آزاد کشمیر اسمبلی کے نومنتخب رکن کو برطانیہ میں child rape اور لڑکیوں کی اسمگلنگ کیس میں جولائی 2024 میں گرفتار کیا گیا، ضمانت پر رہائی ملی، گزشتہ ماہ پیش ہونا تھا، بیماری کا بہانہ بنا کر پیش نہیں ہوئے، ن لیگ کے ٹکٹ پر رکن منتخب ہوئے۔ دی گارڈین
https://t.co/JghLOUPB3s
🇵🇰 FIA officials have now been given the authority to check passengers' mobile phones at airports, including access to their call logs, text messages, and social media activity.
This move means travelers could face phone checks during departure or arrival, raising fresh concerns around privacy and how these powers will actually be used. THIS IS THE VALUE OF "BLOODY CIVILIANS" IN PAKISTAN.
"After this humiliation, Pakistani officials will inevitably face strip searches at airports globally. A government that brings disgrace upon its own country cannot expect respect from the rest of the world".
آئی ایم ایف کو ان تنخواہوں اور اخراجات کے بے تحاشا اضافے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
یہ ملک کوڑے دان بنادیا گیا ہے، جنگل کا قانون بھی یہاں کے سوکالڈ آئین سے زیادہ مقدس ہوتا ہے
ٹی وی پر ایک ڈرامہ چل رہا تھا۔
ہیرو دکھ میں سگریٹ پی رہا تھا تو اسکرین کے نیچے فوراً پٹی نمودار ہوئی:
"سگریٹ نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔"
کچھ دیر بعد ولن شراب پیتا دکھائی دیا تو پٹی چلنے لگی:
"شراب نوشی حرام ہے۔"
ڈرامہ آگے بڑھا۔
ایک شادی شدہ عورت اپنے شوہر سے چھپ کر ناجائز تعلق استوار کیے ہوئے تھی مگر کوئی پٹی نہ چلی کہ:
"شریکِ حیات کو دھوکہ دینا گناہ ہے۔"
ایک مرد کسی دوسرے کی بیوی سے تنہائی میں ملاقات کر رہا تھا مگر اسکرین خاموش رہی کسی نے یہ یاد نہ دلایا کہ:
"دوسروں کی عزت اور حرمت پامال کرنا گناہ ہے۔"
ایک بھائی نے بہن کو جائیداد کے حصے سے محروم کر دیا پٹی نہ چلی کہ: "دوسروں کا حق تم پہ حرام ہےـ"
کردار مسلسل جھوٹ بولتے رہے، مگر کہیں یہ تنبیہ نہ آئی کہ:
"جھوٹ گناہِ کبیرہ ہے۔"
شادی کی تقریب میں مرد و عورت بے تکلفی سے لپٹ کر رقص کرتے رہے، مگر اس پر بھی کوئی اخلاقی یا دینی تنبیہ دکھائی نہ دی۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے معاشرے کو صرف سگریٹ اور شراب سے ہی خطرہ ہے؟ یا پھر جھوٹ، بے وفائی، بددیانتی، بے حیائی اور اخلاقی زوال بھی اتنے ہی سنگین مسائل ہیں؟
اگر برائی سے آگاہ کرنا مقصود ہے تو آگاہی ہر برائی پر یکساں ہونی چاہیے، نہ کہ صرف اُن برائیوں پر جن پر پٹی چلانا آسان ہو۔🌸
نواز شریف نے چائنہ ترکی ملائشیا تھائی لینڈ سری لنکا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگری منٹ کیے جنہوں نے پاکستان کی معیشت کی ایسی کی تیسی پھیر دی یہ پاکستان کے لئے نہایت نقصان دہ ہیں ان پانچوں کو بند کریں پاکستان ٹھیک ہو جائے گا ! شبر زیدی ۔۔
DGISPR نے اسلام آباد کے علاقے کے 25 وائس چانسلرز کو بلایا اپنے دفتر میں اور کہا کہ تم لوگوں کو ان بچوں کو محب وطن بنانا ہو گا اور ساتھ محب وطن بنانے کے نسخے بھی بتائے سارے خاموشی سے سنتے رہے صرف ایک وائس چانسلر بولا تو اس کو ایسی چپیڑ پڑی کہ وہ بھی خاموش ہو گیا ! ہود بھائی ۔۔
تین سال...
36 ماہ،
1,096 دن،
26,304 گھنٹے،
15 لاکھ 78 ہزار 240 منٹ،
اور 9 کروڑ 46 لاکھ 94 ہزار 400 سیکنڈ...
اتنا طویل عرصہ عمران خان جیل میں گزار چکے ہیں۔
ان میں سے گزشتہ 9 ماہ سے وہ سخت ترین کی قید میں ہیں، جہاں نہ اہل خانہ سے ملاقات، نہ بیٹوں سے کوئی رابطہ، نہ عوام سے گفتگو۔
میرے پاکستانیو،
وقت صرف کیلنڈر پر نہیں گزرتا،
انسان پر بھی گزرتا ہے!
A mother monkey walked straight up to strangers and basically begged them to help her baby.
No aggression. No panic display for the camera. Just pure, desperate maternal instinct. She knew her baby was in trouble and she chose to trust humans she had never met.
That moment hits different when you’ve watched enough wildlife videos. Most animals in crisis either freeze, fight, or flee. This one calculated the risk, approached the only beings who could help, and handed her child over.
There’s a quiet lesson in that. Motherhood — human or animal — doesn’t always look like strength. Sometimes it looks like humility. Sometimes the bravest thing a mother can do is admit she can’t fix it alone and ask for help.
The strangers didn’t film first and help second. They just helped. And the mother stayed close the whole time, watching, waiting, trusting.
In a world that often feels loud and cynical, these little moments still exist. A wild mother. A group of strangers. One fragile baby. And the simple decision to care.
That kind of quiet courage is worth noticing.
پہلی بار محلے کی دکان سے روٹی خریدنے جانے والے بچے کی خوشی دیدنی تھی۔ جب وہ کامیابی سے روٹی لے کر واپس آیا تو اس کی خوشی کے خوبصورت لمحات اس کی والدہ کے کیمرے میں محفوظ ہو گئے۔ ❤️
آئی ایم ایف ہمکو سستی بجلی فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا: وزیر توانائی
جبکہ IMF ججوں ، وزیروں ،مشیروں، بیوروکریٹس کو سالانہ 34 کروڑ یونٹ فری بجلی دینے کی اجازت ضرور دیتا ہے نا.
لکھ دی لعنت ایسے IMF پہ اور ایسے قانون بنانے والوں پہ کہ لاکھوں کمانے والا فری بجلی بھی لے گا.