغیب دی۔
اس موقع پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ افغان معیشت کے انہی دنوں کچھ پڑوسی ممالک کی جانب سے یہ پروپیگنڈا بھی کیا جانے لگا کہ ‘افغانستان میں اُن کے ملک کی کرنسی سے لین دین کیا جا رہا ہے، کیوں کہ افغان کرنسی مضموط نہیں ہے۔’
یہ پروپیگنڈا بجائے خود اس لیے بھی مضحکہ خیز تھا کہ جو لوگ یہ پروپیگنڈا کر رہے تھے، اُن کی اپنی کرنسی افغان کرنسی سے کئی گنا کمزور ہے۔
یہاں دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ افغانستان میں بین الاقوامی بینکنگ سسٹم بند یا انتہائی محدود ہونے کے باوجود ‘مقامی مالیاتی لین دین چلتا رہا۔’ Hawala اور نقدی معیشت نے اس خلا کو پُر کیا اور حکومت نے اسے قانونی دائرے میں لانے کی کوشش کی ہے۔
اگرچہ یہ ماڈل غیر رسمی ہے، لیکن اس نے ملک کو مالیاتی بحران سے بچانے میں خوب کردار ادا کیا۔
طالبان کے وزیرِ خزانہ کے ایک بیان کے مطابق کہ:
“ہماری معیشت چھوٹی ضرور ہے، مگر آزاد ہے۔ ہم کسی قرض یا سودی نظام کے پابند نہیں ہیں۔”
آپ اس جملے کو افغانستان کی اُس معاشی سوچ کی بنیاد سمجھ سکتے ہیں، جس کے چلانے والے اسلامی مدارس کے تعلیم یافتہ ہیں۔
بقا کی تجارت سے بڑھتے استحکام کی طرف:
دوسری طرف افغانستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اسے خطے کی تجارت کے لیے ایک ‘قدرتی راہداری’ بناتی ہے۔ امارتِ اسلامی نے اس موقع کو بھرپور استعمال کیا ہے۔
پاکستان، ایران، ازبکستان، تاجکستان اور چین کے ساتھ زمینی تجارت کے نئے معاہدے کیے گئے۔ کسٹم پوائنٹس کو مرکزی کنٹرول میں لایا گیا اور “ٹرانزٹ فیس” کو آمدن کا ایک مستحکم ذریعہ بنایا گیا۔
ایران کے ساتھ چابہار راہداری، پاکستان کے ساتھ طورخم و چمن تجارتی راستے اور ازبکستان کے ساتھ ریل منصوبہ افغان تجارت کے اہم ستون بن چکے ہیں۔
یہ تمام کوششیں مغرب پر انحصار کرنے کے بجائے ‘علاقائی خود انحصاری’ کی سَمت بڑھتے قدموں کی علامتیں ہیں۔
اسی دوران امارتِ اسلامی نے خاص طور پر ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ (اشیاء کے بدلے اشیاء) کو فروغ دیا۔ ڈالر کی قلت کے ماحول میں یہ اقدام ‘نقدی کے انحصار کو کم’ کرنے کا عملی طریقہ ثابت ہوا۔ اور یہ وہی طریقۂ تجارت ہے، جو مدارس میں فقہ کی کتابوں میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔
افغانستان کی ‘معدنی دولت’ بھی اس ماڈل کی بنیاد بن رہی ہے۔ لیتھیئم، تانبہ، کوئلہ اور قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ چین، جاپان، روس اور اب سعودی عرب نے بھی ان شعبوں میں سرمایہ کاری میں دل چسپی ظاہر کی ہے۔
جیسا کہ بروز جمعرات 23 اکتوبر کو امارت اسلامی کے وزیرِ معدنیات و پیٹرولیم ملا ہدایت اللہ بدری اور سعودی عرب کی معروف ‘ڈیلٹا انٹرنیشنل کمپنی’ کے چیف ایگزیکٹو شہر التقّی اور ان کے وفد کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں سعودی کمپنی نے افغانستان کے تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات کے دوران سعودی وفد نے اپنی کمپنی کی سرگرمیوں، ٹیکنالوجی اور منصوبہ جاتی تجربات پر روشنی ڈالی اور افغانستان میں ‘TAPI پائپ لائن منصوبے’ کی توسیع سمیت تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش و ترقی میں بھرپور سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا۔
سعودی وفد نے یقین دلایا کہ وہ اپنے ‘تکنیکی تجربات افغان انجینئرز کے ساتھ شیئر’ کرے گا، تاکہ مقامی مہارت میں اضافہ ہو اور ملک مزید خود انحصاری کی جانب بڑھ سکے۔
جس پر وزیرِ معدنیات و پیٹرولیم الحاج ملا ہدایت اللہ بدری نے وفد کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہوئے کہا:
‘ہم سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ قریبی تعاون چاہتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ آپ افغانستان کے معدنی شعبے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔’
انہوں نے مزید کہا کہ امارتِ اسلامی افغانستان ملکی و غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے ‘کھلے دروازوں کی پالیسی’ پر عمل پیرا ہے۔ حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی، تاکہ افغانستان کے قدرتی وسائل کو شفاف اور پائیدار انداز میں ترقی دی جا سکے۔
یہ ملاقات نہ صرف توانائی کے شعبے میں ‘امارت اسلامی–سعودی تعلقات کے نئے باب’ کی علامت ہے، بلکہ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب عالمی منڈی افغانستان کے قدرتی ذخائر کی اہمیت کو ازسرِنو تسلیم کر رہی ہے۔
یہ مرحلہ اس امر کا اعلان ہے کہ افغانستان اب صرف قدرتی وسائل کا مالک نہیں، بلکہ خود اپنے مستقبل کا معمار بھی بننے جا رہا ہے۔
اس طرح افغانستان بتدریج ‘معاشی تنہائی سے علاقائی انضمام’ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اسلامی و فکری نظریے سے عمل تک کا سفر:
امارت اسلامی کا معاشی ماڈل محض تکنیکی حکمتِ عملی نہیں، بلکہ ایک ‘اسلامی فکری بیانیے’ کی عملی صورت بھی ہے۔
یہ ماڈل اس مفروضے کو چیلنج کرتا ہے کہ “جدید ریاستیں سُودی نظام کے بغیر نہیں چل سکتیں”۔
امارتِ اسلامی نے دکھا دیا ہے کہ اگر قرآن و حدیث کے علم و عمل کی روشنی میں مالی نظم، شفافیت اور مقامی پیداوار پر توجہ دی جائے تو ‘سُودی قرضوں کے بغیر بھی ریاستی استحکام ممکن’ ہے۔
یہ ماڈل دوسرے مسلم ممالک، خصوصاً جو سُود اور قرض دہندہ اداروں کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں، کے لیے ایک سوالیہ نشان بھی ہے کہ:
کیا وہ مغربی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کر کے ‘اسلامی اقتصادی خودمختاری’ کی طرف آنا چاہیں گے؟
اگرچہ افغانستان ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر اس نے ‘فکری خودمختاری کی بنیاد’ رکھ دی ہے۔
پابندیوں کے باوجود سیاسی و سفارتی خودمختاری:
امریکا اور اقوامِ متحدہ کی پابندیاں اس نیت سے لگائی گئی تھیں کہ امارتِ اسلامی کو معاشی دباؤ کے ذریعے مغرب کے لیے “قابلِ قبول اقدامات” پر مجبور بنایا جائے۔ لیکن طالبان حکومت نے ان پابندیوں کو ‘سیاسی انحصار کے بجائے خود انحصاری’ میں بدل دیا۔
یہ صورتِ حال مغرب کے لیے غیر متوقع تھی:
مغرب نے اپنی پابندیوں کے ذریعے ایک ایسے افغانستان کی توقع کی تھی، جو امداد کے بغیر زندہ نہ رہ سکے، مگر انہیں ایک ایسی حکومت ملی، جو کہتی ہے:
“ہم بھوک برداشت کر سکتے ہیں، غلامی نہیں۔”
یہ جملہ افغانستان کے سیاسی بیانیے کا مرکز بن چکا ہے۔
طالبان حکومت نے امدادی اداروں کی مداخلت کو محدود کیا اور ‘ریاستی وقار کو اقتصادی بقا سے جوڑ دیا۔’
نتیجتاً آج افغانستان سفارتی تنہائی کے باوجود ‘علاقائی اعتماد’ حاصل کر رہا ہے۔ چین، ایران اور روس جیسے ممالک نے اس کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے عملی اقدامات کیے ہیں۔
یقیناً صرف اتنا کافی نہیں ہے:
افغانستان کو ابھی بھی بین الاقوامی بینکنگ نظام تک رسائی نہیں، انسانی سرمائے کی کمی ہے اور سرمایہ کاری محدود ہے۔
لیکن یہ مسائل اس کے خود انحصار ماڈل کی بنیادی کامیابی کو کم نہیں کرتے۔ اگر امارتِ اسلامی کا ‘اسلامی مالیاتی اداروں’ کے ساتھ اشتراک بڑھا جائے، شفاف محصولات نظام مزید بہتر بن جائے اور علاقائی تجارتی بینک قائم ہو جائے تو افغانستان خطے میں ‘اسلامی معاشی تجربے کی پہلی کامیاب مثال’ بن سکتا ہے۔
لہذا یہ ماڈل مسلم دنیا کے لیے ایک ‘فکری اشارہ’ بھی ہے کہ خواہ دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں مخالف ہی کیوں نہ ہوں… تب بھی خود انحصاری ناممکن نہیں ہے۔
تحریر کا ویب لنک:
https://t.co/C9AMFBbRY2
He said that he does not have a son named "Osman" and none of his sons have a business office. Minister of Justice told that despite the absence of any Sharia or customary prohibition, no land is registered or exists in the name of a woman in his family.
Maulvi Abdul Hakim Sharia, the Minister of Justice of the Islamic Emirate of Afghanistan, has responded to the claims that were recently made in a response published by the spokesperson of the ministry.
#Afghanistan#Kabul
امارتِ اسلامی افغانستان کی تجارتی سفارت کاری میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے
وسطی ایشائی ریاستوں تک پہنچنے جیسی اہمیت کی حامل امارتِ اسلامی افغانستان اور وسطی ایشائی ریاست ازبکستان کے درمیان غذائی اجناس کے بڑے معاہدے طے پا گئے ہیں۔
امارتِ اسلامی افغانستان نے اپنی تجارتی پالیسی کو وسعت دینے اور غذائی ضروریات کے انحصار کو مختلف ممالک کی جانب متوازن طور پر پھیلانے کے لیے ایک اَور مؤثر قدم اٹھایا ہے۔
ازبکستان کے نائب وزیرِ زراعت 'جمشید عبدوزوکروف' کی قیادت میں کابل پہنچنے والے اعلیٰ سطحی وفد نے امارتِ اسلامی کے تاجروں اور نجی شعبے کے ساتھ غذائی اجناس سے متعلق 'متعدد اہم تجارتی معاہدوں' پر دستخط کیے ہیں۔
یہ معاہدے بالخصوص 'سبزیوں، گوشت اور دیگر غذائی مصنوعات' کی برآمدات و درآمدات کو وسعت دینے کے لیے کیے گئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کا دائرہ مزید مضبوط ہو گا۔
وزارتِ زراعت کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف امارتِ اسلامی افغانستان کی غذائی منڈی کو 'مزید متنوع' بنا دے گی، بلکہ ازبکستان کے ساتھ زرعی روابط کو بھی نئی سَمت دے گی۔
اس تعاون کے نتیجے میں امارتِ اسلامی افغانستان کے کسانوں اور تاجروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جب کہ ملک غذائی اشیاء کے معاملے میں 'ایک یا دو مخصوص ممالک' پر انحصار کم کر کے 'متعدد علاقائی مارکیٹوں' سے جڑنے کی پالیسی پر 'مؤثر انداز' میں آگے بڑھ رہا ہے۔
افغان و ازبک فریقین نے باہم اعتماد پیدا کیا ہے کہ آئندہ ماہ میں تجارتی تبادلے کا حجم مزید بڑھایا جائے گا۔
اصولوں کے مطابق 'بڑے پیمانے پر تجارتی تعاون' جاری رہے گا، تاکہ دونوں ممالک 'غذائی سلامتی'، تجارت اور زرعی ترقی میں مشترکہ فائدہ حاصل کر سکیں۔
معین جدید وزارت امور داخله رسماً معرفی و کارش را آغاز نمود.
به اساس فرمان امیرالمؤمنین حفظهالله، الحاج محمد وزیر بهعنوان معین امور تامیناتی این وزارت تعیین گردید و روز گذشته بهطور رسمی به کارمندان آن معینیت معرفی و رسماً آغاز به کار کرد.۱/۴
Kabul : 🔴 Tensions rise at the Line of Control following PM Modi’s latest speech, signaling a hardened stance on cross-border security. Regional stability hangs in the balance as both sides remain on high alert.
#IndiaPakistan#LoC#Geopolitics#PakIndiaWar#IndianAirForce