جسطرح ڈاکٹر اسرار جرنیلوں کی کرہشن کو بے نقاب کیا تھا اسکے بعد آج تک کوئی عالم دین نہیں کر سکا ۔ اسی لیے انھیں ٹی وی پر بین کر دیا گیا تھا مگر آج انکے بیانات بالکل درست ثابت ہوئے ۔
میں نے سوچا کہ اتنی آرگنائزیشن ہیں پاکستان میں، لیکن شوکت خانم کے لیے ہی ہمارے جزبات کیوں اتنے ابھرتے ہیں؟ تو پھر معلوم پڑا کہ اس کے جو فاؤنڈر ہیں عمران خان انہوں نے شوکت خانم اپنی ماں کی محبت میں بنایا اور پاکستان کی عوام کے لیے بنایا ہے، بس یہی وجہ ہے کہ ہم شوکت خانم کے لیے فنڈ ریزنگ کرتے ہیں، اداکارہ یمنی زیدی
خاتون صحافی کا تین چوہوں پر کالی ضرب 🔥
پوری دنیا غربت سے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھا رہےہیں جبکہ پاکستان میں ناکام ریجیم, ایک سیاسی پارٹی کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے!
تینوں ٹاؤٹو کی بولتی بند!!
Trump said: “There is very little happening right now in Gaza.”
REALLY?
Gaza’s Health Ministry reports that 4 Palestinians have been killed in the past 24 hours by Israeli forces.
🚨🇵🇸🇮🇱 West Bank settler attacks HIT RECORD levels as new settlements keep expanding under Netanyahu.
Since the current coalition took power, violence against Palestinians has risen year after year as hundreds of outposts have emerged.
Families have now moved back into Ganim, which Israel evacuated 21 years ago.
Around half a million Israeli settlers live in the West Bank, while hardline ministers wield growing influence on the ground.
The numbers keep rising while the politics stay locked in. Disgusting!
Source: DWNews YT / Writer: Lucas
یہ نور عالم عدم اعتماد سے پہلے سندھ ہاؤس میں دانت نکال رہا تھا، اگر یہ جرنیلوں کے کہنے پر عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتا تھا تو آج مولانا کی پیٹھ میں بھی چھرا ہی گھونپے گا، یہ بدبخت ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ سے ہارا تھا لیکن فارم 47 پر اسے نوازا گیا۔
“I wish I slept between you so that I would have been martyred with you,” the little girl says after going to bed at might and getting up to find her parents killed by Israeli occupation military yesterday in Gaza..
”عمران خان جیل میں اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ حکومتی وزراء جشن منا رہے ہیں کہ ہم نے تحریک انصاف کو ختم کر دیا۔ جبکہ ملک کی صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ 4 سال کے دوران پاکستان سے جمہوریت کا جنازہ نکل گیا، آزادی اظہار رائے ختم، ہزاروں سیاسی کارکنان جیلوں میں اور آئی ایم ایف بڑھتی غربت کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ یہ خیبرپختونخوا میں عمران خان کے نام کے پوسٹرز اور بورڈ اتار کر سمجھتے ہیں کہ ایسے عمران خان کی مقبولیت کو ختم کر لیں گے؟“
پارس جہانزیب
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
مراد سعید کے گھر پر ریڈ ۔ بھائی کو والدہ کو ہراس کرنا۔ گھٹیا ترین حرکت۔ یہ حرامی پن نہیں تو اور کیا ہے۔
فسطائیت کی رات جتنی بھی لمبی ہو انشاللہ سچ کا سورج طلوع ہو گا۔ اور پھر احتساب ہو گا۔ انصاف ہو گا۔
مولانا نسیم علی شاہ کا توہین آمیز طریقے سے اغواء کاری افسوسناک ہے، وہ لاکھوں لوگوں کا منتخب عوامی نمائندہ اور مہذب اور نڈر شخصیت ہے، افسوس یہ ہے کہ قابض شدہ رجیم کسی اصول یا روایت کا پاس نہیں رکھ رہی۔
@naseem_mna
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔ جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے۔”
- عمران خان
#FascismUnderAsimLaw
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
یہ نور عالم عدم اعتماد سے پہلے سندھ ہاؤس میں دانت نکال رہا تھا، اگر یہ جرنیلوں کے کہنے پر عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتا تھا تو آج مولانا کی پیٹھ میں بھی چھرا ہی گھونپے گا، یہ بدبخت ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ سے ہارا تھا لیکن فارم 47 پر اسے نوازا گیا
My mother, Noreen Niazi, my khalas Aleema Khan & Dr Uzma Khan have completed 30 days of unlawful detention under MPO — and still not released.
Detention was unlawful from day one. Any extension is equally unlawful.
یہ ستر کی دہائی کا واقعہ ہے سعودی شاہی خاندان کی 19 سالہ نوجوان شہزادی مشاعل بنت فہد کو پڑھنے کے لیے بیروت (لبنان) بھیجا جاتا ہے۔
وہاں لبنان میں تعینات سعودی سفیر کے بھتیجے "خالد الشعر محلل" سے شہزادی کی محبت پروان چڑھتی ہے۔ سعودی عرب واپسی پر بھی ان کا میل جول جاری رہتا ہے اور وہ تنہائی میں وقت گزارتے ہیں۔ بالآخر شاہی خاندان کو اس تعلق کی خبر ہو جاتی ہے۔ دونوں جدہ ایئرپورٹ سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں خالد شہزادی کو مردانہ لباس پہنا کر لے جانے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہ دھر لیے جاتے ہیں اور عدالت میں ناجائز تعلق کا اعتراف کر بیٹھتے ہیں۔
15 جولائی 1977ء کو شہزادی مشاعل اور ان کے محبوب خالد کو جدہ کے ایک پارک کے قریب سرعام سزائے موت دے دی جاتی ہے۔
یہ دسمبر 2012ء کا ایک سرد دن ہے۔ ریاض کے صحرائی علاقے "الثمامہ" میں قائم ایک کیمپ کے اندر چند نوجوانوں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور جھگڑا ہوتا ہے۔ اس ہنگامے میں سعودی شہزادے ترکی بن سعود غصے میں آ کر فائرنگ کرتا ہے جس کے نتیجے میں انہی کا ایک دوست عادل المحیمید موقع پر ہی قتل ہوتا ہے
عادل کا تعلق ایک عام، متوسط طبقے سے تھا۔ واقعے کے بعد شاہی خاندان نے مقتول کے لواحقین کو راضی کرنے کے لیے منہ مانگی دیت (خون بہا) کی پیشکش کی، یہاں تک کہ خود بادشاہ کی جانب سے بھی معافی کی درخواست کی گئی، مگر عادل کی فیملی اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی اور قصاص کے سوا کوئی شرط قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
بالآخر تمام قانونی مراحل سے گزرنے کے بعد، 18 اکتوبر 2016ء کو قانون کی بالادستی قائم کرتے ہوئے شہزادہ ترکی بن سعود کو سرعام سزائے موت دے دی گئی۔
سوچیے! جو ملک اپنے شاہی گھرانے کے شہزادوں اور شہزادیوں کو سزائے موت دینے سے گریز نہ کرے، کیا وہ عام بنگالیوں کو حرمتیں پامال کرنے پر خلی ولی بولے گا ؟
جو عدالتیں 2019ء میں ایک ساتھ اپنے 37 شہریوں کے سر قلم کر دے، کیا وہ بنگالی مجرموں کو یلا مدیر ما فی مشکله بولے گی؟
جو عدالتیں 2022ء میں 81 سعودی شہریوں کے سر تن سے جدا کر دے کیا وہ بنگالی مجرموں کو زمزم کھجور دے کر رخصت کریگی ؟
وہ بنگالی مرد اور عورت میاں بیوی تھے یا نہیں اس کا نکاح شاید ہمارے دیسی 'لبرلز' یا ایرانی راتب خور طبقے نے پڑھایا ہو گا، کیونکہ کسی معتبر ذریعے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آپس میں میاں بیوی تھے۔
مبینہ بنگالی جوڑے کے پاکستانی لواحقین نے انہیں ہنی مون کے لیے مکہ بھیجا اور وہ مسجد کے اندر رنگ رلیاں منا رہے تھے! یہی لبرل طبقہ انہیں ہنی مون پر بھیجنے کے دعوے کے ساتھ ساتھ اس مبینہ جوڑے کی ایک پانچ سالہ بچی کو روتے ہوئے بھی دکھا رہا ہے! مطلب وہ نیا شدہ شدہ جوڑا ہنی مون پر آیا اور پیچھے سے پری نے لا کر ایک عدد بچی دادی کی گود میں ڈال؟
ہمارے ہاں تو یہ حال ہے کہ مزاروں، درباروں اور مسجدوں تک میں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ گھناؤنے جرائم ہوتے ہیں تو الزام شیطان کے سر ڈال کر مجرم صاف بچ نکلتا ہے۔
بھئی! وہاں ایک سخت قانونی نظام موجود ہے جہاں مقدمات کو قانونی مراحل اور عدالتوں کی چھلنی سے گزار کر فیصلے پر عمل درآمد ہوتا ہے۔
اس واقعے میں مجرموں نے بیک وقت کئی حرمتوں کو پامال کیا تھا مکہ کی حرمت، حدودِ حرم کی حرمت اور مسجد کی حرمت! چنانچہ اسلامی قانون (تعزیر) کے تحت گردن اڑائی جانا بالکل درست تھا،تاکہ یہ واقعہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن سکے۔
دنیا بھر میں سزائے موت کے نفاذ کے معاملے میں چین پہلے اور ایران دوسرے نمبر پر ہے۔ صرف 2025 میں ایران نے 2100 افراد کو پھانسی کے گھاٹ اتارا ہے لیکن ہمارے دیسی لبرل اس حقیقت پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔ اصل میں ان کا مسئلہ انسان دوست رویہ نہیں بلکہ اسلام اور اسلامی شعائر سے عناد ہے۔ شاید وہ اس خوف کا شکار ہیں کہ اگر قانون اور انصاف کے نفاذ کی بات چلی، تو کل کو اس کی زد ان کی اپنی گردنوں تک بھی آ سکتی ہے
(کاپی)
عمران خان صاحب نے شوکت خانم کو پہلے دن سے ایک ایسا خودمختار ادارہ بنا دیا ہے جو نظام کے تحت کام کررہا ہے۔ اور ان کا عوام کے لئے ایک اور بے لوث تحفہ کراچی میں کھلنے والا ہے۔
ان اداروں سے علاج کرانے والے مریض اور اہل خانہ عمران خان کے لئے ہمیشہ دعا کرتے ہوں گے۔ جس کے لئے اتنے لوگ دعا کریں اسے بدنظروں سے اللہ محفوظ رکھے گا انشاءاللہ آمین
#FreeImranKhan