Investing in our youth and equipping them with modern IT skills can transform Pakistan’s economy. With the right opportunities, training, and support, the IT sector has the potential to increase exports to $20 billion and create millions of opportunities for young people.
— Hafiz Naeem ur Rehman
Ameer, Jamaat-e-Islami Pakistan
@NaeemRehmanEngr
#BanoQabil #YouthEmpowerment #ITExports #DigitalPakistan #JamaateIslami
Income tax on salaries up to PKR 125,000 per month should be abolished to provide relief to working families already burdened by inflation and rising living costs.
“Income tax on a monthly salary of PKR 125,000 should be eliminated.”
— Hafiz Naeem ur Rehman,
Ameer Jamaat-e-Islami Pakistan
@NaeemRehmanEngr
#Budget2026 #TaxRelief #PakistanEconomy #JamaateIslami
“Whether it is the usurpation of the Karachi mayoralty or the manipulation of elections in Gilgit-Baltistan, the Pakistan Peoples Party remains the establishment’s A+ team.”
— Hafiz Naeem ur Rehman, Ameer Jamaat-e-Islami Pakistan
@NaeemRehmanEngr#HafizNaeemurRehman #JamaatIslami #Karachi #GilgitBaltistan #PakistanPolitics
پاکستان کو بے نظیر انکم سپورٹ نہیں ایجوکیشن سپورٹ، اسکل سپورٹ اور اے آئی سپورٹ پروگرام کی ضرورت ہے۔ قوم کے بچوں کو معیاری تعلیم اور اسکلز کی ضرورت ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومتیں تعلیمی ادارے آؤٹ سورس کررہی ہیں دوسری طرف غریبوں کا نام لیکر سیکڑوں ارب روپے ایک ایسے پروگرام کے لیے رکھے جارہے ہیں جو غربت میں کمی کے بجائے اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں گذشتہ تین برس میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا اور ایک کروڑ 30 لاکھ نئے افراد غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کا فراڈ پروگرام ہےاور پی پی اور ن لیگ کی ملی بھگت ہے۔ پیپلزپارٹی کے طرز حکمرانی نے یہ بات ثابت کردی کہ اگر وہ کسی پراجیکٹ کے لیے پیسے مانگ رہے ہے تو سمجھ لیں کرپشن کرنےکے لیے مانگ رہے ہیں ۔اور وڈیرہ سسٹم کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
پیٹرول کی قیمتیں بڑھانا مجرمانہ اقدام ہے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، 15 مئی کو مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اسلام آباد میں ایک بڑا احتجاج کریں گے، پہیہ جام کا آپشن بھی موجود ہے۔
@NaeemRehmanEngr
ملک کا قرض 55 ہزار ارب سے بڑھ کر 85 ہزار ارب روپے ہوچکا ہے جبکہ سالانہ 8 ہزار ارب روپے صرف سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہے ہیں۔ شرح سود میں ایک فیصد اضافہ بھی 540 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیتا ہے۔ سودی نظام سے نجات کے بغیر حقیقی معاشی ترقی ممکن نہیں۔
ملک بھر اور بیرونِ ملک مقیم جماعت اسلامی کے کارکنان و احباب کے لیے خصوصی Online اجتماعِ اہل خانہ۔
کیا آپ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ Online اجتماعِ خانہ میں شریک ہو رہے ہیں؟
حکومت پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ پٹرول کی قیمت فوری طور پر 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے اور بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی لائی جائے۔
@NaeemRehmanEngr
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلوں جیسے اقدامات عدلیہ کی آزادی پر سوالیہ نشان ہیں۔حالیہ عدالتی اقدامات اور آئینی ترامیم نے نظامِ انصاف کو مزید کمزور کیا ہے۔جماعت اسلامی کو موقع ملا تو 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو ختم کیا جائے گا۔
@NaeemRehmanEngr
حکومت نے صرف جنگ کے 6 ہفتوں میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 180 ارب روپے عوام سے وصول کیے ہیں جس کا پٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، 10 ماہ میں یعنی جولائی سے اپریل تک 1234 ارب روپے کا ٹیکس پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے بلا استثناء وصول کیا گیا، یہ رقم گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 400 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں طلبا بھی شامل ہیں جو ابھی نوکری نہیں کرتے اور نہایت کم آمدنی والے بائیک رائیڈرز بھی شامل ہیں۔ یعنی امیر و غریب سب پر یکساں بوجھ ڈالا گیا ہے۔ یہ ٹیکس ظلم کی بدترین شکل ہے۔ حکومت فوری طور پر یہ لیوی ختم کرے اور پٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔
یہ ویڈیو پیپلز پارٹی کے ایک دوست نے کرانچی سے بھجوائی ہے، پیش خدمت ہے۔
پرانی حب کینال جو وفاق نے بنائی تھی Vs نئی
حب کینال جو پیپلز پارٹی نے بنائی ہے ۔
وفاق کا 1981 کا پروجیکٹ Vs سندھ حکومت کا 2025 کا پروجیکٹ ۔
کراچی والوں کے 13 ارب ڈوب گئے۔
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا
ایک وقت تھا جب اسی پاکستان کے بارے میں طنز کیا جاتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس کے ٹینکوں میں تیل نہیں، اس کے خزانے میں ڈالر نہیں، اور یہ اپنے دشمن کے سامنے زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ تجزیہ نگار، دانشور، اور بیرونی دنیا سب ایک ہی کہانی دہراتے تھے: پاکستان ایک کمزور ریاست ہے، جو صرف نام کی طاقت رکھتی ہے۔
لیکن آج منظر بدل چکا ہے۔
آج وہی پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ایسی حقیقت بن کر ابھرا ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ وہی ملک، جسے کبھی معاشی اور عسکری کمزوری کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج عالمی طاقتوں کو اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اب بات صرف وسائل کی نہیں رہی، بات صرف اسلحے کی نہیں رہی—بات ایک قوم کے وقار کی ہے، اس کے عزم کی ہے، اور اس کی شناخت کی ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی آئی کیسے؟
فرق صرف ایک ہے… نظریاتی کلیرٹی۔
یہ پاکستان، وہ پاکستان نہیں جو محض جغرافیہ تھا، جو دوسروں کی نقل میں اپنی پہچان کھو رہا تھا، جو سیکولر نعروں کے شور میں اپنی اصل سے دور ہو رہا تھا۔ یہ پاکستان ایک واضح سمت رکھتا ہے، ایک مقصد رکھتا ہے، ایک نظریہ رکھتا ہے۔ یہ پاکستان، نظریۂ پاکستان کے ساتھ ہم آہنگ پاکستان ہے۔
جب قومیں اپنے نظریے سے جڑ جاتی ہیں تو ان کے وسائل محدود نہیں رہتے، ان کی طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں رہتی بلکہ ان کے ارادوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اور جب ارادے مضبوط ہوں، تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی احترام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
ذرا تصور کیجیے…
اگر یہی پاکستان مکمل طور پر اپنے نظریے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے، اگر اس کی سیاست، معیشت، تعلیم، اور معاشرت سب اسی بنیاد پر استوار ہو جائیں تو پھر یہ ملک صرف ایک ریاست نہیں رہے گا، بلکہ دنیا کے افق پر ایک روشن ستارے کی طرح ابھرے گا۔
وہ ستارہ جس کی روشنی صرف اپنے لوگوں کو نہیں، بلکہ پوری دنیا کو راستہ دکھائے گا۔
طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ نظریے سے آتی ہے!